سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 6

اہلِ تاریخ و التراجم ذکر کرتے ہیں کہ 12 ہجری میں جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حج سے واپس تشریف لائے تو 13 ہجری کی ابتداء میں ملک شام کی طرف اسلامی افواج بھیجنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس موقعہ پر حضرت صدیق اکبرؓ نے اسلامی لشکر کے چار حصے تجویز فرمائے اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ، عمرو بن العاصؓ، شرجیل بن حسنہؓ اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ایک ایک حصہ پر امیر جیش مقرر فرما کر روانہ فرمایا۔

البدایہ لابن کثیر میں ہے کہ

ثـم عـقـد لـواء يـزيـد بـن ابـي سـفـيـان و مـعـه جـهـمـور الناس ومعـه سـهـيـل بـن عـمـرو و اشـبـاهـه مـن أهـل مکه و خرج معـه مـاشـيـا يـوصـیه بـمـا اعتمده في حربه ومن معه من المسلمين وجعل له دمشق.

اور الذہبیؒ نے یہاں اس چیز کو بعبارت ذیل ذکر کیا ہے:

عقد له ابوبکرؓ و مشی معه تحت ركابه یسايره و يـودعـه ويـوصـيـه ـ وما ذاك الا لـشـرفـه و کمال دينه و لما فتحت دمشق امره عمر عليها۔

ابنِ کثیرؒ تحریر کرتے ہیں کہ: 

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ایک علم (جھنڈا) عنایت فرمایا۔ سہیل بن عمروؓ اور اہلِ مکہ میں سے ان جیسے حضرات کو ان کے ہمراہ روانہ فرمایا اور خود کچھ دیر تک ان کے ساتھ چل کر وصایا فرماتے ہوئے اس جیش کو رخصت فرمایا اور ان کے لیے دمشق کی ولایت تجویز فرمائی اور علامہ الذہبیؒ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ یزیدؓ کی سواری کے ساتھ بطور مشایعت کے چلے اور ان کو رخصت کیا اور وصایا فرمائیں۔ اور یہ بات یزید رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور کمال دین کے لحاظ سے آنموصوف نے اختیار فرمائی۔

دیگر صدیقیؓ وصایا:

اس موقعہ پر اکابر محدثین اور فقہاء اور اہلِ تراجم نے حضرت صدیق اکبرؓ کی ہدایات و وصایا جو آپ نے اسلامی جیش کے امیر یزید رضی اللہ عنہ کو دمشق کی طرف روانہ کرتے ہوئے فرمائیں، بڑے عمدہ طریقہ سے مفصل ذکر کی ہیں۔ چنانچہ امام مالکؒ نے موطاء میں اس چیز کو بعبارت ذیل درج کیا ہے

وانی موصيك بعشر لا تـقـتـلـن امـراه ولاصـبـيـا ولا كـبـيـرا هـرمـا ولا تـقـطـعـن شـجـرا مثمره ولا تـخـربن عامرا ولا تـعـقـرن شاة ولابـعـيـرا مـمـا يـوكـل الا لاكله و لاتـحـر قـن نـخـلا ولاتـفـرقـنـه ولاتغلل ولا تجبن۔

ان ھدایات صدیقیؓ کا مفہوم حسب ذیل ہے: 

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی طرف افواج اسلامی روانہ فرمائیں، وہ چار حصوں پر منقسم تھیں۔ ان میں سے ایک حصہ پر یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ امیر جیش تھے۔ حضرت صدیق اکبرؓ دور تک پا پیادہ یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو رخصت کرنے کے لیے چلے گئے۔ یزید رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپؓ سواری پر تشریف لائیں یا مجھے سواری سے اتر جانے کی اجازت بخشیں تو حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ آپ سواری سے نہ اتریں اور میں سوار بھی نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ میں فی سبیل اللہ اپنے قدموں پر چل کر ثواب حاصل کر رہا ہوں۔

پھر صدیق اکبرؓ نے یزید رضی اللہ عنہ کو قتال کے متعلق ہدایات و وصایا ارشاد فرمائیں، جن میں درج ذیل امور پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی

  1. کسی خاتون کو قتل نہ کرنا۔
  2. کسی بچے کو قتل نہ کرنا۔
  3. کسی عمر رسیدہ شخص کو قتل نہ کرنا۔
  4. کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا اور قطع نہ کرنا۔
  5. کسی آبادی کو برباد نہ کرنا۔
  6. کسی بکری یا اونٹ کو نہ کاٹ ڈالنا مگر کھانے کے لیے ذبح کر نا مباح ہے.
  7. کسی کھجور کے درخت کو نہ جلا دینا۔
  8. توڑ پھوڑ نہ کرنا۔
  9. مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا۔
  10. دشمن کے مقابلہ میں بزدلی نہ دکھانا۔

چنانچہ حضرت یزید رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ان زریں نصائح و وصایا کو حاصل کر کے ارض شام کی طرف روانہ ہوئے اور ان پر پورا عمل درآمد کیا اور اس مہم میں کامران و کامیاب ہوئے۔

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کا ایک مکتوب۔مؤرخین نے لکھا ہے کہ رومیوں کے بادشاہ ہرقل کو جب اسلامی افواج کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ روم میں داخل ہو رہی ہیں تو اس نے اپنی اقامت گاہ چھوڑ کر انطاکیہ شہر کا رخ کیا۔ امیر افواج یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے پیش آمدہ حالات سے مطلع کرنے کے طور پر مرکز میں امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرف ایک مراسلہ تحریر کیا جو کتاب فتوح الشام میں منقول ہے۔

مکتوب کا مفہوم اس طرح ہے یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے بسم اللہ کے بعد اس طرح ذکر کیا کہ شاہ روم کو جب ہماری اس کی طرف پیش قدمی معلوم ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں اہلِ اسلام کا رعب ایسا ڈالا کہ وہ اپنے مقام سے چل کر انطاکیہ کے مقام پر نازل ہوا اور مدائن شام پر اپنے لشکر کے امراء کو مقرر کر کے ہمارے ساتھ قتال کا انہیں حکم ديا ... الخ)

ان حالات میں اے امیر المؤمنین! اپنے حکم اور اپنی رائے سے ہمیں جلد مطلع فرمائیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ ہم اس پر عمل در آمد کریں گے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی نصرت اور فتح طلب کرتے ہیں اور مسلمانوں کی عافیت کے طلب گار ہیں۔ آپ پر سلام اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔

مکتوب ہذا کی اصل عبارت:

كـتـاب يـزيـد بـن ابـی سـفـيـان الی ابی بکرفان ملک الروم ہرقل لما بلغه مســرنـا الـيـه القـى الـلـه الـرعـب فـي قـلـبـه فـتـحـمـل (ای ....) فنزل انطاكيه وخلف امراء من جنده على مدائن الـشـام و امـرهـم بـقـتـالـنـا ... فـمـرنـا بـامـرك وعـجـل عـلـيـنـافـى ذالك بـرایـک نـتـبـعـه ان شاء الله و نسال الله النصر والصبر والفتح وعافيۃالمسلمين والسلام عليك ورحمه الله

(فـتـوح الشام: صفحہ، 25)

امیرالمؤمنین حضرت صدیق اکبرؓ کی طرف سے مکتوب کا جواب:

بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے مرکز کی طرف سے لکھا کہ:

صفحہ 2 از 6