بدعت کی تعریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

بدعت کی تعریف

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 4 از 4

(حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ166، 168 تحت بدعت کا الزام)

4: مصنف نے تو ایک بے سند قول پیش کر کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھی بدعتی کہہ دیا۔ اب ہم ایک باسند قول پیش کر کے ان سے اس کا جواب طلب کرتے ہیں آنحضرتﷺ کے ارشاد کا ایک مفہوم ہے: جس حاملہ عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو وضعِ حمل سے اس کی عدت پوری ہو جاتی ہے۔ 

(بخاری: جلد2 صفحہ802، کتاب الطلاق، باب: وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ،

مسلم: جلد1 صفحہ486 کتاب الطلاق، باب: انقضاء عدۃ المتوفی عنہا وغیرہا بوضع الحمل)

حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ (متوفی 852ھ) فرماتے ہیں: 

وَقَدْ قَالَ جُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ مِنَ السَّلَفِ وَأَئِمَّةِ الْفُتْيَا فِی الْأَمْصَارِ: إِنَّ الْحَامِلَ إِذَا مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا تَحِلُّ بِوَضْعِ الْحَمْلِ وَتَنْقَضِی عِدَّةُ الْوَفَاةِ وَخَالَفَ ذَلِكَ عَلِی فَقَالَ تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَمَعْنَاهَا أَنَّهَا إِنْ وَضَعَتْ قَبْلَ مُضِی أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ تَرَبَّصَتْ إِلَى انْقِضَائِهَا وَلَا تَحِلُّ بِمُجَرَّدِ الْوَضْعِ، وَإِنِ انْقَضَتِ الْمُدَّةُ قَبْلَ الْوَضْعِ تَرَبَّصَتْ الْوَضْعَ أَخْرَجَهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَلِی بِسَنَدٍ صَحِيحٍ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَمَا فِی هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَيُقَالُ إِنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ، وَيُقَوِّيهِ أَنَّ الْمَنْقُولَ عَنْ أَتْبَاعِهِ وِفَاقُ الْجَمَاعَةِ فِی ذَلِكَ۔ 

(فتح الباری: جلد9 صفحہ 469 کتاب الطلاق باب واللائی یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم الخ)  

ترجمہ: جمہور علمائے سلف اور ائمہ فتویٰ کا قول یہ ہے کہ حاملہ عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو وضعِ حمل کے ساتھ ہی وہ آزاد ہو جائے گی اور اس کے ساتھ اس کی عدت پوری ہو جائے گی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ اس کے خلاف ہے، چنانچہ ان کے نزدیک ایسی عورت دونوں مدتوں میں بعد والی مدت تک عدت گزارے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کو وضعِ حمل چار ماہ دس دن سے پہلے ہو گیا تو چار ماہ دس دن تک عدت گزارے گی، صرف وضعِ حمل سے آزاد نہ ہو گی، اور اگر مدتِ مذکورہ وضعِ حمل سے پہلے پوری ہو گئی تو وضعِ حمل تک انتظار کرے گی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے یہ فتویٰ سعید بن منصور اور عبد بن حمید نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جیسا کہ واقعہ میں مذکور ہے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی یہی تھا، پھر انہوں نے اس قول سے رجوع کر لیا، اور ان سے اجماعِ امت کے اتباع کا منقول ہونا اس (رجوع) پر قوی دلیل ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہی فتویٰ فروع کافی (جلد2 صفحہ 114)

من لا یحضرہ الفقیہ (جلد3 صفحہ329)

تہذیب الاحکام (جلد8 صفحہ150) 

میں بھی موجود ہے۔

بندہ پرور! منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر


صفحہ 4 از 4