سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو…

سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو دھوکہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 5

اگر مولیٰ بمعنی حاکم ہو تو اس آیت مطلب یہ ہوگا
کہ جبرائیل اور مومنین صالحین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حاکم ہیں۔معاذ االله منه ۔
لہذا اس روایت کے صحیح مان لینے بھی کچھ نتیجہ نہ ہوا اور نہ اس حدیث میں حضرت علی کی خلافت کا ذکر ثابت ہوا اور نہ یہ حدیث آیت کے ساتھ کوئی تعلق پیدا نہ کر سکی۔
شیعوں کے امام المناظرین شیعہ مجتہد حامد حسین نے اپنی مشہور کتاب عبقات الانوار میں بڑا زور اس بات پر دیا ہے کہ مولیٰ بمعنی حاکم آتا ہے ان شاء الله تعالی جب شرح احادیث کا سلسلہ شروع ہو گا اس وقت عبقات کے لفظ لفظ کا رد کر کے دکھا دیا جائےگا کہ مولیٰ بمعنی حاکم ہرگز مستعمل نہیں اور جو عبارتیں مجتہد شیعہ حامد حسین نے نقل کی ہیں ان کا مطلب ہی وہ نہیں سمجھے
♦️تیسری بات یہ ہے کہ اس آیت کا بروز غدیر نازل ہونا بھی غلط ہے یہ آیت غدیر خم کے موقع سے بہت پہلے نازل ہو چکی تھی۔
شیعہ مجہتد حامد حسین نے عبقات کی حدیث غدیر میں اس پر بھی بڑا زور دیا ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نازل ہوئی تھی اور شیعوں کو کتاب عبقات پر بڑا ناز ہے کبھی بھی سنیوں کو طعنے دیتے ہیں کہ تمہارے علماء نے عبقات کا جواب کیوں نہیں لکھا ..
اگرچہ شیعہ حامد حسین کی کتاب استقصاء الافهام اور عبقات الانوار دونوں پر کافی تنقید النجم (یہ ایک نایاب رسالہ ہے) دور قدیم میں ہو چکی ہے لیکن یہ مبحث چونکہ تمام عبقات میں چوٹی کا مبحث سمجھا جاتا ہے لہذا اس کی حالت کا اظہار اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے جس سے یہ بات بھی ظاہر ہو جائے گی کہ عبقات کا جواب نہ لکھنے کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ان خرافات کی طرف توجہ کرتا وہ کندن کاہ برآوردن کا مصداق ہے اہل سنت کی صحیح روایات سے ثابت ہے کہ یہ آیت مدینہ منورہ میں رات کے وقت نازل ہوئی تھی نہ غدیر خم میں دن کے وقت۔
♦️حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ترمذی وغیرہ بہت سے محدثین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ صحابہ کرام رات کے وقت رسول خدا کی پاسبانی کیا کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا نے بالا خانہ سے سر باہر نکالا اور فرمایا کہ تم لوگ واپس چلے جاو اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ سے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اب کسی کی پاسبانی کی ضرورت نہیں حاکم نے مستدرک میں اس روایت کویح الاسناد کہا ہے۔ "
نیز انہیں حافظ ابن کثیر نے سورہ مائدہ کی آیت یا ایها الذين آمنوا لاتخذوا اليهود والنصارى اولیاء کے تحت بحوالہ تفسیرطبری زہری سے نقل کیا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے یہودیوں سے دوستی قطع کردی مگر رئیس المنافقین عبد الله بن ابی نے ان سے تعلق قائم کیا اس وقت اللہ نے یا ایها الذين آمنوا والله يعصمک من الناس تک یہ سب آیتیں نازل فرمائیں ۔۔۔
معلوم ہوا کہ یہ آیت غدیر خم سے برسوں پہلے مدینہ میں بوقت شب نازل ہوئی اور اس
کے نزول کے وقت عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین بھی زندہ تھا۔
اب دیکھئے شیعہ حامد حسین صاحب نے اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں کہ یہ آیت غدیر خم کے روز نازل ہوئی تھی کیا دلائل پیش فرمائے ہیں۔
واضح ہو کہ شیعہ حامد حسین نے اپنی عادت شریفہ کے مطابق اس بحث کو طول تو بہت دیا ہے کئی جز و کاغذ سیاہ کر ڈالے مگر روایتیں کل چار پیش کی ہیں اور کارروائی کی ہے کہ ان روایتوں کو متبر کتابوں سے نقل کر کے ہر ہر کتاب کے اعتبار سے اس کو ایک جداگانہ روایت قرار دیا ہے اس طور پر چار روایتوں کو بہت سی روایات بنا کر ناز کیا ہے۔
♦️ پہلی روایت:
ابوسعید "خدری" کی ہے جس کو عطیہ کوفی روایت کرتا ہے عطیہ مذکور کی نسبت میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ضعیف ہے،
♦️امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں

بلغني انه كان ياتي الكلى وكان يسأله عن التفسير و كان يكنیه بابی سعيد فيقول قال ابو سعید

یعنی یہ عطیہ کلبی کے پاس جایا کرتا تھا اور اس سے تفسیر آیات پوچھا کرتا تھا اور کلبی کی کنیت اس نے ابو سعید رکھی تھی لہذا یہ کہا کرتا تھا کہ مجھ سے ابوسعید نے یوں بیان کیا۔
نیز امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں

حدثنا ابو احمد الزبيري سمعت الكلبي يقول کنانی عطية ابوسعید وقال ابن حبان سمع من ابی سعید احادیث فلما مات جعل يجالس الكلبي يحضر بصفته فاذا قال الكلبي قال رسول الله الله فيحفظه و كناه أبا سعيد ويروى منه فاذا قيل من
لینک بهذا فيقول حدثنی ابوسعيد فيتوهمون انه يريد اباسعيد الخدری وانما أراد الكلبي لا يحل کتب حديثه الا على جهة التعجب وقال السناجی ليس بحجة و كان يقدم عليا على الكل وقال ابن عدى كان يعد مع شيعة اهل
ورقة وقال الجوزجانی مائل وقال ابوداؤد ليس بالذي يعتمد عليه وقال ابو بكر البزار كان بعده في التشيع

صفحہ 2 از 5