شیعہ اور اہل بیت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

شیعہ اور اہل بیت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 4

 ♦️       الغرض اہل بیت میں حضورﷺ کی ازواج مطہراتؓ کا داخل ہونا یقینی ہے؛ بلکہ آیت کاخطاب ہی ان سے ہے؛ لیکن چونکہ اولاد وداماد بھی اہل بیت (گھر والوں ) میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے روایات، مثلاً آپ کا حضرت فاطمہ زہراؓ، علیؓ، حسنؓ وحسینؓ کو ایک چادر میں لے کر  اللّٰہم ہولاء اہل بیتی وغیرہ فرمانا اور حضرت فاطمہؓ کے مکان کے قریب سے گذرتے ہوئے: الصلاۃ اہل البیت! اور  یرید اللّٰہ لیذہب عنکم الرجس الخ  سے خطاب کرنا اگر سنداً اور درایۃً درست ہے تو وہ اسی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے تھا کہ یہ حضرات بھی اس لقب کے مستحق اور فضیلت تطہیر کے اہل ہیں ۔ وگرنہ ہجری 5 یا 6 کے اوائل میں جس وقت حضورﷺ نے حضرت فاطمہؓ، علیؓ اور حسنؓ و حسینؓ کو ایک چادر میں لے کر یہ فرمایا تھا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں ۔ حضورﷺ اپنی بیمار بیٹی زینبؓ جس کا گھر بار سب کچھ اجڑ چکا تھا اپنے بچوں کے ساتھ آپﷺ کے گھر پناہ لیے ہوئے تھی، حضورﷺ اس کو اپنی چادر میں لینے سے کیسے بھول سکتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ کے سوا حضورﷺ کی تمام بیٹیوں میں ایک وہی حیات تھی، بقیہ دونوں حضرت رقیہؓ اور ام کلثومؓ کا انتقال ہوچکا تھا۔

 ⏺️       دوسرے یہ کہ واقعہ کساء سے متعلق تمام روایات اکٹھا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک بار کا نہیں ؛ بلکہ کئی بار کا ہے۔ اور آیت تطہیر ایک بار نہیں ، کئی بار نازل ہوئی۔ اس لیے کہ یہ واقعہ کہیں ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے گھر کا بتایا جاتا ہے، کہیں حضرت فاطمہؓ کے گھر کا اور کہیں حضرت عائشہؓ کے گھر کا۔ اس لیے کہ یہ واقعہ حضرت عائشہؓ سے بھی مروی ہے۔ ان روایات میں آپس میں اتنا اضطراب ہے کہ ان سے کسی نتیجہ پر پہنچنا دشوار ہی نہیں ؛ بلکہ ناممکن ہے۔ مزید برآں یہ کہ ان تمام روایات کے رواۃ یا تو مجروح ہیں یا ان پر کلام ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امام بخاریؒ اس سلسلہ میں بالکل خاموش ہیں باوجود اس کے کہ انھوں نے اپنی صحیح میں اس سے متعلق کئی ابواب قائم کیے ہیں ۔

         ان روایات کو اگر قابل قبول مان لیا جائے تب بھی ان سے حصر کے معنی نہیں نکلتے؛ بلکہ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں :

فذھب الکلبی ومن وافقہ فصیرھا لہم خاصۃً

(تفسیر قرطبی، سورہ احزاب، آیت:33)

کلبی (رافضی) اور سبائی ٹولہ ہی اس بات کا مدعی ہے کہ یہ (آیت تطہیر پنج تن کے بارے میں نازل ہوئی)۔

         ابن عاشور فرماتے ہیں کہ یہ وہم (پنجتن کا) تابعین کے زمانہ کی دین ہے جو قرآن کریم سے متصادم ہے۔ جہاں تک حدیث کساء کی بات ہے کہ اس میں ایسا ایک لفظ بھی نہیں جس سے حصر کے معنی نکلتے ہوں ( کہ آیت تطہیر سے صرف پنجتن مراد ہوں)۔ صیغہ ھؤلاء اہل بیتی مانندِ کلام الٰہی  ان ھؤلاء ضیفی (الحجر:68) کے ہے، جس کے معنی یہ نہیں کہ ان کے سواء اس میں کوئی دوسرا شامل نہیں ۔ بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اہل بیت (پنج تن) کے معنی کو حدیث کساء سے غصب کیا ہے اور قرآن کریم کو پیچھے چھوڑدیا۔ جس میں ازواج نبویﷺ کو مخاطب کیاگیا ہے۔ (تفسیر التحریر والتنویر، تالیف: محمد طاہر بن عاشور، سورہ احزاب، آیت:33)۔

