بدعت کی تعریف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

بدعت کی تعریف

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 4

(صحیح البخاری: جلد1 صفحہ 531 ذکر معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)  

 کہہ کر فرمائی۔

 مصنف نام و نسب نے حضرت امیرِ معاویہؓ کو نعوذ باللہ بدعتی کہا، لیکن حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: مَا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِﷺ مِهْتَمًّا

(مسند احمد: جلد 4 صفحہ95 مسند الشامیین)

ترجمہ: حضرت امیرِ معاویہؓ حضرت محمدﷺ سے روایت کرنے میں کسی کے ہاں مہتمم نہیں تھے۔

پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ کا شمار اصحابِ فتویٰ میں ہوتا ہے۔

(اعلام الموقعین: جلد1 صفحہ5 ابتدائی فصول تدریب الراوی: صفحہ 404 بحث: وأکثر ہم فتیا ابنِ عباس، الاصابہ: جلد1 صفحہ166 مقدمۃ الکتاب، الفصل الثالث)

اچھا، سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حدیث نقل کی ہیں، جن کی تعداد 163 ہے آپ سے روایت کرنے والوں میں حضرت عبداللہ ابنِ عباس، حضرت عبداللہ ابنِ زبیر، حضرت ابو درداء، حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبداللہ ابنِ عمر رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ شامل ہیں۔ 

(الاصابہ: جلد6 صفحہ122 تحت: بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما،

اسد الغابہ: جلد5 صفحہ223، 224 تحت: معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)

اب ایسے جلیل القدر اور مجتہد صحابی کو بدعتی قرار دینا واقعی بڑے حوصلے کی بات ہے اگر میں آج مہر علی شاہ صاحب (متوفی 1356ھ) کا نام لے کر انہیں بھی بدعتی کہہ دوں تو کیا مہر صاحب کا کوئی عقیدت مند اس الزام کو برداشت کرے گا؟ اور کیا یہ جملہ ان کے حلقہ ارادت میں کہرام برپا نہیں کر دے گا؟ اگر بدعتی کہنا مہر علی صاحب کی ذاتِ سیادت مآب کے شایانِ شان نہیں بلکہ صراحتاً تنقیص، سوءِ ادب و گستاخی ہے، تو کیا کسی صحابی کی شان میں ایسے الزامات زیبا ہیں؟

آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں  

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

جواب امر دوم:دوسرا الزام مصنف نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ذمہ یہ عائد کیا ہے: عیدین میں اذان اور اقامت نہ کہنا سنت ہے، مگر سیدنا امیرِ معاویہؓ نے نمازِ عید سے پہلے اذان اور تکبیر شروع کروا دی۔

الجواب: موصوف جب سیدنا امیرِ معاویہؓ پر تہمت دھر رہے ہوں گے تو ان کا ضمیر کسی درجے میں بھی زندہ ہے تو انہیں ضرور ملامت کر رہا ہو گا کیا اس الزام کی نسبت سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جانب صحیح ہے؟ اور کیا یہ حدث جو سیدنا امیرِ معاویہؓ پر عائد کیا گیا ہے، واقعات کے اعتبار سے درست ہے؟ کیا مقامِ طعن میں مجروح و مقدوح روایات فائدہ دیتی ہیں؟ حضرت امیرِ معاویہؓ میں اتباعِ سنت اور نہی عن المنکر کا جذبہ کتنا تھا، اس کے لیے درجِ ذیل کتب کی طرف مراجعت فرمائیں: 

مجمع الزوائد (جلد9 صفحہ 357)

مشکوٰۃ (جلد2 صفحہ 105)

مسلم (جلد1 صفحہ288)

المصنف لابنِ ابی شیبہ (جلد 2 صفحہ351)

السنن للدارمی (صفحہ 200)

تاریخ المدینۃ المنورہ (جلد1 صفحہ 132)

الادب المفرد للبخاری (صفحہ144)

مسند امام احمد (جلد 4 صفحہ 93)

ترمذی (جلد2 صفحہ 100)

السنن الکبریٰ للبیہقی (جلد4 صفحہ290)

مسند الحمیدی (جلد2 صفحہ273)

