دلیل اول - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دلیل اول

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

جب ہم قرآن سے مسئلہ زیرِ بحث کے متعلق استفتاء کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے اول اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم سورۃ النساء کے شروع میں اس لفظ سے صادر فرمایا ہے: 

فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ۞

(سورۃ النساء: آیت 3)

وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 4)

ترجمہ: بس نکاح کرو جو عورتوں میں سے تمہیں پسند آئے دو، تین تین، چار پھر اگر تم کو اندیشہ ہو کہ ایک سے زیادہ بیبیاں نکاح کرنے کی صورت میں تم انصاف نہیں کر سکو گے تو بس ایک ہی عورت سے نکاح کرنا، یا جو لونڈی تمہارے قبضہ میں ہو اس پر قناعت کرنا۔ نا انصافی سے بچنے کے لیے یہ تدبیر زیادہ تر قرین مصلحت ہے۔ اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے ڈالو۔

یہ آیت پڑھ کر ذیل کے سوالات قدرتاً دل میں پیدا ہوتے ہیں:

1: کیا دنیا بھر میں جو آزاد عورتیں ہیں خواہ وہ ہماری رشتہ دار ہیں یا غیر رشتہ دار ان سب میں سے بلا قید ہمیں نکاح کے لیے انتخاب کا حق حاصل ہے یا ان میں بعض ہمارے حدود انتخاب سے خارج ہیں؟  

2: مہر دینا کب لازم آتا ہے اور کس قدر؟

سوال نمبر 1: کی نسبت حق تعالیٰ قبیل "تخصیص بعد تعمیم" صریح آیات کے ذریعہ ان عورتوں کا ذکر تفصیلاً کر دیتا ہے جن سے ہم نکاح کر سکتے ہیں:

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ اُمَّهٰتُكُمۡ وَبَنٰتُكُمۡ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 23)  

وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

ترجمہ: حرام کر دی ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں وغیرہ۔ اور ان حرام شدہ عورتوں کے علاوہ سب عورتیں تم پر واسطے نکاح کے حلال ہیں بشرط یہ کہ ان کو مال خرچ کر کے حاصل کرو اور احسان کرنے والے ہو نہ کہ سفاح کرنے والے، یعنی قید نکاح میں لانے کے لیے تم پر حلال ہے نہ کہ ان کے ساتھ محض شہوت رانی کرو۔

پس سوال اول کا جواب یہ ہے کہ ان حرام شدہ عورتوں کے علاوہ زمانہ بھر کی آزاد عورتیں ہم پر حلال ہیں اور ہم ان سے شرعی طور پر نکاح کر سکتے ہیں۔

سوال نمبر 2: کا جواب بھی از قبیل "تخصیص بعد تعمیم" اللہ تعالیٰ سورۃ النساء اور سورۃ البقرہ میں علی الترتیب اس طرح دیتا ہے:

 فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

ترجمہ: پس جب تم اپنی (منکوحات سے) فائدہ اٹھا لو یعنی مقاربت حاصل کر لو، تو ان کے مقرر کردہ مہر پورے کے پورے ادا کرو۔

نیز: وقولہ وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 237) 

ترجمہ: اور اگر منکوحہ عورتوں کو ان سے مقاربت کیے بغیر طلاق دے دو تو ان کا مہر مقرر ہو چکا ہے تو اس سے نصف ادا کر دو۔ لیکن اگر صورت ایسی ہے کہ کوئی مہر بین فریقین مقرر نہیں ہوا تھا تو پھر حکم ہے: 

عَلَى الۡمُوۡسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الۡمُقۡتِرِ قَدَرُهٗ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 236) 

ترجمہ: مرد اپنی حیثیت کے موافق کچھ دے دے۔

مذکورہ بالا دونوں سوالوں اور ان کے جوابوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حاصلِ کلام یہ ہوتا ہے کہ لونڈیوں کے علاوہ دنیا بھر کی آزاد عورتیں (ماسوائے ان کے جو ہم پر حرام کی گئی ہیں) ہم پر نکاح کے لیے حلال ہیں اور ان حلال شدہ ذات کے ساتھ سوائے نکاح کے ہمیں مقاربت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور پھر نکاح کے بعد مجامعت کی ہے تو پورا مقرر کردہ مہر، ورنہ نصف مہر دینا واجب ہے۔

جمہور اہل تشیع ایسے صاف حکم کے ہوتے ہوئے محض ہٹ دھرمی سے آیت:

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

کو متعہ کی علت میں قرار دیتے ہیں اور اپنے دعوے کو اس طرح ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آیت:

وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

سے حلت دونوں قسم کی ثابت ہوتی ہے: نکاح دائمی ہو یا منقطع یعنی متعہ۔ اور اس کے بعد آیت مذکور از قبیل "تخصیص بعد تعمیم" جناب اقدس الٰہی حکم فرماتا ہے: 

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

ترجمہ: یعنی وہ عورتیں کہ جن سے تم متعہ کرو بس دو تم انہیں ان کے اجر جن کا دینا واجب ہے۔

جواب نمبر 1: اس امر میں شیعہ سنی علماء سب متفق ہیں کہ آیت: 

فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 23) 

میں جو احکام متعلق نکاح اور مہر کے مرقوم ہیں وہ از قبیل تعمیم ہیں کیونکہ ان میں بغیر استثناء نکاح و مہر کا ذکر ہے نہ تو محرماتِ ابدیہ کی کوئی تخصیص کی گئی ہے، نہ مہر کے متعلق باصورت تعین رقم و بلا تعین رقم ادائیگی معاوضہ کی تخصیص کی گئی ہے خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ طلاق قبل از مقاربت یا بعد از مقاربت عمل میں آئے۔

پس ایسے احکام جو از قبیل تعمیم صادر ہوئے ہیں ان کے بعد ان کی تخصیص ضروری تھی چنانچہ نکاح کے متعلق محرماتِ ابدیہ کا تفصیلاً ذکر کر کے اللہ تعالیٰ از قبیل تخصیص فرماتا ہے اور ادائیگی مہر کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:

فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 23) 

اور اگر قبل از مقاربت طلاق عمل میں آئے تو ارشاد باری تعالی از قبیل تخصیص یوں صادر ہوتا ہے:

فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 237) 

تخصیص تو ضروری تھی منکوحات کی اور ادائیگی مہر کی، نہ کہ نکاح کی جس کی تخصیص تو حکم تعمیم میں ہی نکاح و ملک کی صورت میں پہلے ہی مندرج ہے پھر تخصیص کی تخصیص فعلِ عبث ہے۔

صفحہ 1 از 2