سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو…

سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو دھوکہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 5

اس روایت کو مجتہد حامد حسین نے اپنی کتاب استقصاء الافھام میں بھی ذکر کیا ہے
اور اس سے تحریف قرآن ثابت کرنی کی کوشش کی ہے پوری سند اس روایت کی بھی مجتہد شیعہ صاحب نے ذکر نہیں کی صرف اس قدر نقل کیا ہے کہ ابوبکر بن عیاش نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے ابن مسعود سے لیا ہے اس کو نقل کیا ہے ابوبکر بن عیاش کے بعد کے روای معلوم ہیں کیسے ہیں لہذا ایک خرابی تو اس روایت میں یہ ہوئی کہ سند اس کی مجہول ہے
دوسری خرابی یہ ہے کہ ابو بکر بن عیاش مجروح ہیں میزان الاعتدال میں ہے اور کہ وہ حدیث میں غلطی کرتے تھے اور وہم ہو جاتا تھا، محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ان کو ضعیف کہا ہے یحی بن سعید انکا بالکل اعتبار نہ کرتے تھے ان کے سامنے ابو بکر بن عیاش کا ذکر ہوتا تو چیں بجبیں ہو جاتے کہ اگر ابوبکر بن عیاش میرے سامنے موجود ہوتے تو میں ان سے کچھ نہ پوچھتا۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "وہ حد سے زیادہ کثیر الغلط ہیں"،
ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن عیاش سے بڑھ کر حدیث پر بہت جلد جرأت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔
تیسری خرابی یہ ہے ابوبکر بن عیاش عاصم سے روایت کرتے عاصم نام کے کئی راوی ہیں جن میں بعض کذاب بھی ہیں
جب تک معلوم نہ ہو کہ کون عاصم ہیں اس وقت تک راویت بھی مجہول و نا قابل اعتبار ہے
پس یہ کل چار روایتیں شیعہ حامد حسین نے اپنے اس دعوی کےثبوت میں پیش کی تھیں کہ یہ آیت غدیرخم کے موقع پر نازل ہوئی عبقات کی حقیقت معلوم کرنے کیلئے یہ نمونہ کافی ہے ایک عجیب لطف یہ ہے
شیعوں کی معتبر روایتوں سے بھی یہ ثابت ہے کہ یہ آیت غدیرخم کے موقع پر نہیں نازل ہوئی بلکہ عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی جو غدیر خم سے نو دن پہلے تھا اب اسکے بعد شیعہ حامد حسین کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ
♦️در کفر ہم ثابت نہ شد او را رسوا کن ♦️
کیونکہ ان کی تحقیق شیعوں کے بھی خلاف نکلی ملاحظہ ہو: .
♦️اصول کافی مطبوعہ لکھنو صفحہ ۸۷ا میں ہے کہ ابو الجار وہ کہتا ہے میں نے امام جعفرصادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ : .

ثم نزلت المولاتيه وانما اتاه ذلك في يوم الجمعة بعرفة انزل الله رجل اليوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و كان اكمال الدين بولاية على بن ابی طالب عليه السلام فقال عند ذلک رسول الله غالب امتی حدیثو عهد بالجاهلية ومتى اخبرتهم بهذا في ابن عمي يقول قائل ويقول قائل فقلت في نفسي من غير أن ينطق به لسانی قاتانی عزيمة من الله عز وجل بتلة فنزلت یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمک من الناس أن الله لا يهدي القوم الكافرين.

(ترجمہ) پھر نازل ہوئی امامت علی کی یہ حکم نبی کے پاس جمعہ کے دن عرفہ میں آیا الله عزوجل نے یہ آیت نازل کی الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی. دین کا کمال علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت سے ہوا تو اس وقت رسول ﷺ نے فرمایا کہ میری امت جاہلیت سے قریب العہد ہے جب میں ان کو اپنے چچا کے بیٹے (یعنی علی) کے متعلق کوی خبر دونگا تو کوئی کچھ کہے گا اور کوئی کچھ کہے گا ۔ ابھی یہ خیال میں نے اپنے دل میں کیا تھا زبان سے کوئی لفظ نہ نکالا تھا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے سخت تاکید آگئ اور یہ آیت نازل ھوئی

یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمک من الناس ان الله لا يهدي القوم الكافرين .

اس روایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آیت تبلیغ کا نزول غدیر کے دن نہیں ہوا بلکہ عرفہ کے دن ہوا علمائے شیعہ کا عجب حال ہے سنیوں کے مقابلہ میں آ کر وہ اپنی کتابوں سے بھی ناواقف بن جا تے ہیں.

*خلاصہ آیت تبلیغ اور ملت شیعیت کو دعوتِ فکر*

اس آیت کے متعلق جو قصہ شیعہ صاحبان نے جبرائیل علیہ السلام کے بار بار آنے اور اللہ تعالیٰ کے بار بار تاکید کرنے اور رسولﷺ کے ہر بار عذر کرنے کا بیان کیا ہے اس میں جس قدر تمسخر، توہین، اللہ اور رسولﷺ ساتھ ہے

ظاہر ہے عجب تماشہ ہے کہ توحید کی تبلیغ میں رسولﷺ کفار مکہ کا کچھ خوف نہ کیا اور بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ تمام اہل مکہ کے خلاف توحید کے مضامین کو بیان فرمایا اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں توحید کا مضمون خوب تفصیل وتوضیح سے بے شمار آیتوں میں نازل فرمایا ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت اللہ جانے کیسی خطرناک چیز کہ اللہ نے بھی اس کا بیان صاف صاف نہ کیا اور رسول ﷺ بھی اس کی تبلیغ میں اس قدر خائف ہوئے اور اللہ تعالیٰ حفاظت کا وعدہ نہ کرتا تو چاہے کتنی تاکیدات اللہ کی طرف سے ہوتی رسول ﷺ ہرگز تبلیغ نہ کرتے،

پھر ان سب امور کے بعد یہ بھی کچھ کم قابل حیرت نہیں کہ رسولﷺ تبلیغ کرنے کھڑے ہوئے تو ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ ہی نہ ملا "مولا" کا لفظ ارشاد فرمایا جس سے خلافت کا مفہوم کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا ایسا فصیح العرب اور اس معاملہ میں اس کو کوئی سری لفظ ہی نہ ملے۔

العجب کل العجب

اچھا ہم اس تمام قصے سے قطع نظر کر لیں اور صرف اتنی سی بات مان لیں کہ اس آیت میں لفظ "ما" سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت مراد ہے تب بھی یہ اعتراض اللہ پر ضرور ہوتا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف ایسی اہم اور ضروری چیز ہے کہ رسول ﷺ کو اس کے اعلان کی اس قدر تاکید کی جا رہی کہ اس قدر تاکید نہ عقیدہ توحید کے لیے کی گئی، نا عقیدہ قیامت کے لیے نہ عقیدہ رسالت کے لئے

حتیٰ کہ اس خلافت کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں رسول ﷺ کا نام رسولوں کی فہرست سے کاٹ دینے کی وعید آئی ایسی اہم اور ضروری چیز کو خدا نے مبہم کیوں بیان فرمایا یا جس طرح عقیدہ توحید وغیرہ کو اللہ نے صاف صاف بیان فرمایا تھا کہ آج ہر شخص ان آیات کو دیکھ کر اصل مقصود کو سمجھ لیتا ہے خلافِ مقصود کا وہم بھی کسی کو نہیں ہوتا اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو صاف صاف بیان کیوں نہ بیان فرمایا ؟؟

صفحہ 4 از 5