تیسری وضاحت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تیسری وضاحت

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

یہ کہ پہلے اس کی گنجائش تھی کہ مسح کر لیا جائے، مگر بعد میں اس کو منسوخ کر دیا گیا۔ (چنانچہ مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں: وَادَّعَى الطَّحَاوِی وَابن حَزمٍ أَنَّ المَسحَ مَنسُوخٌ (تحفۃ الاحوذی: جلد 1 صفحہ50) امام طحاویؒ اور علامہ ابنِ حزمؒ نے دعویٰ کیا ہے کہ بے شک پاؤں پر مسح کرنا منسوخ ہے۔) اور حکم منسوخ ہونے کے باوجود اس کی قرأت درست ہے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں سورۃ البقرہ کی آیت 180 میں ہے کہ آدمی مرتے وقت والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت ضرور کرے، مگر پھر وراثت کے احکام نازل ہونے کے بعد آپﷺ نے فرمایا: لَا وَصِيَّةَ لوَارِثٍ وارث کے حق میں وصیت کرنا درست نہیں۔ اب اس آیت کی تلاوت باقی ہے مگر اس کا حکم منسوخ ہے۔ اسی طرح اَرۡجُلِكُمۡ کی قرأت لام کے کسرہ سے باقی ہے مگر اس کا حکم منسوخ ہے۔ اور نسخ کی دلیل حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس روایت کو بنایا جا سکتا ہے جس میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ سفر کے دوران ہم سے پیچھے رہ گئے اور عصر کی نماز کا وقت قریب تھا:  

فَجَعَلنَا نَتَوَضَّأُ وَنَمسَحُ عَلَىٰ أَرجُلِنَا، فَنَادَىٰ بِاعلى صَوتِهِ وَيلٌ لِلأَعقَابِ مِنَ النَّارِ مرتین أو ثلاثًا  

(بخاری: جلد1 صفحہ28)  

ترجمہ: پس ہم نے وضو کیا اور اپنے پاؤں پر مسح کیا تو آپﷺ نے بلند آواز سے دو یا تین مرتبہ فرمایا جو ایڑیاں خشک رہ گئیں ان کے لیے جہنم کی وادی ویل ہے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: كُنَّا نَمسَحُ عَلىٰ أَرجُلِنَا کہ ہم اپنے پاؤں پر مسح کر لیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل بتاتا ہے کہ پہلے اس کی گنجائش تھی، مگر جب حضورﷺ نے وَيلٌ لِلأَعقَابِ مِنَ النَّارِ کی وعید فرمائی تو اس سے پاؤں پر مسح کرنے کی گنجائش باقی نہ رہی۔