أَن مُعَاوِيَةَ سَم الحَسَنَ، فَهٰذَا مِمَّا ذَكَرَهُ بَعضُ النَّاسِ، وَلَم يَثبُت ذَلِكَ بِبَيِّنَةٍ شَرعِيَّةٍ، وَلَا إِقرَارٍ مُعتَبَرٍ، وَلَا نَقلٍ يُجزَمُ بِهِ، وَهٰذَا مِمَّا لَا يُمكِنُ العِلمُ بِهِ، فَالقَولُ بِهِ قَولٌ بِلَا عِلمٍ۔
(منہاج السنۃ: جلد2 صفحہ 225 فصل إذا نبین ہٰذا فیقال: قول الرافضۃ من افسد الاقوال الخ)
ترجمہ: بعض لوگوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسنؓ کو زہر دیا ہے یہ چیز دلیلِ شرعی سے ہرگز ثابت نہیں ہے، نہ ہی اقرارِ معتبر سے اور نہ ہی کسی نقلِ یقینی سے یہ تو ایسی بات ہے جس پر یقین کر لینا بلا دلیل یقین کر لینے کے مترادف ہو گا۔