عید شجاع
9 ربیع الاول کو اس بار "عید شجاع" بڑے پرتپاک انداز سے منائی گئی۔ یہ عید سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔ جسے عید زہرا بھی کہتے ہیں۔ شجاع الدین چونکہ ابو لولو فیروز مجوسی کا لقب ہے، جس نے فاروق اعظمؓ کو شہید کیا تھا۔ اس لیے اسے عید شجاع کہتے ہیں۔ اس موقع پر پہلے بھی سیدنا عمرؓ اور دیگر اصحاب رسولؓ و امہات المومنینؓ پر لعن طعن کیا جاتا تھا۔ مگر اس بار تو معاملہ تمام تر حدود سے تجاوز کر گیا۔ یہ عراق کی ایک ویڈیو ہے۔ جس میں سرعام اسپیکر پر سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ پر لعنت بھیجی جا رہی ہے۔ رسول اللہﷺ کی محبوب ترین زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہؓ کو "ام الفاسقین" کہہ کر تمام امت مسلمہ کو "فاسق" قرار دیا جا رہا ہے۔
عراق میں اس بار بڑے پیمانے پر تقریبات منائی گئیں، جہاں سینکڑوں افراد نے ابو لؤلؤہ مجوسی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جس نے سیدنا عمرؓ کو قتل کیا تھا۔ ان تقریبات میں سیاسی شخصیات اور ہزاروں دیگر افراد نے شرکت کی۔ اس بار وہ دو دھاری خنجر کا بھی بڑا چرچا رہا، جس سے فیروز نے حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے کارگر ثابت ہونے پر مبارکبادیں دی جا رہی ہیں نیز یہ پوسٹ بھی بہت وائرل ہے کہ عمرؓ نے آخری بار شراب پینے کی خواہش ظاہر کی، جسے پورا کیا گیا، مگر ابو لولو کے لگائے زخموں سے شراب باہر نکل گئی اور پھر صحابہ کرامؓ کو انواع و اقسام کی گالیاں....
خیر، وہ تو ان کا عقیدہ ہے، جس کا برملا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مگر سوال ان لوگوں سے ہے، جو مسلسل ’’سنی شیعہ اتحاد‘‘ کی تبلیغ کرتے ہیں، وہ ایسے مواقع پر کہیں نظر نہیں آتے۔ اس بار بھی اپنے بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ کیوں جی؟ کیا ابو بکرؓ وعمرؓ اور عائشہؓ تمہارے نزدیک بھی ایسے ہی ہیں؟
یاد رہے کہ سوشل میڈیا اس طرح کی ویڈیوز، توہین آمیز تصاویر، خاکوں اور پوسٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان جیسے مسلم اکثریتی ملک میں بھی اس بار تمام حدیں پار کرلی گئیں۔