بدعت کی تعریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

بدعت کی تعریف

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 4

شیخ الاسلام حضرتِ علامہ محی الدین نووی رحمۃ اللہ (متوفی 677ھ) لکھتے ہیں:

قَالَ الْعُلَمَاءُ: الْأَحَادِيثُ الْمُتَأَوَّلَةُ الَّتِی فِی ظَاهِرِهَا دَخْلٌ عَلَى صَحَابِی يَجِبُ تَأْوِيلُهَا قَالُوا: وَلَا يَقَعُ فِی رِوَايَاتِ الثِّقَاتِ إِلَّا مَا يُمْكِنُ تَأْوِيلُهُ

(مسلم مع النووی: جلد2 صفحہ 278 باب: من فضائل علی بن ابی طالب)  

ترجمہ: علماء کا قول ہے کہ وہ احادیث جن سے کسی صحابی پر بظاہر حرف آتا ہو، ان کی تاویل واجب ہے علماء یہ کہتے ہیں کہ صحیح روایات میں کوئی ایسی روایت موجود نہیں جس کی تاویل نہ ہو سکے۔

امام راشد، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ (متوفی 1377ھ) فرماتے ہیں: 

یہ مؤرخین کی روایات تو عموماً بے سروپا ہوتی ہیں، نہ روات کا پتہ ہوتا ہے، نہ ان کی توثیق و تخریج کی خبر ہوتی ہے، نہ اتصال و انقطاع سے بحث ہوتی ہے اور اگر غث و ثمین سے اور ارسال و انقطاع کے ساتھ لیا گیا ہے، خواہ ابنِ اثیر ہو یا ابنِ قتیبہ، ابنِ ابی الحدید ہوں یا ابنِ سعد، ان اخبار کو مستفیض و متواتر قرار دینا بالکل غلط ہے اور بے موقع ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ان قطعی اور متواتر نصوص اور دلائلِ نقلیہ و عقلیہ کی موجودگی میں اگر روایاتِ صحیحہ احادیث کی بھی موجود ہوتیں تو مردود یا مؤوّل قرار دی جاتیں، چہ جائیکہ روایاتِ تاریخ۔ 

(مکتوبات شیخ الاسلام: جلد 1 صفحہ 287 مکتوب نمبر 89)

2: مصنف نے صحابیِ رسولﷺ کو بدعتی کہہ کر خود بدعت کا ارتکاب کیا ہے علمِ کلام کے مقتدر عالم علامہ ابو الشکور السالمی رحمۃ اللہ (متوفی 265ھ) فرماتے ہیں:  

الْكَلَامُ فِی الْبِدْعَةِ عَلَى خَمْسَةِ أَوْجُهٍ: الْكَلَامُ فِی اللَّهِ، وَالْكَلَامُ فِی كَلَامِ اللَّهِ، وَالْكَلَامُ فِی قَدَرِ اللَّهِ، وَالْكَلَامُ فِی عَبِيدِ اللَّهِ، وَالْكَلَامُ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِﷺ

(التمہید: صفحہ192 القول الرابع)  

ترجمہ: بدعت کے پانچ انداز ہیں: اللہ کی ذات و صفات پر سلفِ صالحین سے ہٹ کر کلام کرنا، قرآن کے بارے میں نیا قول پیش کرنا، اللہ کی قدرت پر بحث کرنا، اللہ کے بندوں پر کلام کرنا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر رائے زنی کرنا۔

3: مصنف نام و نسب نے جو بہتان سیدنا امیرِ معاویہؓ پر باندھا، اول تو اس کی نسبت ہی سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف مخدوش ہے اگر بالفرض اس کی نسبت سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جانب صحیح بھی ہوتی، تب بھی اس کو کسی پہلو سے بھی بدعت نہیں کہا جا سکتا۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی مد ظلہم ارقام فرماتے ہیں:  

