تائیدات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تائیدات

  محمد ظفر اقبال

مقولہ بالا احادیث کے ساتھ ہم سیدنا امیرِ معاویہؓ کی فضیلت میں چند احادیث اور پیش کر رہے ہیں جو صحیح ہیں، اور مصنف نام و نسب کو ایّاز قدرِ خودرابہ شناس کا مشورہ دیتے ہیں:

1: صحیح البخاری باب ما قیل فی قتال الروم میں آنحضرتﷺ کا ارشاد مروی ہے:  

أول جیش من أمتی یغزون البحر قد أوجبوا 

(بخاری: جلد2 صفحہ 410 کتاب الجہاد، باب ما قیل فی قتال الروم، مسلم: جلد 2 صفحہ141، 142 کتاب الامارۃ، باب فضل الغزو فی البحر)  

میری امت کا پہلا لشکر جو بحری جہاد کرے گا، انہوں نے (جنت کو اپنے لیے) واجب کر لیا ہے۔  

اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ اس اوّل جیش کے امیرِ جیش حضرت امیرِ معاویہؓ تھے۔ کیا یہ حدیثِ صحیح ان کی فضیلت میں نہیں ہے؟ اور کیا ناقد کو اس طرح جنت کی سند حاصل ہے؟  

حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ (متوفی 852 ہجری) اور حافظ بدر الدین عینی الحنفی رحمۃ اللہ (متوفی 855ھ) فرماتے ہیں:  

قال المهلب: فی هذا الحديث منقبة لمعاویۃ، لأنه أول من غزا البحر 

(فتح الباری: جلد6 صفحہ102 کتاب الجہاد، باب ما قیل فی قتال الروم، عمدۃ القاری: جلد 14 صفحہ293 کتاب الجہاد، باب ما قیل فی قتال الروم)  

مہلبؒ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت ہے، کیونکہ وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے سمندر پار جہاد کیا۔  

لہٰذا یہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بہت بڑی فضیلت ہے، اور اس دنیا میں بشارتِ جنت نہایت سعادت مندی ہے۔ فلہٰذا حضرت امیرِ معاویہؓ کے حق میں عدمِ فضیلت کا قول کسی طرح درست نہیں۔

2: حضرت عبد الملک بن عمیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:  

یا معاویۃ: إن ملکت فأحسن 

(المصنف لابنِ ابی شیبہ: جلد11 صفحہ147، 148 کتاب الامراء، المطالب العالیہ: جلد4 صفحہ108 تحت باب فضائل امیرِ معاویہؓ)  

اے سیدنا امیرِ معاویہؓ! جب تمہیں اقتدار نصیب ہو تو لوگوں سے حسنِ سلوک کرنا۔  

مذکورہ بالا حدیث کے بارے میں علامہ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:  

والحديث حسن كما علمت، فهو مما يحتج به على فضل معاویۃؓ  

(الصواعق المحرقہ: صفحہ 218 باب الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابہؓ)

یہ حدیث درجۂ حسن میں ہے جیسا کہ معلوم ہوا، اور یہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں قابلِ استدلال ہے۔