آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے…

آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جِس میں ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنھم) میں سے کِسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ میں سنی ہوں ہو یا میرا مذہب اہلِ سنت والجماعت ہے۔ حوالہ مکمل دیجیے۔۔۔ اور پیش کردہ روایت کی توثیق بھی تحریر فرمائیے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 6

 یعنی حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، حضرت حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اور حضرت حُسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ اور اگر ان تینوں کا نہیں تو صِرف حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، پر ایمان لانے کا ذکر پایا جاتا۔ جو ابو الائمہ ہیں اور حسبِ عقیدہ شیعہ کلمۂ اسلام میں توحید و رسالت کے بعد ان کی خلافت بلا فصل کا اگر اقرار نہ کیا جائے تو آدمی ایمان سے  محروم رہتا ہے خواہ وہ توحید اور رسالت کا اقرار کر لے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی خلافت و امامت پر ایمان لانا تو کجا۔ علی بن ابی طالب کا تو قرآن میں کہیں نام کے ساتھ کوئی ذکر بھی موجود نہیں ہے۔ تو ان بارہ اماموں میں سے قرآن میں کسی امام کا بھی بہ نشان نام ذکر نہ کرنا اور ان کی امامت کے تذکرہ سے بھی قرآن مجید کا خالی ہونا۔ کیا اس امر کی بیّن دلیل نہیں ہے کہ یہ بارہ امام مثل انبیاء و رسل کے کوئی خدائی عہدہ مثل امامت وغیرہ کے نہیں رکھتے جس کی بنا پر مثل انبیاء کے ان پر ایمان لانا واجب ہو۔

♦️4۔) اہل السنت والجماعت کے نزدیک حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنه المُرتضٰى سے لے کر حضرت حسن عکسری تک سب اولیاء اللّٰه ہیں جِن میں سے پہلے تین حضرات یعنی حضرت علی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم کو شرفِ صحابیت حاصل ہے اور ان میں سے حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ چوتھے برحق خلیفہ ہیں۔ اور امام حسن رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ بھی برحق ہیں لیکن آپ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے چھ ماہ کے بعد اپنی خلافت سے دستبردار ہو کر حضرت معاویہ رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کو خلیفۂ اِسلام تسلیم کر لیا اور مع اپنے بھائی حضرت امام حُسین رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے ان سے سالانہ لاکھوں روپے وظیفہ لیتے رہے۔ اہل سنّت ان حضرات کو ان کے درجات کے مطابق مانتے ہیں۔ اور حضرت مہدی قرب قیامت میں پیدا ہوں گے اور خلافت حقہ کے منصب پر فائز المرام ہوں گے لیکن جِس طرح ان حضرات کو شیعہ فرقہ کے لوگ مانتے ہیں اس کا موجودہ قرآن میں تو کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔

هَاتُوْا بُرْهَانَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْن...

بہرحال اگر اس قرآن میں ان بارہ اماموں کا نام نہیں پایا جاتا جن پر حسبِ عقیدہ شیعہ مسلسل انبیاء کے ایمان لانا واجب ہے تو اگر اہل سنّت یا اہل السنّت و الجماعت کے الفاظ قرآن مجید میں نہ موجود ہوں تو یہ کیونکر محل اعتراض بن سکتا ہے۔

♦️5۔) لفظ شیعہ کا گو قرآن مجید میں مذکور ہے لیکن اکثر مذموم معنی میں پایا جاتا ہے مثلًا:

{إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا۔}

(سورۃ القصص، آیت 4)

شیعہ مفسر مولوی مقبول احمد دہلوی نے اس آیت کا ترجمہ یہ لکھا ہے:

"بے شک فرعون اس سر زمین میں غالب تھا اور اس کے باشندوں کو اس نے کئی گروہ بنا دیا تھا۔" 

لفظ شِيَعًا جمع شِیْعَة کی ہے بمعنی گروہ۔ اگر شیعہ کوئی مذہبی اصطلاح ہے جیسا کہ شیعہ علماء دعویٰ کرتے ہیں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ شیعوں کا بانی فرعون ہے۔

2️⃣۔ {فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيٰطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا۔ ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا۔}

(سورۃ المریم، آیت 68)

"سو قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان کو (اس وقت) جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی۔ پھر ان کو دوزخ کے گردا گرد گھٹنوں کے بل گِرا ہوا حاضر کریں گے پھر ضرور ہم ہر گروہ میں سے ان کو الگ کریں گے جو خُدا کے بر خلاف زیادہ ہیکڑی کرنے والے تھے۔"

(ترجمہ مقبول) 

اور اگر شیعہ کوئی مذہبی اصطلاح ہے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس آیت کے تحت قیامت میں ہر شیعہ کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔؟

ازروئے لغت لفظ شیعہ کا معنی گروہ یا پیروکار کے ہیں۔ اور قرآن مجید میں کہیں بھی کسی مذہب نام کے طور پر لفظ شیعہ کا استعمال موجود نہیں ہے۔ لیکن شیعہ عمومًا یہ  پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے اور قرآن مجید میں ان کا شیعہ ہونے کا ذکر حسبِ ذیل آیت میں ہے۔

{وَ إِنَّ مِنْ شیعَتِهٖ لَإِبْرٰھِیْمَ۔}

(سورة الصّٰفّٰت، آيت 83)

ترجمہ:-

"اور یقینًا ابراہیم بھی ان (یعنی حضرت نوح) ہی کے پیروؤں میں سے تھے۔"

(ترجمہ مقبول)

کیا اس ترجمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آیت میں لفظ شیعہ کسی مذہبی نام کے طور پر استعمال ہوا ہے جس کی بنا پر یہ کہا جائے  کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے۔

(ب) اگر بالفرض مذہبی نام کی حیثیت سے حضرات ابراہیم علیہ السلام  شیعہ تھے۔ تو پھر تو آپ کی ملت کی پیروی کی بنا پر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی شیعہ ماننا چاہیے۔ لیکن کیا شیعہ مجتہد قرآن یا حدیث سے ثابت کر سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہو کہ میں شیعہ ہوں ؟ اور کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ حضرت علی المُرتضی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے یہ فرمایا ہو کہ میں شیعہ ہوں۔ سائل پر لازم تھا کہ وہ پہلے  حضور خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی المُرتضی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے بارے میں قرآن یا حدیث صحیح سے یہ ثابت کرتے کہ انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ ہم شیعہ ہیں اور پھر اہل السنّت و الجماعت سے یہ مطالبہ کرتے کہ:- برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جس میں حضرت ابوبکر، عمر، عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم میں سے کسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ: "میں سُنّی ہوں یا میرا مذہب اہل السنّت و الجماعت ہے؟"

♦️6۔) اور شیعہ علماء اپنے مذہب کے ثبوت کے لیے جو یہ روایت پیش کرتے ہیں اور مولوی عبدالکریم صاحب مشتاق نے بھی یہی روایت پیش کی ہے کہ

قال رسولُ اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یا علی أَنْتَ وَ شِیعتك ھُمُ الفائزون۔ (میں شیعہ کیوں ہوا، ص 37)

(اے علی ! تو اور تیرے شیعہ جنتی ہیں۔)

صفحہ 2 از 6