آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے…

آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جِس میں ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنھم) میں سے کِسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ میں سنی ہوں ہو یا میرا مذہب اہلِ سنت والجماعت ہے۔ حوالہ مکمل دیجیے۔۔۔ اور پیش کردہ روایت کی توثیق بھی تحریر فرمائیے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 6

قطع نظر اس کے کہ یہ روایت عقائد کے ثبوت میں پیش کی جا سکتی ہے یا نہیں، ہم کہتے ہیں کہ کیا کوئی شیعہ عالم و مجتہد علم و دیانت کی بنا پر پر کہہ سکتا ہے کہ اس روایت میں لفظ شیعہ کسی مذہبی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہاں بھی لفظ شیعہ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی اے علی آپ اور آپ کی پیروی کرنے والے آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ اور اگر اس طرح کی روایت کو موجودہ شیعہ اپنے لیے جنت کا ٹکٹ سمجھتے ہیں تو پھر حضرت عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی تعالی عنہ کے پیروکاروں کو جنتی تسلیم کرنا پڑے گا چنانچہ فروع کافی جلد ثالث کتاب الروضہ ص 99 میں ہے:-

"یُنادی مناد أَلَا إِنّ فلان بن فلان و شیعتهٗ ھم الفائزون اول النھار و ینادی آخر النھار أَلَا إِنّ عثمان وَ شیعته ھم الفائزون۔"

ایک پکارنے والا دن کے اوّل حصّہ میں پکارتا ہے کہ فلاں بن فلاں اور اس کے پیروکار کامیاب ہونے والے ہیں (یعنی جنتی ہیں) اور دن کے آخری حصّے میں پکارتا ہے کہ عُثمان اور ان کے پیروکار کامیاب ہونے والے ہیں (یعنی جنتی ہیں۔)

کیا شیعہ فروع کافی کی اس حدیث کی بنا پر حضرت عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اور آپ کے گروہ اور پیروکاروں کو جنتی مان لیں گے ؟ 

♦️7۔) مولوی عبدالکریم صاحب مشتاق نے اپنے رسالہ "میں شیعہ کیوں ہوا" ص 18 پر لکھا ہے:- مذہب شیعہ امامیہ ص 21 پر لکھا ہے۔ مذہب شیعہ اثنا عشریہ۔ اور ص 36 پر لکھا ہے:- 

"مذہب شیعہ کے علاوہ کسی مذہب کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ وہ آلِ محمد کا مذہب ہے۔" 

اور ص 10 پر لکھا ہے:-

"سوائے مذہب اہل بیت کے اس عقیدہ کو کسی دوسرے مذہب نے اپنے اصول دین میں جگہ نہیں دی۔" 

تو ہمارا سوال یہ ہے کہ شیعوں کے متعدد فرقے ہیں جن میں سے امامیہ اثنا عشریہ فرقہ بھی ہے اور پاکستان میں عمومًا شیعہ علماء فرقہ امامیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور سائل صاحب بھی فرقہ امامیہ کو برحق مانتے ہیں۔ تو ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا شیعہ علماء، قرآن مجید سے مذہب شیعہ امامیہ مذہب شیعہ اثنا عشریہ مذہب آل محمد اور مذہب اہل بیت کے الفاظ ثابت کر سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ 

کیا حدیث صحیح سے مذہب شیعہ امامیہ اور مذہب اثنا عشریہ وغیرہ کی اصطلاح کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں۔؟

اور کیا قرآن مجید سے آل محمد کے الفاظ کا کہیں ثبوت مِل سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ 

تو پھر آئے دن عوام شیعہ کو مطمئن کرنے اور عوام اہل سنت کو گمراہ کرنے کے لیے یہ کیوں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ قرآن یا حدیث سے سُنّی، اہل سنّت اور اہل السنّت والجماعت کے الفاظ کا ثبوت نہیں ملتا۔

علاوہ ازیں ماتم و سینہ کوبی کرنے والوں اور خاص فنکاری کے تحت زنجیرزنی کرنے والے مجاہدین کو ماتمی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے تو کیا ماتمی کا لفظ اور اس مخصوص اصطلاح کا بھی ثبوت مل سکتا ہے۔

