دلیل اول - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دلیل اول

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

جواب نمبر 2: اگر حلت کا حکم موبد و مؤقت ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ حرمت کا حکم بھی موبد و مؤقت نہ ہو کیونکہ حرام اور حلال دونوں الفاظ اضافی ہیں جو صفات ایک کے لیے لازم ہیں وہ دوسرے کے لیے بھی لازم ہونے چاہئیں، خصوصاً جب کہ دونوں الفاظ ایک ہی مقام اور ایک ہی سلسلہ گفتگو میں استعمال کیے گئے ہوں اگر یہ بات درست ہے تو ماں اور بہن بھی کبھی حرامِ موبد ہیں اور کبھی حرامِ مؤقت جو بحث محض ہے۔

اغراض بحث کے لیے اگر مان بھی لیں کہ صرف حلت ہی کا حکم مدت متعین اور غیر متعین کے لیے مختص ہے، اور

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

از قبیل "تخصیص بعد تعمیم" ہے اس لیے اس کا اطلاق صرف عقد متعہ پر ہی ہے، تو زیدہ العارفین ارشاد فرمائیں کہ منکوحہ کو بعد مجامعت اگر طلاق دی جائے تو اس کے لیے ادائیگی مہر کی نسبت سندِ قرآنِ کریم میں کہاں ہے؟

جواب نمبر 3: جب تک مولانا اس جگہ کے لیے کوئی معقول یا غیر معقول وجہ تخصیص نہیں فرمائیں گے، ہمیں ہر طرح سے حق حاصل ہوگا کہ قرآنِ مجید میں جہاں لفظ حلال استعمال ہوا ہے ہم اس کے معنیٰ بھی حلالِ موبد اور حلالِ مؤقت کے لیں سورہ مائدہ میں ہے: 

اُحِلَّتۡ لَـكُمۡ بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 1)

تو اس کے معنیٰ یہ ہونے چاہئیں کہ چارپائے تمہارے لیے مدتِ معین اور مدتِ غیر معین کے لیے حلال ہیں۔

ہندوستان میں موسم گرما میں گوشت کھانا عموماً مضر صحت ہوتا ہے حالانکہ سرد ممالک میں بلا ضرر سال بھر یہی کھایا جاتا ہے اس لیے ہمارے واسطے تو گوشت حلالِ مؤقت ہے، اور یورپین لوگوں کے لیے حلالِ موبد۔

پھر اس سورۃ میں دوسری جگہ ہے:

 اُحِلَّ لَـكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 96) 

تمہارے لیے حلال ہیں بحری شکار تو کیا اس کے یہ معنیٰ ہوئے کہ مچھلیاں وغیرہ کبھی حلالِ مؤقت ہیں اور کبھی حلالِ موبد؟ مولانا! حلالِ موبد اور حلالِ مؤقت کی تقسیم آپ نے بقائمی ہوش و حواس کی تھی؟

جواب نمبر 4: ان تین بیرونی جوابوں کے بعد ہم چوتھا جواب اندرونی دینا چاہتے ہیں جو آیتِ مذکورہ کی ترکیب و معانی کے لحاظ سے ہو ہم اگر یہ آیت: 

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

پر زور دے کر ترکیب و معانی پر تنقید کریں اور پھر اسے سیاق و سباق عبارت کی روشنی میں پڑھ کر دیکھیں تو اس کے معنیٰ حسب ذیل ہو سکتے ہیں:

اس آیت میں "ف" حرف تفریع و تعقیب کا ہے اس لیے بروئے قواعد نحو مضمون ما قبل و ما بعد کو جو اصل و فرع ہیں اکھٹا پڑھنا چاہیے۔ لفظ "ما" اسم موصول ہے جو بلحاظ لفظ کے واحد مذکر اور بلحاظ معنیٰ کے جمع مؤنث ہے اور اس جگہ مترادف ہے: 

وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

کے استمتعتم بمعنیٰ انتفعتم ہے جس کی ضمیر راجع ہے طرف يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا الخ کے لفظ "ہ" واحد مذکر ہے جس کی ضمیر راجع ہے طرف "ما" بلحاظِ لفظ کے مِنۡهُنَّ وَاٰتُوۡهُنَّ" وَاُجُوۡرَهُنَّ کی ضمیریں راجع ہیں طرف "ما" کے بلحاظِ معنیٰ کے اُجُوۡرَهُنَّ کے معنیٰ مہورہن ہے جیسا کہ اس آیت کے آگے ہی مذکور ہے:

فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 25)

یا جیسے آیت:

وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ‌ الخ۔

(سورۃ الممتحنہ: آیت 10)

میں ہے یا جیسے سورۃ احزاب میں آیا ہے:

اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ اَزۡوَاجَكَ الّٰتِىۡۤ اٰتَيۡتَ اُجُوۡرَهُنَّ الخ۔

(سورۃ الاحزاب: آیت 50) 

یا جیسے سورہ مائدہ میں ہے:

وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ مُحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 5)

پس آیت:

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

کو آیات ما قبل و ما بعد سے غیر منقطع رشتہ ہے۔ اور اسے ابتدائے کلام پر حمل کرنا صریحاً باعتبار عربیہ باطل ہے اس آیت کو ما قبل و ما بعد کے ربط سے پڑھا جائے تو عبارت اس طرح ہوگی:  

اے ایمان والو مت نکاح کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا تھا۔ حرام ہیں تم پر واسطے نکاح کے تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں اور ان کے علاوہ اور سب عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں بشرط یہ کہ مہر کے بدلے ان سے نکاح کرنے والے ہو نہ کہ زنا کرنے والے۔ پس جب ان (منکوحہ عورتوں) سے فائدہ اٹھا لو (یعنی جماع کر لو، کیونکہ بعد نکاح کے سوائے مجامعت کے اور کوئی تمتع حاصل ہو نہیں سکتا) تو ان منکوحہ عورتوں کو ان کے مقرر کردہ مہر ادا کر دو اور ہرج نہیں ہے اگر مقرر کیے پیچھے مہر کو کم و بیش کرنے پر باہم راضی ہو جاؤ۔

قرآنِ کریم میں یہی ایک آیت ہے جسے خواہ مخواہ شیعوں نے علت متعہ کے حق میں تصور کر رکھا ہے، کیونکہ اس میں لفظ اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ کا استعمال ہوا ہے۔ اس آیتِ کریمہ کے جو معنیٰ ہم نے اوپر درج کیے ہیں اس پر اعتراضات فریق مخالف نے پیش کیے ہیں۔


صفحہ 2 از 2