آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے…

آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جِس میں ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنھم) میں سے کِسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ میں سنی ہوں ہو یا میرا مذہب اہلِ سنت والجماعت ہے۔ حوالہ مکمل دیجیے۔۔۔ اور پیش کردہ روایت کی توثیق بھی تحریر فرمائیے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 6

{فَرَدُّہٗ إِلَی اللّٰهِ أَن نحکُمَ بِکِتَابِهٖ وَرَدُّہٗ إِلَی الرَّسُوْلِ أَن نَأخُذَ بِسُنَّتِهٖ۔}

(نہج البلاغہ مطبوعہ تہران ص 175)

ترجمہ:-

"پس اس نزاع کو اللّٰه کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ا کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کریں اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اس کو پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کی سنّت پر عمل کریں۔"

تو جب حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے قرآن کی مندرجہ آیت سے سنّتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے کا حکم ثابت کیا ہے تو جس مسلمان کا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنّت کی پیروی کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ رضائے خُداوندی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور اطاعتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے ہی اطاعتِ خُداوندی نصیب ہوتی ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا ہے:-

{مَنْ يُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ}

(سورۃ النساء، آیت 80)

یعنی "جس نے رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللّٰه تعالٰی ہی کی اطاعت کی" اور اس نسبت سے اگر وہ اپنے آپ کو اہل سنّت کہے تو اس پر کوئی علمی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ اور سنّتِ جامعہ ہی وہ مستقل واسطہ اور ذریعہ ہے جس سے قرآن ملتا ہے۔ قرب الٰہی کا مقام نصیب ہوتا ہے، جنت کا راستہ کھلتا ہے اور حق تعالٰی کی رضا نصیب ہوتی ہے۔ لہٰذا مسلمان کے لیے اعلٰی اور اصل نسبت اہل سُنّت ہونے کی نسبت ہی ہے۔ سُنّی مسلمانوں نے اس نسبت کے ذریعہ اپنا رابطہ ایمانی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک کے ساتھ قائم کر لیا ہے اور یہی ان کے اہلِ حق ہونے کی دلیل ہے۔ 

لیکن شیعہ فرقہ نے اہل سنّت ہونے کا انکار کر کے اپنا ایمانی رابطہ حضور سرورِ کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے منقطع کر لیا ہے۔ ہم اپنی امتیازی نسبت اہلِ سنّت ہونے کو افضل اور اعلٰی قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد دوسرے درجہ پر جماعتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اپنی نسبت کا اقرار کرتے ہیں لیکن شیعہ سنّتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کا اقرار نہیں کرتے بلکہ اس کا انکار کر تے ہیں اور اہلِ سنّت کی نسبت پر اعتراض کرتے ہیں اور بجائے اس کے وہ اپنی نسبت صرف حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ شیعہ سے مراد ہے شیعة علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ یا شیعانِ علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ یعنی حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کا گروہ یا ان کے پیروکار۔ بیشک ہم اہل سنت حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کو اپنے درجہ پر برحق خلیفہ مانتے ہیں۔ جنتی مانتے ہیں۔ جامع الکمالات تسلیم کرتے ہیں اور ان کی عظمت شان میں تنقیص و توہین کو ایمان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللّٰهُ عنہ کےدشمن کے ہم دشمن ہیں۔ ان کی محبت کو ہم جزو ایمان تسلیم کرتے ہیں لیکن نسبتِ علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سے بہر حال نسبتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور نسبتِ سنّتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اولی اور برتر ہے۔ اگر شیعہ سنّتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کا بھی اپنے امتیازی نام میں اظہار کرتے اور پھر دوسرے درجہ میں حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی نسبت کا اقرار کرتے تو اور بات تھی لیکن اہل سنت ہونے کی نسبت کو اپنے امتیازی اور خصوصی نام میں بالکل ترک کر کے انہوں نے ارشاداتِ خُداوندی

"مَنْ يُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ"

اور

(2) {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔}

(سورۃ آل عمران، آیت 31)  

کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ مولوی احمد مقبول دہلوی نے یہ کیا ہے:-

" (اے رسول) کہہ دو اگر تم اللّٰه کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو تا کہ اللّٰه تمہیں دوست رکھے۔ "

(ترجمہ مقبول)

(2) اور سنّتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کے اظہار و اعلان کے بعد ہم بجائے کسی ایک صحابی کے الجماعة کے لفظ سے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام فیض یافتہ اور جنّتی جماعت کے ساتھ اپنی دینی نسبت کا اظہار کرتے ہیں جِس میں حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سمیت چاروں خلفائے راشدین اور حضرت حسن رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ، حضرت حُسین رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اور دوسرے تمام اصحابِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم شامل ہیں۔ لہٰذا اہل السنت والجماعت وہ جامع نسبت ہے جِس میں صِرف شیعۂ علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی نسبت سے بہر حال فوقیت اور برتری پائی جاتی ہے۔ اور سنّت کے بعد جماعت کے تذکرہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام الانبیاء والمرسلین رحمت اللعالمین خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کےفیضِ صحبت سے نہ صرف یہ کہ حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ یا چند افراد کامل الایمان اور جنتی بنائے گئے ہیں بلکہ ایک عظیم جماعت مومنین کو رضائے الٰہی کی اعلٰی سندیں ملی ہیں اور اللّٰه تعالٰی نے بھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہو جانے والوں کو ایک اُمّت بلکہ خیرِ اُمّت سے خطاب فرمایا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے:-

{كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ۔}

مولوی مقبول احمد دہلوی شیعہ مفسر نے اس آیت کا یہ ترجمہ لکھا ہے:-
جو امتیں ہدایت مردم کے لیے پیدا کی گئی ہیں ان میں تم سب سے بہتر ہو۔ نیکی کرنے کا حکم دیتے ہو اور بدی سے منع کرتے ہو اور اللّٰه پر ایمان لاتے ہو۔

  (ترجمہ مقبول)

♦️ ازروئے احادیث شیعہ سنت و جماعت کی عظمت ♦️

♦️1۔) شیعوں کے شیخ ابنِ بابویہ قُمی المعروف بہ شیخ صدوق مؤلف

"من لا یحضرہ الفقیه"

اپنی کتاب جامع الاخبار میں لِکھتے ہیں کہ اللّٰه تعالٰی نے جبرائیل علیہ السلام کو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ:

{لَیْسَ عَلٰی مَنْ مَاتَ عَلَی السنّة الجماعة عذابُ القبر ولا شدۃ یوم القیامة۔}

صفحہ 4 از 6