♦️8۔) شیعہ احادیث سے ثابت ہے کہ اہلِ تشیع کا اصلی نام جو اللّٰه تعالٰی نے تجویز فرمایا ہے وہ رافضی ہے۔ چنانچہ شیعہ مذہب کی سب سے زیادہ صحیح ترین کتاب حدیث فروع کافی کتاب الروضہ ص 16 میں ابو بصیر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے امام جعفر صادق کی خدمت میں یہ شکایت پیش کی کہ مخالفین ہم کو رافضی کے نام سے پکارتے ہیں جس سے ہم دل شکستہ ہو گئے ہیں تو امام جعفر صادق نے ان کو تسلی دیتے ہوئے یہ ارشادفرمایا کہ:

"لَا وَاللّٰهِ مَا ھُمْ سَمّوْکُمْ بَلِ اللّٰهُ سَمَّاکُمْ۔"

خُدا کی قسم مخالفین نے نہیں بلکہ خُدا نے تمہارا یہ نام یعنی رافضی رکھا ہے۔ 

تو جب حسبِ ارشاد امام صادق اللّٰه تعالٰی نے ان کا نام رافضی رکھا ہے تو شیعہ علماء پر لازم ہے کہ قرآن سے اپنا نام رافضی ثابت کریں اور پھر ہم سے مطالبہ کریں کہ اہل سنّت کا نام قرآن سے ثابت کریں۔ کوئی ہے روئے زمین پر ایسا شیعہ عالم و مجتہد جو رافضی کا نام قرآن سے ثابت کر سکے؟

✳️ اہل السنّت والجماعت ✳️

اہل السنّت والجماعت سے مراد وہ مسلمان ہے جو سنتِ رسول اور جماعتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ماننے والا ہے۔ بیشک اللّٰه تعالٰی کے دین کا نام اِسلام ہے جِس کی بنا پر اِسلام پر ایمان لانے والوں کو مسلم، مسلمان اور اہلِ اِسلام کہا جاتا ہے۔ اور شیعہ علماء بھی بوجہ دعوئ اسلام کے اپنے آپ کو مسلم، مسلمان اور اہلِ اِسلام کہتے ہوں گے۔ اور اِسلام پر عقیدہ رکھنے کی بنا پر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں مسلم ہوں یا میں مسلمان ہوں یا میں اہلِ اِسلام میں سے ہوں تو کیا کوئی صاحبِ عقل و ہوش اِنسان اس پر اعتراض کر سکتا ہے کہ تو قرآن میں مسلمان یا اہلِ اِسلام کے الفاظ کا ثبوت پیش کر دے تو مسلمان ہے اور تیرا دین اسلام برحق ہے ورنہ نہیں۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت کا ثبوت موجود ہے تو اگر کوئی مسلمان سنّت اور جماعت کو ماننے کی وجہ سے اپنے آپ کو سُنّی، اہلِ سنّت اور اہلِ سنّت والجماعت کہہ دے تو بالکل صحیح ہے اور علم و دیانت کی روشنی میں اس کو مطعون نہیں کیا جا سکتا اور یہاں بوجہ اختصار کے بجائے کتب اہل السنّت والجماعت کے شیعوں کی مستند کتاب نہج البلاغۃ سے سنت اور اس کی اتباع کے لازمی ہونے کا ثبوت حضرت علی المُرتضی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے ارشاد سے ثابت کیا جاتا ہے تاکہ شیعہ علماء کے لیے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔

قرآن مجید میں ہے:

{یٰٓأَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا أَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَأَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ إِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ}

۔(پارہ5، سورة النساء، آیت 59)

 شیعہ مفسرمولوی مقبول احمد دہلوی نے اس کا ترجمہ یہ لکھا ہے:-

"اے ایمان والو ! اللّٰہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول اور والیانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔ پھر اگر کسی معاملے میں تم میں آپس میں جھگڑا ہو تو اسے اللّٰه اور اس کے رسول کی طرف پھیرو بشرطیکہ تم اللّٰه اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔"

اس آیت کے تحت حضرت علی المُرتضی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ ارشاد فرماتے ہیں:-

صفحہ 3 از 6