عدالتی معاملات
علی محمد محمد الصلابی1۔ ایک پاگل عورت کا معاملہ:
ابی ظبیان جنبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس ایک عورت پیش کی گئی جس نے زنا کر لیا تھا، حضرت عمرؓ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا، لوگ اسے رجم کرنے جارہے تھے کہ راستہ میں حضرت علیؓ سے ملاقات ہو گئی، حضرت علیؓ نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے؟لوگوں نے بتایا کہ اس نے زنا کیا ہے اور حضرت عمرؓ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ہے، حضرت علیؓ نے عورت کو ان سے چھڑا لیا اور سب کو حضرت عمرؓ کے پاس بھیج دیا، وہ سب واپس گئے تو سیدنا عمر فاروقؓ نے ان سے پوچھا: کیوں لوٹ آئے؟ انھوں نے کہا: حضرت علیؓ نے ہمیں واپس لوٹا دیا ہے، حضرت عمر فاروقؓ نے سن کر کہا: ضرور کوئی بات ہے، تبھی علی نے ایسا کیا ہے، ورنہ ایسا نہ کرتے، پھر عمر فاروقؓ حضرت نے علیؓ کو بلا بھیجا، حضرت علیؓ تشریف لائے آپ کے چہرہ پر ناراضی کے آثار تھے، حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیا وجہ ہے، آپ نے ان لوگوں کو کیوں واپس کر دیا؟ حضرت علیؓ فرمایا: کیا آپ نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے:
رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَہٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقَظَ وَ عَنِ الصَّغِیْرِ حَتّٰی یَکْبَرَ، وَعَنِ الْمُبْتَلٰی حَتَّی یَعْقِلَ۔
’’تین قسم کے لوگ مرفوع القلم ہیں، سونے والا جب تک کہ بیدار نہ ہوجائے، بچہ، جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے، پاگل، جب تک کہ اس کا دماغ صحیح نہ ہوجائے۔‘‘
سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا: ہاں میں نے سنا ہے، حضرت علیؓ نے کہا: تو یہ عورت فلاں قبیلہ کی پاگل ہے، ممکن ہے زانی نے ایسے وقت میں اس سے زنا کیا ہو جب اس کے ہوش و حواس صحیح نہ رہے ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ تو معلوم نہیں ہے۔ پھر آپ نے اسے رجم نہ کیا۔
(مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر (1328) یہ حدیث صحیح لغیرہٖ ہے۔)
حضرت عمر فاروقؓ نے پہلا فیصلہ اس بنا پر دیا تھا کہ آپ کو عورت کے جنون کا علم نہیں تھا۔
