دلیل نمبر 5 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دلیل نمبر 5

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

دلیل نمبر 5:جس طرح خداوندِ کریم نے اگلی امتوں کی آزمائشیں کی تھیں چنانچہ حضرت طالوت علیہ السلام کی امت کو حکم دیا تھا کہ وہ نہر سے گزرتے وقت ایک اوج سے زیادہ پانی نہ پئیں اسی طرح متعہ سے امتِ محمدیہ کا امتحان متصور ہے۔ (برہان المتعة)

جواب: امتحان میں ہمیشہ انسان کی آزادی پر قیود عائد کر کے دیکھا جاتا ہے کہ وہ اہل ہے یا نا اہل کثرت کو حرام قرار دیکر قلت پر قناعت کا حکم دیا جاتا ہے جیسا کہ طالوت کی قوم کی مثال سے ظاہر ہے کہ بھرے دریا میں سے صرف ایک چلو پانی پینے کی اجازت دی گئی تھی مگر امتحانِ متعہ ایک عجیب امتحان ہے کہ جس قدر زیادہ عورات سے شہوت رانی کی جائے اسی قدر زیادہ ثواب اور اسی قدر امتحان میں زیادہ کامیابی! اگر فی الواقع یہ امتحان ہے تو یہ ایمان کا امتحان نہیں بلکہ قوتِ باہ کا امتحان ہے۔

شاید بقولِ علمائے متعہ اللہ پاک کو انسان کی بعثتِ ثانیہ میں گھوڑوں کی بجائے انسانوں کے سٹیڈ بنانے منظور ہوں گے اور ان کے لیے سرکاری سانڈ اسی دنیا میں منتخب کرنا چاہتا ہے۔