ایسے متبعِ سنت، مجتہد رفیقِ صحابی پر بدعت کی تہمت دھرنا انصاف و دانش مندی ہے؟ اور کیا کسی انسان کی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تو کیا بات ہے، ناکردہ جرم کا انتساب صحیح ہے؟ ہم اس سے زیادہ اور کیا کہیں۔ ہم اس طعن کے جواب میں مصنف نام و نسب سے وہی سوالات کرنا چاہتے ہیں جو محقق العصر، وکیلِ صحابہؓ، سفیرِ اہلِ بیت حضرت اقدس مولانا محمد نافع صاحب نفعنا اللہ بعلومہ نے ناقدین و طاعنینِ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے اسی طرح کے سلسلے میں کیے ہیں:  

1: پیدا کرنے والے احباب کے ذمے ہے کہ یہ بات واضح کریں کہ اذانِ صلاۃ العید کو کس سن اور کس سال میں جاری کیا گیا؟

2: تمام ممالکِ اسلامیہ میں اس کا اجراء کیا گیا یا صرف بلادِ شام میں؟ 

(جبکہ کتبِ حدیث کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ، جو کوفہ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے گورنر تھے، بغیر اذان و اقامت کے نمازِ عید پڑھاتے تھے۔ المصنف عبدالرزاق: جلد 3صفحہ 278، تحت باب: الاذان لہما (عیدین) المصنف لابنِ ابی شیبہ: جلد 2صفحہ 168تحت بحث ہٰذا)

3: جس علاقے میں یہ حکم جاری کیا گیا، اس میں کیا ردِ عمل ہوا؟

4: کیا اس دور کے سب اہلِ اسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین وغیرہم نے اس کو قبول کیا؟ یا مخالفت ہوئی؟

5: پھر اس مخالفت کی وضاحت درکار ہو گی کہ کن حضرات نے مخالفت کی اور کن حضرات نے تائید کی؟

6: خصوصاً اہلِ حرمین نے اس حکم پر عمل کیا یا اس کو رد کیا؟

7: ہاشمی اکابر نے اس سے کیا تاثر لیا؟ تعاون کیا یا تخالف کیا؟ ان تمام تفصیلات کو سامنے لا کر پھر اس کا تجزیہ کرنا ہو گا اور مسئلے کے نشیب و فراز کو پیشِ نظر رکھنا ہو گا یہ چیزیں معترض احباب کے ذمے ہیں کہ ان کو صاف کریں اگر حضرت امیرِ معاویہؓ کے دورِ خلافت کو مطعون کرنا مطلوب ہے تو پھر ان کوائف کو واضح کیجیے، اور اگر اس دور کے اکابرِ امت نے مخالفت کی تھی تو وہ حکم نافذ کیسے ہو سکا؟ نیز اس مخالفت کی وضاحت کسی صحیح حوالے کے ساتھ مطلوب ہے مقامِ طعن میں مجروح و مقدوح روایات کام نہیں دے سکتیں، اور اگر اکابر بشمول بنی ہاشم نے موافقت کی تھی تو اس کے نتیجے میں صرف حضرت امیرِ معاویہؓ ہی نہیں بلکہ ان تمام حضرات پر ارتکابِ بدعت کا طعن وارد ہوتا ہے، جنہوں نے تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ‌ کا ارتکاب کیا، حالانکہ یہ حضرات تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ‌ کرنے والے نہیں تھے۔ 

(سیرتِ امیرِ معاویہؓ: جلد 2 صفحہ 326، 327 تحت: خطبہ و اذان قبل العید)

اس بحث کے آخر میں ہم مصنف نام و نسب سے تین باتیں مزید کہنا چاہتے ہیں:

1: مصنف نام و نسب نے ایک بے سند قول پیش کر کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بدعتی کہہ دیا، حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام تو اتنا بلند ہے کہ اگر کسی حدیث سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذواتِ مقدسہ پر حرف آتا ہو تو اس کی تاویل ضروری ہے اس بات کو شروع میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی شفیع رحمۃ اللہ (متوفی 1396ھ) کے حوالے سے لکھ چکا ہوں دو حوالہ جات مزید ملاحظہ فرمائیے:

صفحہ 2 از 4