ہر علت کا معلول اور ہر سبب کا نتیجہ ہوا کرتا ہے اگر نہیں ہے تو وطی المتعہ کا نتیجہ کہیں چلتا پھرتا نظر نہیں آتا زنا سے مکروہ اور حقیر فعل تک کے بیسیوں نتائج ہندوستان کے ہر چھوٹے سے چھوٹے قصبے اور بڑے سے بڑے شہر میں "قوم طوائف" کے لباس میں ہر کہ ومہ کی نظروں میں کھٹکتے ہیں مگر تمام سر زمین ہند کی روز افزوں شیعہ آبادی میں ایک بھی ولد المتعہ پیش نہیں کر سکتی ولد الزنا تو کوٹھوں کی چھتوں پر اپنے وجودِ نامسعود کی نمائش کریں مگر ولد المتعہ خدا جانے کس قعرِ گمنامی میں روپوش ہیں کہ فرشتوں تک کی نظروں سے اوجھل ہیں گویا انہیں متعہ کے اصل لباس میں پیش ہوتے ہوئے شرم مانع ہو نہ تو متاعی مائیں علی رؤس الاشہاد متعہ کا اقبال کرنے کو تیار ہیں اور نہ اولاد المتعہ ہی اپنے پیدا کرنے والوں کی محنت شاقہ کی شکر گزاری کے ساتھ داد دینے کی جرأت کر سکتے ہیں اس لیے متعہ شرعی فعل نہیں ہو سکتا ورنہ شیعوں کی روز افزوں مردم شماری کے جدول ساز ایک شریف النسل ممتوعہ اور ایک ولد المتعہ کو تو پیش کریں۔