جس میں مدعی شیعہ مناظر تھا اور مجیب مناظر اہل سنت تھا:
مناظر شیعہ:بعد از خطبہ: حضرت! مجھے اس وقت اہلِ سنت کے عدمِ ایمان بالقرآن کو دلائل سے ثابت کرنا ہے یہ میرے ہاتھ میں اہلِ سنت کے اصولِ فقہ کی معتبر کتاب نور الانوار ہے اس میں موجود ہے:
وَقَوْلُہُ بِلَا شُبْھَۃٍ اِحْتِرَازٌ عَنِ التَّسْمِیَۃِ لِاَنَّ فِیْھَا شُبْھَۃً، وَلِھٰذَا لَمْ یُکَفَّرْ جَاحِدُھَا۔
مطلب یہ ہے کہ بسم اللہ کے قرآن ہونے میں شبہ ہے، اس لیے اس کا منکر کافر نہیں دیکھیے! اہلِ سنت بسم اللہ کو قرآن نہیں مانتے۔
مناظرِ اہلِ سنت
بعد از خطبہ: حضرات!
بہت شور سنتے تھے پہلو میں، دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
آپ نے اندازہ لگایا ہوگا کہ بے چارے مولوی اسماعیل صاحب نے کتنے داؤں پیچ سے کام لیا میں نے پہلے مناظرے میں ان کے ائمہ معصومین کی روایات سے ثابت کر دیا کہ اہلِ تشیع کا نہ موجودہ قرآن پر ایمان ہے اور نہ ہو سکتا ہے مگر مولوی اسماعیل نے نہ ہمارے کسی امام کا کوئی قول پیش کیا، اور نہ حضراتِ خلفاءِ راشدینؓ کا کوئی قول نقل کیا، اور نہ ہمارے مشائخ میں سے کسی کا اعتقادِ تحریف پیش کیا نور الانوار کی جو عبارت اس نے پیش کی ہے وہ بھی پوری نہیں پڑھی خیانت سے کام لیا ہے اس عبارت سے آگے متصل یہ الفاظ صاف طور پر موجود ہیں:
وَالْاَصَحُّ اَنَّھَا مِنْہُ۔
سب سے معتبر صحیح قول یہی ہے کہ بسم اللہ قرآن میں سے ہے۔
غور کیجیے! اس نے کس قدر دیدہ دلیری اور مکر و فریب سے کام لیا ہے۔
2: مولوی اسماعیل صاحب! ذرا سوچو تو سہی! اگر اہلِ سنت بسم اللہ کے قرآن میں سے ہونے کے منکر ہیں تو پھر بسم اللہ کو قرآنِ مجید میں کس نے درج کیا ہے؟ جب کہ موجودہ قرآن اہلِ سنت کے اسلاف اور بزرگوں کا جمع کیا ہوا ہے، اور ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ کو لکھا گیا اگر اہلِ سنت بسم اللہ کو قرآن نہ مانتے تو ہر سورت کی ابتداء میں بسم اللہ کو کیوں لکھتے؟ آپ یہ ثابت کیجیے کہ ہمارے سوا کسی نے بسم اللہ کو قرآنِ شریف میں درج کیا ہے۔
3: اہلِ سنت کی حدیث کی معتبر کتاب مشکوٰۃ شریف صفحہ 193 پر ہے بسم اللہ کے نزول کے متعلق صاف طور پر منقول ہے:
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِﷺ لَا يُعْرَفُ فَصْلُ السُّوْرَۃِ حَتّٰى يُنْزَلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔(رواہ ابو داؤد)
ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک سورت سے دوسری سورت کو اس وقت تک جدا نہیں سمجھتے تھے جب تک کہ آپ پر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نازل نہ ہوتی تھی۔
یعنی ہر سورت کو جدا کرنے کے لیے بسم اللہ کو نازل کیا گیا تو متواتر طور پر اس کا قرآنِ مجید میں ہر سورت کی ابتداء میں درج ہونا، اس کے قرآن ہونے کے لیے کافی ثبوت ہے مگر اس کے ساتھ یہ حدیثِ شریف تو صراحتاً بتا رہی ہے کہ بسم اللہ کا نزول ہوا اور یہ قرآن ہے۔
4: نور الانوار کے اس مقام پر بسم اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے وہ تحریف کے متعلق نہیں ہے کہ بسم اللہ رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارک میں قرآن میں نہ تھی، بعد میں درج کی گئی بلکہ صاحبِ نور الانوار اس بات کو یقینی مانتے ہیں کہ بسم اللہ کو رسول اللہﷺ نے خود قرآنِ مجید میں ہر سورت کی ابتداء میں رکھا۔
صاحبِ نور الانوار جس شبہ کا ذکر کر رہے ہیں وہ ایک علمی عالمانہ بحث کی بناء پر ہے، جس کو بیچارہ اسماعیل کیا سمجھے؟ وہ یہ کہ علماءِ اہلِ سنت کا اس باب میں اختلاف ہے کہ رسول اللہﷺ نے بسم اللہ کو کس حکمت اور غرض کے لیے ہر سورت کی ابتداء میں لکھوایا؟ آیا فصلِ سورت کے لیے لکھوایا یا ہر سورت کا جز سمجھ کر لکھوایا؟
تحریفِ قرآن تو تب ہوتی کہ آپﷺ کے بعد کسی نے تغییر و تبدل کیا ہوتا جیسا کہ میں نے تمہاری معتبر کتابوں سے تحریف کی روایات پیش کی ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد قرآنِ مجید میں شیعہ کے نزدیک کمی و بیشی اور تغیر و تبدل کر دیا گیا، حتیٰ کہ اس میں کفر کے ستون کھڑے کیے گئے۔