تفسیر آیت تبلیغ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت تبلیغ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 4

اس روایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آیت تبلیغ کا نزول غدیر کے دن نہیں ہوا بلکہ عرفہ کے دن ہوا علمائے شیعہ کا عجب حال ہے سنیوں کے مقابلہ میں آ کر وہ اپنی کتابوں سے بھی ناواقف بن جاتے ہیں۔

خلاصہ: آیت تبلیغ اور ملت شیعیت کو دعوتِ فکر:

 اس آیت کے متعلق جو قصہ شیعہ صاحبان نے جبرائیل علیہ السلام کے بار بار آنے اور اللہ تعالیٰ کے بار بار تاکید کرنے اور رسولﷺ کے ہر بار عذر کرنے کا بیان کیا ہے اس میں جس قدر تمسخر، توہین، اللہ اور رسولﷺ ساتھ ہے۔

 ظاہر ہے عجب تماشہ ہے کہ توحید کی تبلیغ میں رسولﷺ کفار مکہ کا کچھ خوف نہ کیا اور بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ تمام اہل مکہ کے خلاف توحید کے مضامین کو بیان فرمایا اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں توحید کا مضمون خوب تفصیل و توضیح سے بےشمار آیتوں میں نازل فرمایا ہے لیکن حضرت علیؓ کی خلافت اللہ جانے کیسی خطرناک چیز کہ اللہ نے بھی اس کا بیان صاف صاف نہ کیا اور رسول اللہﷺ بھی اس کی تبلیغ میں اس قدر خائف ہوئے اور اللہ تعالیٰ حفاظت کا وعدہ نہ کرتا تو چاہے کتنی تاکیدات اللہ کی طرف سے ہوتی رسول اللہﷺ ہرگز تبلیغ نہ کرتے۔

 پھر ان سب امور کے بعد یہ بھی کچھ کم قابل حیرت نہیں کہ رسولﷺ تبلیغ کرنے کھڑے ہوئے تو ان کو حضرت علیؓ کی خلافت کے بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ ہی نہ ملا "مولا" کا لفظ ارشاد فرمایا جس سے خلافت کا مفہوم کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا ایسا فصیح العرب اور اس معاملہ میں اس کو کوئی سری لفظ ہی نہ ملے۔

العجب کل العجب: اچھا ہم اس تمام قصے سے قطع نظر کر لیں اور صرف اتنی سی بات مان لیں کہ اس آیت میں لفظ "ما" سے حضرت علیؓ کی خلافت مراد ہے تب بھی یہ اعتراض اللہ پر ضرور ہوتا ہے کہ جب حضرت علیؓ کے خلاف ایسی اہم اور ضروری چیز ہے کہ رسولﷺ کو اس کے اعلان کی اس قدر تاکید کی جا رہی کہ اس قدر تاکید نہ عقیدہ توحید کے لیے کی گئی، نا عقیدہ قیامت کے لیے نہ عقیدہ رسالت کے لئے!!

حتیٰ کہ اس خلافت کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں رسولﷺ کا نام رسولوں کی فہرست سے کاٹ دینے کی وعید آئی ایسی اہم اور ضروری چیز کو خدا نے مبہم کیوں بیان فرمایا یا جس طرح عقیدہ توحید وغیرہ کو اللہ نے صاف صاف بیان فرمایا تھا کہ آج ہر شخص ان آیات کو دیکھ کر اصل مقصود کو سمجھ لیتا ہے خلافِ مقصود کا وہم بھی کسی کو نہیں ہوتا اس طرح حضرت علیؓ کی خلافت کو صاف صاف بیان کیوں نہ بیان فرمایا!؟ 

معلوم ہوتا ہے اللہ بھی ڈرتا تھا کہ میں اگر علیؓ کی خلافت کو صاف صاف بیان کر دوں گا تو نہ معلوم میرے ساتھ اور میرے قرآن کے ساتھ ساتھ مخالفین علیؓ کیا سلوک کریں گے اور رسولﷺ پر بھی یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی حکمِ خداوندی کی تعمیل نہ کی اللہ کا حکم تھا کہ علیؓ کی خلافت کا اعلان کریں

