جن پر دونوں فریق نے دو ماہ پہلے دستخط کر دیے تھے موضوع مقررہ من جانب اہلِ سنت و الجماعت:
1: تحریفِ قرآن از روئے کتبِ شیعہ۔
2: سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت بلا فصل بنصِ قرآن و حدیث متواترہ صحیح از کتب اہلِ سنت و الجماعت۔
موضوع مقررہ از جانب اہلِ تشیع:
1: حقانیت خلافت اصحابِ ثلاثہؓ بقرآنِ کریم و حدیث رسول اللہﷺ۔
2: مسئلہ فدک
یہ لطیفہ بھی ذکر کر دینا خالی از لطف نہیں کہ وہ دو ماہ پہلے شرائط طے کرتے وقت نہایت سوچ بچار کے بعد دوسرا موضوع شیعہ حضرات نے مسئلہ فدک مقرر کیا تھا مگر جب عین مناظرے کی حالت میں شیعہ مناظر مولوی محمد اسماعیل تحریفِ قرآن کے دلائل میں لا جواب اور مبہوت ہوئے تو انہوں نے مسئلہ فدک کے موضوع کو چھوڑ کر اس قسم کا دعویٰ باطل کر دیا کہ اہلِ سنت کے نزدیک بھی قرآن، اہلِ تشیع کی طرح محرف ہے اس لیے میں مسئلہ فدک کی بجائے اہلِ تشیع کی طرف سے دوسرا موضوع اہلِ سنت کے نزدیک قرآن کا محرف و مغير ہونا مقرر کرتا ہوں چنانچہ مناظرِ اہلِ سنت نے نہایت فراخ دلی سے اس کو اجازت دے دی کہ تم اپنا دوسرا موضوع جو چاہو رکھ لو، مجھے منظور ہے اس لیے دوسرا مسئلہ فدک کی بجائے مسئلہ تحریفِ قرآن اہلِ سنت کے نزدیک عین مناظرہ میں مقرر ہوا جس سے عام پبلک کے علاوہ خود شیعہ حضرات پر یہ حقیقت بالکل عیاں ہو گئی تھی کہ شیعہ مناظر، اہلِ سنت کے مناظر کے مقابلے میں لا جواب ہو کر اس قسم کی فرار کی راہیں اختیار کر رہا ہے۔
شرائط مناظرہ میں یہ ایک اصولی شرط لکھی گئی کہ کسی فریق کے مناظر کو ایک موضوع کی بحث کے درمیان دوسرا کوئی موضوع چھیڑنے کی اجازت نہ ہوگی اور کوئی مناظر خلطِ مبحث نہ کرے گا ورنہ اس کی شکست تصور ہوگی نیز یہ ضروری ہو گا کہ ایک موضوع ختم ہونے کے بعد دوسرا موضوع شروع کیا جائے، کیونکہ غلط ملط کرنے سے حق پوری طرح عوام کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