آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے…

آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جِس میں ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنھم) میں سے کِسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ میں سنی ہوں ہو یا میرا مذہب اہلِ سنت والجماعت ہے۔ حوالہ مکمل دیجیے۔۔۔ اور پیش کردہ روایت کی توثیق بھی تحریر فرمائیے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 6

(جو شخص سنت اور جماعت پر مرے گا اس پر عذابِ قبر نہیں ہو گا اور نہ ہی اس پر قیامت کی سختی ہو گی۔)

♦️2۔) اسی کتاب میں ہے کہ رسولِ خُدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:-

"اَلَا وَمَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آل محمدٍ مَاتَ عَلَی السنّة والجماعة۔" ص 166

خبردار ، جو شخص حُبِّ آل محمد پر مرے گا وہ سُنّت اور جماعت پر مرے گا۔"

فرمائیے ! شیعہ مذہب کی مستند کتاب کی حدیث میں تو یہ لکھا ہے کہ حب آل محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر جس شخص کی موت آتی ہے وہ گویا سنّت اور جماعت پر ہی مرتا ہے، لیکن اس کے خلاف مولوی عبدالکریم مشتاق وغیرہ شیعہ علماء ایک مستقل مہم چلا رہے ہیں کہ اہل السنت والجماعت ہونا ہی صحیح نہیں اور اہل السنّت والجماعت العیاذ باللّٰہ آلِ محمد سے دُشمنی رکھتے ہیں۔

♦️حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ عنہ اور اہلِ سنّت♦️

شیعہ مذہب کی مستند کتاب احتجاج طبرسی میں ہے کہ حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ ایک دن جب بصرہ میں خطبہ دے رہے تھے تو ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ:-

 یا امیرالمومنین علیہ السلام اخبرنی من اھل الجماعة ومن اھل الفرقة ومن اھل البدعة ومن اھل السنة فقال۔ ویحک امّا اِذا ساءلْتَنِیْ فَافھم عنّی ولا علیك ان تسئل عنھا احدًا بَعْدِی۔ اما اھل الجماعة فانا ومن اتَّبعنی وَ اِنْ قَلّوا و ذلك الحق عَن امر اللّٰه تعالٰی وعن امر رسوله ۔ واھل الفرقة المخالِفُوْن لِیْ وَلِمن اتّبعنی وَاِنْ کثروا واَما اھل السنّة فالمتمسّکون بما سَنَّهُ اللّٰهُ لَھم وَ لِرَسوله وان قلّوا۔ واما اھل البدعة فالمخالِفُون لِامر اللّٰه وَلکتابہ ولرسولہ العاملون بِرأیھم وَ اَھواءھم و ان کثروا۔

(الاحتجاج للطبرسی جلد اول ص 246 مطبوعہ نجف اشرف)

"اے امیر المومنین ! آپ مجھے بتائیں کہ اہل جماعت، اہل فرقہ، اہل بدعت، اور اہل سنّت کون ہیں؟؟ تو آپ نے فرمایا: 

"تعجب ہے تجھ پر، اور جب تُو نے مجھ سے یہ بات پوچھی ہے  تو مجھ سے سمجھ لے اور اس کے بعد تجھ پر لازم نہیں ہے کہ میرے بعد یہ بات تُو کسی اور سے دریافت کرے۔ لیکن اہلِ جماعت تو میں ہوں اور میرے پیروکار اگرچہ وہ کم ہوں۔ اور یہ اللّٰه اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے امر کے تحت حق ہے۔"

"اور اہل فرقہ وہ لوگ ہیں جو میری مخالفت کرنے والے ہیں اور میری اتباع کرنے والوں کے بھی مخالف ہیں، اگرچہ وہ زیادہ ہوں۔"

اور لیکن 

"اہل سنّت وہ لوگ ہیں جو اللّٰه تعالٰی کے طریقے (حکم) اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنّت (طریقے) کو مضبوطی سے پکڑنے والے ہیں جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہ تھوڑے ہوں۔"