 ♦️       واضح رہے کہ حضورﷺ جس طرح حسنؓ وحسینؓ سے محبت کرتے تھے انھیں کندھوں پر بٹھاتے تھے اسی طرح حضرت زینبؓ کی بیٹی امامہؓ اور بیٹے علیؓ سے بھی محبت کرتے تھے (پیچھے گذرچکا کہ) آپﷺ امامہؓ کو گود میں لے کر نماز پڑھتے تھے۔ اسی طرح علیؓ بن زینبؓ کو فتح مکہ کے دن اپنی سواری پر اپنے ساتھ بٹھانے کا اعزاز بخشا تھا؛ مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اپنے نبیﷺ کے سب سے بڑے نواسے اور نواسی کو جانتی تک نہیں ۔ حتیٰ کہ اکثر علمائے کرام بھی اپنے خطبات میں ان کا تذکرہ نہیں کرتے۔ اہل بیت میں صرف حسنؓ وحسینؓ شامل ماننا اور حضورﷺ کے دوسرے نواسے و نواسیوں کو اس سے خارج کرنا ان کے ساتھ غایت درجہ نا انصافی کی بات ہے۔

✳️        _*آل محمدﷺ :*_ عربوں میں کسی شخص کے آل سے مراد وہ سب لوگ سمجھے جاتے ہیں جو اس کے ساتھی، مددگار اور متبع ہوں خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ انہی سب معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے:

 
*_آل بمعنی قرابت دار:_*

♦️ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ کَذٰلِکَ یَجۡتَبِیۡکَ رَبُّکَ وَ یُعَلِّمُکَ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ وَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اٰلِ یَعۡقُوۡبَ کَمَاۤ  اَتَمَّہَا عَلٰۤی  اَبَوَیۡکَ  مِنۡ قَبۡلُ  اِبۡرٰہِیۡمَ وَ  اِسۡحٰقَ ؕ

(سورہ یوسف: آیت نمبر 6)

اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کرے گا، اور تمہیں تمام باتوں کا صحیح مطلب نکالنا سکھائے گا (جس میں خوابوں کی تعبیر کا علم بھی داخل ہے) اور تم پر اور یعقوب کی اولاد پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جیسے اس نے اس سے پہلے تمہارے ماں باپ پر اور ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی۔ 

  ♦️      اس جگہ آلِ یعقوب سے مراد حضرت یوسفؑ کے بھائی اور ان کی اولاد ہیں جن کی نسل سے اللہ نے سینکڑوں انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے۔

♦️        مثال دوم: ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ  وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ33﴾

(سورہ آل عمران: آیت نمبر 33)

اللہ نے آدم، نوح، ابراہیم کے خاندان، اور عمران کے خاندان کو چن کر تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی۔ 

♦️        اللہ رب العزت نے خود اس آیت میں آل سے نسل اور ذریت کو مراد لیا ہے۔

 ♦️       مثال سوم: ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

اِنَّاۤ  اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ حَاصِبًا  اِلَّاۤ  اٰلَ لُوۡطٍ ؕ نَجَّیۡنٰہُمۡ  بِسَحَرٍ ﴿ۙ34﴾

(سورۃالقمر: آیت نمبر 34)

ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔ 

♦️        یہاں آل سے مراد حضرت لوطؑ کی اولاد (بیٹیاں) ہیں ؛ کیوں کہ ان کی قوم میں سوائے ان کی دوبیٹیوں کے کوئی ایمان نہیں لایا تھا حتٰی کہ ان کی بیوی بھی نہیں جسے اللہ نے عذاب میں ہلاک کر دیا۔

صفحہ 2 از 4