سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو…

سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو دھوکہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 5

 ترجمہ ہم سے ابو احمد زبیری نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں نے کلبی کو کہتے ہوئے سنا کہ میری کنیت عطیہ نے ابوسعید رکھی تھی،
ابن حبان کہتے ہیں عطیہ نے حضرت ابوسعید خدری سے کچھ روایتیں کی تھیں مگر جب ان کی وفات ہو گئی تو یہ جا کر کلبی کے پاس بیٹھنے لگا اور کلبی جب قال رسول ﷺ کہتا تھا تو یہ اس کو یاد کر لیتا تھا اور کلبی کی کنیت اس نے ابوسعید رکھ لی تھی اور کلبی رافضی ہی سے یہ روایت کیا کرتا تھا جب اس سے کوئی پوچھتا کہ یہ حدیث تجھ سے کس نے بیان کی تو کہتا تھا کہ ابوسعید نے ، لوگ یہ گمان کرتے تھے کہ ابوسعید خدری صحابی مراد ہیں حالانکہ ابو سعید کلبی رافضی کو مراد لینا تھا عطیہ کی روایت کو لکھنا جائز نہیں مگر بطور تعجب کے اور ساجی نے کہا ہے کہ عطیہ معتبر شخص نہیں ہے وہ حضرت علی کو تمام صحابہ پر مقدم سمجھتا تھا اور ابن عدی نے کہا ہے کہ عطیہ کا شمار کوفہ کے شیعوں میں تھا اور جوز جانی نے اسکو مائل بتشیع بیان کیا ہے اور ابو داؤد نے کہا ہے کہ عطیہ ایسا شخص نہیں جس پر اعتماد کیا جائے اور کہا ہے کہ ابوبکر بزار کا مرتبہ عالیہ کے بعد ہے۔
پس اس روایت میں دو رافضی ہوئے ایک عطیہ دوسرا کلبی جس کو دھوکہ دینے کیلئے ابوسعید کہا گیا ہے تا کہ لوگ ابوسعید کو لصحابی سمجھ کر روایت کو قبول کر لیں حالانکہ وہ کلبی ابوسعید ہے اور روایت اس نے گڑھی ہے لہذا اس روایت کو اہل سنت کے سامنے پیش کرنا شیعہ حامد حسین کی دیانت کا ایک نمونہ ہے اور پھر اس پر مزید یہ کہ اس روایت کو متعدد کتابوں سے مل نقل کر کے کتاب کے لحاظ سے اس کو جداگانہ روایت قرار دیکر یہ ظاہر کرنا کہ یہ روایت کثرت طرق سے مروی ہے شیعہ حامد حسین کی چالاکی کا ایک معمولی کرشمہ ہے۔
♦️دوسری روایت 
ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہے جس کو کلبی نے بواسطہ ابوصالح کے ابن عباس سے کیا ہے کلبی کا رافضی اور کذاب ہونا مسلم الكل ہے
میزان الاعتدال میں ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ سفیان کہتے تھے کلبی نے مجھ سے کہا کہ جتنی روایتیں میں ابوصالح سے نقل کی ہیں وہ سب جھوٹی ہیں ۔ یزید بن يذیع کہتے ہیں کہ کلبی عبداللہ بن سبا کے فرقہ کا شخص تھا
ابن حبان کہتے ہیں کہ کلبی عبداللہ بن سبا کے فرقہ کا شخص تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نہیں مرے اور جب بادل کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ امیر المومنین اس میں ہیں بنوز کی کہتے ہیں کہ میں نے کلبی سے سنا وہ کہتا تھا کہ میں سبائی فرقے سے ہوں یعنی عبداللہ بن سباء کا پیروکار ہوں
حسن بن یحی رحمہ اللہ کہتے تھے میں نے کلبی سے سنا کہ جبرئیل علیہ السلام جب وحی لیکر آتے تھے آپ محمدﷺ اگر پاخانہ میں جاتے تو جبرائیل علیہ السلام اتنی دیر علی رضی اللہ عنہ سے وحی بیان کرتے تھے
♦️احمد بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا کلبی کی تفسیر کو پڑھنا جائز ہے تو انہوں نے کہا کہ جائز نہیں.
♦️جوزجانی نے کلبی کو کذاب کہا ہے اور ایک جماعت دارقطنی نے اس کو متروک الروایت کہا ہے
ابن حبان فرماتے ہیں کلبی کا رافضی ہونا ایسا ظاہر ہے کہ محتاج بیان نہیں اور کلبی بواسطہ ابو صالح کے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے حالانکہ ابوصالح نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا بھی نہیں کلبی ایسا شخص تھا کہ کتابوں میں اس کا ذکر جائز نہیں کلبی کا شیعہ ہونا شیعوں کی کتابوں سے ثابت ہے
چنانچہ اصول کافی میں کلبی کی بہت سی روایات ہیں اور اصول کافی میں ہے فلم يزل الكلبي يدين الله بحب اهل هذا البيت حتى مات لین کلبی ہمیشہ اللہ کی اطاعت محبت اہل بیت کے ذریعہ سے کرتا رہا یہاں تک کہ مر گیا۔
اس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ روایت بھی قابل اعتبار نہیں کلبی رافضی کذاب کی گھڑی ہوئی ہے شیعہ حامد حسین صاحب نے اس روایت کو اہل سنت کے مقابلہ میں پیش کر کے اپنی دیانت کا ایک عمدہ ثبوت پیش کر دیا۔
اس روایت کو بھی شیعہ مجتہد حامد حسین نے متعدد کتابوں سے نقل کر کے ایک روایت کو مستند بنانے کی کارروائی کی ہے۔
اگر خدانخواستہ کوئی سنی اس قسم کی کارروائی شیعوں کے مقابلہ میں کرتا تو علما شیعہ تو جو کہتے بعد میں کہتے، پہلے علماے اہل سنت ہی اس کو ذلیل و خوار کر تے مگر شیعہ ہیں کہ اپنے مجتہد حامد ان کی مدح و ثنا میں رطب اللسان رہتے ہیں اس کا سبب سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ شیعوں کے ہاں فریب و دغا کی کارروائیاں جائز ہیں بلکہ موجب کمال ہیں۔
♦️تیسری روایت 
براء بن عازب کی ہے مگر مجتہد محمد حسین نے اس کی پوری سند ہی نقل نہیں کی معلوم ہوتا کہ ان کی سند میں کون کون راوی ہیں اور ان راویوں کی بابت ائمہ جرح وتعدیل نے کیا لکھا ہے لہذا ایسی مجہول السند روایت کو پیش کرنا سوائے شیعہ مجہتد حامد حسین یا ان کے ہم مذہب علماء کے اور کسی سے شاید نہ ہو سکتا۔
♦️چوتھی روایت 
شیعہ حامد حسین نے عبقات میں یہ بھی لکھا ہے
عبداللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول خدا کے زمانہ میں اس آیت کو یوں پڑھتے تھے

"یاایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولى المؤمنین"

صفحہ 3 از 5