اور لیکن،

"اہل بدعت وہ ہیں جو اللّٰه تعالٰی اور اس کی کتاب (قُرآن) اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرنے والے ہیں اور صِرف اپنی رائے اور خواہشات پر عمل کرنے والے ہیں۔ اگرچہ وہ زیادہ ہوں۔"

حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے اس ارشاد سے اہلِ سنّت اور اہلِ جماعت کی مدح اور تعریف ثابت ہوتی ہے

اور اہلِ بدعت اور اہلِ فرقہ کی مذمت واضح ہوتی ہے۔

(ب) اور اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اہلِ سنّت اور اہلِ جماعت ہونا مذہبی اصطلاحیں ہیں جو مطلوب ہیں۔ 

(ج) سائل کے سوال اور حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے جواب سے بالکل اس امر کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ اہل سنّت وغیرہ کے نام اُس زمانہ میں معروف و مشہور تھے۔ اور اہلِ حق کے لیے اہلِ سنّت اور اہلِ جماعت کی مذہبی اصطلاحیں استعمال کی جاتی تھیں، اور اس کے برعکس دورِ مرتضوی میں لفظ شیعہ بطور مذہب کے استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔

ورنہ سائل شیعہ کے متعلق بھی سوال کرتا۔ اور اگر اس نے کسی وجہ سے اس کو نظر انداز کر دیا تھا تو پھر حضرت علی المُرتضی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اپنی طرف سے مسلمانوں کے اس مجمع میں اعلان فرما دیتے کہ حق فرقہ شیعہ کا ہے۔

اور میں بھی مذہبًا شیعہ ہوں، اور میرے متبعین بھی۔ لیکن حضرت خلیفہ برحق نے شیعہ مذہب کی طرف کوئی ادنٰی سے ادنٰی اشارہ بھی نہیں فرمایا۔ اور اس کے برعکس اہلِ سنّت اور اہلِ جماعت کی پوری وضاحت سے حقانیت بیان فرما دی۔ لیکن آج کے شیعہ تو اہلِ سنّت و جماعت کے نام سے ہی عناد رکھتے ہیں۔

یہ اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ دورِ حاضر کے شیعہ حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے متبع نہیں بلکہ مخالف ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے محبّین و متبعین، اہلِ السنّت والجماعت ہیں جو سُنّتِ رسول صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم اور جماعتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم دینی اور ایمانی نسبتوں کے مبلّغ اور محافظ ہیں۔ اور اہلِ السنّت اور اہل الجماعت ہونے کو ہی حسبِ ارشاد مرتضوی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اپنے لیے جنت اور رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ تسلیم کرتے ہیں۔

♦️ امام حُسین رضی اللّٰهُ عنہ اور اہلِ سُنّت ♦️

جب حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے نزدیک اہلِ سنّت ہونا اہلِ حق ہونے کی نشانی ہے تو پھر آپ کے جگر پارے حضرت حسن رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اور حضرت حُسین رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کیوں نہ اہلِ سنّت ہوں گے۔ چناچہ میدانِ کربلا میں نواسۂ رسول مقبول صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشہ بتول، حضرت امام حُسین رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے اپنے طویل خطبے میں مخالفین پر اتمامِ حجّت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا تھا کہ:- 

"ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لِیْ ولاَخی اَنتما سَیِّدَ اشبابِ اھل الجنّة وَقُرَّۃُ عَین اھل السنةً۔" 

(تاریخ کامل ابن اثیر جلد چہارم ص 62، مطبع بیروت) 

ترجمہ:- 

"رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اور میرے بھائی (حضرت حسن رضی اللّٰه تعالٰی عنہ) کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ تُم دونوں جوانانِ اہلِ جنّت کے سردار ہو اور تُم دونوں اہلِ سنّت کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔"

 فرمائیے۔

صفحہ 5 از 6