میرا جواب یہ ہے کہ اگر وہ صحابی، تابع، مجتہد ہے اور اپنے قول کی بنیاد کسی بھی شرعی دلیل پر رکھتا ہے خواہ وہ شرعی دلیل ہمیں کمزور نظر آتی ہو تو بلاشبہ اس سے اجتہاد ہی کیا گیا کہا جائے گا، اسے بدعت یا تحریف نہیں کہہ سکتے ایسی صورت میں عمل تو بلاشبہ قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کی سنت ہی پر کیا جائے گا صحابی کے منفرد مسلک کو کمزور، مرجوح، یہاں تک کہ اجتہادی غلطی بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن اسے بدعت قرار دینے کے کوئی معنیٰ نہیں ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معاملہ تو بہت بلند ہے بعد کے فقہاء و مجتہدین سے ایسے بے شمار اقوال مروی ہیں جو بظاہر قرآن و سنت کے خلاف نظر آتے ہیں، لیکن کیونکہ ان کی کوئی نہ کوئی شرعی بنیاد کمزور یا مضبوط موجود ہے، اس لیے ایسے اقوال کو اجتہادی غلطی تو کہا گیا ہے، لیکن بدعت کسی نے نہیں کہا۔

مثلاً امام شافعی رحمۃ اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنا جان بوجھ کر چھوڑ دے تب بھی ذبیحہ حلال ہوتا ہے ہدایۃ المجتہد، جلد 1صفحہ 446، حالانکہ قرآنِ کریم کی صریح آیت موجود ہے کہ: 

وَلَا تَاۡكُلُوۡا مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ الخ

(سورۃ الانعام: آیت 121)

ترجمہ: اور ذبیحہ میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ 

جمہور فقہاء نے امام شافعی رحمۃ اللہ کے اس مسلک کی تردید کی ہے، اسے کمزور کہا ہے اور اس پر عمل نہیں کیا، لیکن کیا کوئی ایک عالم بھی ایسا بتایا جا سکتا ہے جس نے اس مسلک کی وجہ سے امام شافعیؒ پر بدعت کا الزام عائد کیا ہو؟ وجہ یہی ہے کہ امام شافعیؒ مجتہد ہیں اور اپنے قول کی ایک شرعی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہ بنیاد جمہور کے نزدیک کمزور سہی، لیکن ان کو بدعت اور تحریفِ دین کے الزام سے بری کرنے کے لیے کافی ہے ورنہ اگر ملک صاحب کے اصول کے مطابق بدعت کے خطاب میں اتنی فیاضی سے کام لیا جائے تو امت کا شاید کوئی مجتہد بھی اس نشتر کی زد سے نہیں بچ سکے گا، کیونکہ ہر ایک کے ہاں ایک دو اقوال ضرور ایسے ملتے ہیں جو بظاہر قرآن و سنت کے خلاف نظر آتے ہیں اور جمہورِ امت نے اسی لیے ان کو قبول نہیں کیا بلکہ رد کر دیا ہے، مگر ان کے عمل کو بدعت کسی نے نہیں کہا۔ ہاں شرط یہ ہے کہ ایسے قول کا قائل اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہو اور اس کے بارے میں یہ ماننا کیا جا سکتا ہو کہ وہ خواہشاتِ نفسانی کی اتباع میں تحریفِ دین کا مرتکب ہو گا۔

امام شاطبی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: 

إِنَّ الرَّأْی الْمَذْمُومَ مَا بُنِی عَلَى الْجَهْلِ وَاتِّبَاعِ الْهَوَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَصْلٍ شَرْعِی، وَمَا كَانَ مِنْهُ ذَرِيعَةً إِلَيْهِ وَإِنْ كَانَ فِی أَصْلِهِ مَحْمُودًا، وَذَلِكَ رَاجِعٌ إِلَى أَصْلٍ شَرْعِی الْأَوَّلُ دَاخِلٌ تَحْتَ قِدْحِ الْبِدْعَةِ وَتَتَنَزَّلُ عَلَيْهِ أَدِلَّةُ الذَّمِّ، وَالثَّانِی خَارِجٌ عَنْهُ وَلَا يَكُونُ بِدْعَةً أَبَدًا

(الاعتصام: جلد 1صفحہ131)  

ترجمہ: قابلِ مذمت رائے وہ ہے جو جہالت و خواہشات کی پیروی پر مبنی ہو اور اس میں کسی اصلِ شرعی کی طرف رجوع نہ کیا گیا ہو اور رائے کی دوسری قسم وہ ہے جو اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے محمود ہو، لیکن رائے مذموم کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اس کی بنیاد کسی شرعی اصل پر ہوتی ہے ان میں سے پہلی قسم تو بدعت کی تعریف میں داخل ہے اور اس پر مذمت کے دلائل کا اطلاق ہوتا ہے، لیکن دوسری قسم کی رائے اس سے خارج ہے اور وہ کبھی بھی بدعت نہیں ہو سکتی۔ 

صفحہ 3 از 4