آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے…

آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جِس میں ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنھم) میں سے کِسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ میں سنی ہوں ہو یا میرا مذہب اہلِ سنت والجماعت ہے۔ حوالہ مکمل دیجیے۔۔۔ اور پیش کردہ روایت کی توثیق بھی تحریر فرمائیے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 6

شیعہ مولوی عبدالکریم مشتاق جیسے شیعہ مصنّفین تو اہلِ سنّت کے نام پر اپنے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہیں لیکن جن حضرات کا نام لے کر اپنی عزت بناتے ہیں ان کو تو خود رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ سنّت کی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف دورِ حُسینی میں بلکہ دورِ رسالت میں بھی اہلِ سنّت ہونے کی اصطلاح رائج تھی۔ 

 ♦️ اہل السنّت و الجماعت جنّتی ہیں ♦️

♦️ (1) حافظ ابن کثیر محدث رحمہ اللّٰہ سورۃ آل عمران رکوع 11 کی آیت

 {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہ۔}

 (یعنی قیامت کے دن کہ بعض کے چہرے سفید (روشن) ہوں گے اور بعض کے چہرے سیاہ ہوں گے، کی تفسیر میں فرماتے ہیں یعنی...

"یوم القیامة حین تبیض وجوہ اھل السنة والجماعة و تسود وجوہ اھل البدعة والفرقة قاله ابن عباس رضی اللّٰهُ تعالٰی عنه۔" (تفسیر ابن کثیر)

یعنی حضرت عبداللّٰہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ:-

"قیامت کے دن جن لوگوں کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے وہ اہل السنّت والجماعت ہوں گے اور جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے وہ اہل فرقہ اور اہل بدعت ہوں گے۔"

ہہاں بھی حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہٗ نے انہی چار قسموں کا انجام ذکر فرمایا ہے جن کے متعلق حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے اپنے خطبہ میں ایک سائل کے جواب میں تشریح فرما دی تھی اور حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہٗ کا یہی ارشاد حضرت قاضی ثناء اللّٰہ صاحب محدث رحمۃ اللّٰہ علیہ پانی پتی نے اپنی تفسیر مظہری میں اور علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنی تفسیر در منثور میں نقل کیا ہے۔

♦️ (2) تفسیر در منثور میں یہ بھی مذکور ہے:-  

"عن ابن عمر عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی قولهٖ تعالٰی۔  "یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ قال تَبْیَضُّ وُجوہُ اھل السُنّة و تسودّ وجوه اھل بدعة۔"

حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰه تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت یَوْمَ تَبْیض وجوہٌ وَتَسْوَدُّ وجوہٌ کے متعلق ارشاد فرمایا تھا کہ قیامت میں اہلِ سنّت کے چہرے سفید (نورانی) ہوں گے اور اہل بدعت کے چہرے کالے سیاہ ہوں گے۔

حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ، امام حسن مُجتبی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اور حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ بلکہ حضرت محمد مُصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد سے جب اہل السنّت والجماعت کا جنّتی ہونا ثابت ہو گیا۔ اور حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے اہلِ سنّت کی تائید اور اہلِ بدعت کی تردید فرما دی اور اپنے دور کی مروجہ اصطلاحات میں سے شیعہ کا مذہبی حیثیت سے اپنے بصرہ کے طویل خطبہ میں کسی قسم کا ذکر ہی نہیں فرمایا تو اب کون اہل دین و عقل یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ اصل مذہب شیعہ ہے اور رسولِ خُدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم شیعہ مذہب کے بانی ہیں اور حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اس کے مبلّغ اور محافظ تھے اور گیارہ اماموں نے شیعیت کی ہی تعلیم دی ہے اور امام مہدی آخری امام شیعہ مذہب ہی کے دفاتر سمیٹ کر کسی غار میں چھپے ہوئے ہیں جب قرب قیامت میں لوگوں کے سامنے جلوہ فرما ہوں گے تو اصلی قرآن اور اصلی شیعت سے امت مسلمہ کو روشناس کروائیں گے۔ ظہور امام غائب سے پہلے پہلے جو چاہے کرو اور جو چاہے کہو۔ امام کی غائبانہ سرپرستی میں سب کُچھ مقبول ہے۔

گر ہمیں مذہب و ہمیں غائب...

کار مومن تمام خواہد شد…


صفحہ 6 از 6