شیعہ اور اہل بیت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

شیعہ اور اہل بیت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 4

♦️        حدیث میں بھی آل کا لفظ حضورﷺ کے رشتہ داروں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرات حسنینؓ بچپن میں کھجور کے ڈھیر کے پاس کھیل رہے تھے، کھیلتے کھیلتے ان میں سے کسی نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی۔ آپ کی نگاہ پڑی تو منہ سے کھجور نکلوادی اور فرمایا: اما علمت ان آل محمد لا یاکلون الصدقۃ (کیا تمہیں پتہ نہیں کہ آل محمد صدقہ کا مال نہیں کھاتے)۔

_*آل بمعنی اصحاب ومتبعین:*_ 

♦️قولہ تعالیٰ: 

وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ

(سورۃالبقرہ: آیت نمبر 49)

ترجمہ: اور وہ (وقت یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی جو تمہیں بڑا عذاب دیتے تھے۔  

♦️        یہاں آل سے مراد فرعون کی پولیس اور حفاظتی دستے ہیں، جو اسرائیلیوں کو پکڑ پکڑ کر سزا دیتے تھے جنھیں اللہ نے بعد ازاں ہلاک کردیا،ارشاد فرمایا: 

وَ اِذۡ فَرَقۡنَا بِکُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَیۡنٰکُمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ  اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿50﴾

(سورۃ البقرہ: آیت نمبر 50)

اور (یاد کرو) جب ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ ڈالا تھا چنانچہ تم سب کو بچالیا تھا اور فرعون کے لوگوں کو (سمندر میں) غرق کرڈالا تھا اور تم یہ سارا نظام دیکھ رہے تھے 

         سمندر میں جو لوگ غرق ہوئے تھے، وہ فرعون کا لشکر تھا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُوۡدِہٖ فَغَشِیَہُمۡ مِّنَ  الۡیَمِّ  مَا غَشِیَہُمۡ ﴿ؕ78﴾

(سورہ طہ: آیت نمبر 78)

چنانچہ فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا پیچھا کیا تو سمندر کی جس (خوفناک) چیز نے انہیں ڈھانپا، وہ انہیں ڈھانپ کر ہی رہی۔

  ♦️      اسی طرح جب ملک فرعون میں عذاب آیا تو وہ بھی تمام قوم پر آیا جو فرعون کی پرستش کرتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ولقد اخذنا آل فرعون بالسنین

(اعراف:13) 

(ہم نے نافرمانیوں کے سبب فرعون کی قوم کو قحط سالی میں پکڑا)۔  اس جگہ بھی آل فرعون سے مراد فرعون کی قوم ہے جو اللہ کی طرف سے عذاب کا شکار ہوئی۔

♦️        اسی طرح ایک آیت میں فرعونیوں کے لیے سخت عذاب کی پیشین گوئی کی گئی، ارشاد ہوا: 

اَلنَّارُ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا ۚ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ ۟ اَدۡخِلُوۡۤا  اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴿46﴾

(سورہ غافر: آیت نمبر 46)

آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت آجائے گی (اس دن حکم ہوگا کہ) فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔ 

♦️        ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سے مراد خاندان ہی نہیں ؛ بلکہ متبعین بھی ہیں ۔ قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر آل فرعون کالفظ آیا ہے، ان میں کسی جگہ بھی آل سے مراد محض فرعون کے خاندان والے نہیں ہیں ؛ بلکہ وہ سب مراد ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں فرعون کے طرفدار تھے۔

♦️        یہ لفظ حدیث میں ازواج مطہراتؓ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، صحیح بخاری میں ہے، حضرت انسؓ فرماتے ہیں : 

ما امسی عند آل محمد صاع بر ولا صاع حب وان عندہ لتسع نسوۃ

(صحیح بحاری، کتاب البیوع، باب شراء النبی بالنسیئۃ) 

(کوئی شام آل محمدﷺ پر ایسی نہیں گذرتی تھی جب ان کے پاس ایک صاع گیہوں یاکوئی دوسرا اناج ہو؛ جبکہ آپﷺ کی نو بیویاں تھیں)۔

♦️        صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں :

  انا کنا آل محمد لنمکث شہرا ما نستوقد بنار ان ہو الا التمر والماء

(صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقاق، باب ما بین النفختین) 

(ہم آل محمدﷺ کے گھروں میں ایک ایک مہینہ گزر جاتا تھا چولھا نہیں جلتا تھا، ہم صرف کھجور اور پانی پر گزارا کرتے تھے)۔

♦️        معلوم ہوا کہ لفظ ’’آل‘‘ اقرباء وازواج رسولﷺ اور اصحاب ومتبعین سب کے لیے استعمال ہوتا ہے، صرف رشتہ داروں کے لیے نہیں ۔

♦️        *کلمہ اہل اور آل میں فرق:* کسی شخص کے اہل بیت وہ ہوتے ہیں جو اس کے قریبی اور رشتہ دار ہوں ، خواہ وہ اس کے متبع ہوں یا نہ ہوں اور آل وہ کہلاتے ہیں جو کسی کے متبع ہوں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔ دوسری بات یہ کہ آل عام لوگوں کی اولاد کے لیے استعمال نہیں ہوتا، یہ صرف شاہانِ مملکت اور عظیم شخصیات کی اولاد اور ان کی نسل یا ان کے اصحاب ومتبعین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

 ♦️       *درود ابراہیمی میں آل کے معنی:* نماز میں پڑھے جانے والے درود میں آل محمد وآل ابراہیم کا مطلب اور اس کی تفصیل میں جانے سے پیشتر یہ جان لینا مناسب ہے کہ غیر نبی پر درود بھیجنا جائز ہے یا نہیں ؟

 _*درود علیٰ غیر النبی:*_ 

♦️صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ترجمۃ الباب قائم کیا: ھل یصلی علی غیرالنبی (کیا غیرنبی پر درود بھیجا جاسکتا ہے؟) اور پھر اس کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں :

  عن ابن ابی اوفٰی قال کان اذا اتی رجل النبی بصدقۃ قال اللّٰہم صل علیہ فاتاہ ابی بصدقۃ فقال اللّٰہم صل علی آل ابی اوفی

(صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب ہل یصلی علی غیرالنبی)

(حضرت ابن اوفی بیان کرتے ہیں کہ آپ کے پاس جو کوئی صدقہ لے کر آتا تو آپ فرماتے، اے اللہ اس پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما۔ اسی دوران میرے والد (ابو اوفی) بھی صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: اے اللہ آل ابی اوفی پر صلاۃ (رحمت) نازل فرما)۔

♦️        اسی طرح امام ابوداؤد نے ترجمۃ الباب قائم کیا: 

الصلاۃ علی غیرالنبی۔

اس باب کے تحت امام ابودائود یہ حدیث لائے ہیں : 

عن جابر بن عبد اللّٰہ ان امرأۃ قالت للنبی صل علیّ و علی زوجی فقال النبی وعلی زوجک

(ابودائود، کتاب الصلاۃ، (باب تفریع ابواب الوتر) باب الصلاۃ علی غیرالنبی)

(اک عورت نے کہا کہ میرے اورمیرے شوہر کے لیے دعاء رحمت فرمائیں ۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تم پر اور تمہارے خاوند پر رحمت نازل فرمائے)۔

♦️        ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں حضورﷺ کے سوا  دوسروں پر بھی درود بھیجنا جائز ہے؛ لیکن مستقلاً اور علیحدہ طور پر درود علی غیرالنبی کے سلسلہ میں اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ درست نہیں ۔ یہ رائے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور احناف سے منقول ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا:

ما اعلم الصلاۃ ینبغی علی احد من احد الا علی النبی

(فتح الباری، شرح صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب ہل یصلی علی غیرالنبی)

صفحہ 3 از 4