انہوں نے بجائے خلافت کے علیؓ کے "مولا" ہونے کا اعلان کر کے خاموشی اختیار کر لی۔

استغفراللہ استغفراللہ 

مذہب شیعہ سیر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین الٰہی کا مقصود سوائے حضرت علیؓ کی خلافت کے اور کچھ تھا ہی نہیں نہ توحید کا اس قدر اہتمام کا نہ رسالت اور نہ کسی اور چیز کا لہٰذا وہ شعر مشہور اثنا عشریوں کے مذہب کے مطابق بھی بالکل صحیح ہے۔

"کہ جبرئیل کارآمد زبر خالق بچیوں، درپیش محمد شدو مقصود علی بود''

 مگر رونا اس کا ہے کہ دینِ الٰہی کا یہ مقصود پورا نہ ہوا رسول ﷺ کی رسالت سب سے زیادہ ناکام رہی کیونکہ جو مقصد اصلی آپ کی بعثت کا تھا یعنی حضرت علیؓ کی خلافت اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی۔

حضرت علیؓ پہلی خلافت تو کیا ملتی جو چوتھے درجے میں ملی بھی تو بقول شیعہ برائے نام تھی،  

اس کا ماتم حضرات شیعہ جس قدر کریں ہجا ہے اور جتنا روئیں حق بجانب ہیں۔

نتیجہ: 1: رسول اللہﷺ نے اللہ حکم کی تعمیل کا معاملہ دو تین مرتبہ ٹالا تیسری دفعہ مبہم الفاظ میں تعمیل کی جو عدم تعمیل ہی کی ایک شکل ہے کیا نبی کریمﷺ اور خدا کا تعلق ایسا ہی ہوتا ہے؟؟

2: رسول اللہﷺ صحابہ کرامؓ سے اتنا ڈرتے تھے کہ اللہ کی نافرمانی تک کے لئے تیار ہوگئے؟؟  

3: حضورﷺ کی حیات طیبہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ توحید رسالت اور معاد کی تبلیغ کے لئے پورے عرب کی مخالفت قبول کر لی مگر تبلیغ اور پوری وضاحت کے ساتھ تبلیغ سے باز نہ آئے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت کے لیے اعلان کے بارے میں غیروں سے نہیں اپنوں سے ڈرتے رہے آخری دم تک کوئی واضح اعلان نہیں فرمایا۔

4: حضورﷺ کو حضرت علیؓ کے بارے میں قوم سے خطرہ کیوں تھا؟ کہ قوم اس فیصلے کو قبول نہ کرے گی؟ یا حضرت علیؓ اس کے اہل نہیں تھے؟ یا حضورﷺ پر کنبہ پروری کا الزام آتا تھا اس کی کیا وجہ تھی؟ 

5: حضورﷺ کی 23 سالہ نبوی زندگی میں کیا کوئی اور ایسا مقام بھی آیا کہ اللہ نے کوئی حکم دیا ہو اور حضورﷺ اسے ٹالتے رہے ہوں۔

6: ماانزل میں صیغہ مجہول کا ہے جو زمانہ گزشتہ کو چاہتا ہے یعنی اس آیت سے پہلے خلافت علیؓ کی خلافت کا حکم نازل ہو چکا تھا مگر حضورﷺ نے چھپائے رکھا کیا رسول امین کے متعلق یہ تصور کیا جاسکتا ہے؟؟

جو شخص بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں دشمنوں کی زبان سے بھی آمین کہلاتا ہے وہ اللہ کے دین کے معاملے میں معاذاللہ خیانت کرے حضورﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ایسا تضاد تو دشمن بھی نہیں پیش کر سکے۔

7: وحی کا ایک بات کے لئے بار بار آنا اور نبی ﷺ کا بار بار ٹالنا اگر تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا معاذاللہ حضورﷺ نے وحی کو مذاق سمجھ رکھا تھا حضورﷺ کا وحی کے ساتھ یہ سلوک تو وحی کے ساتھ استہزاء توہین اور اور تلعب بلوحی ہے کوئی باہوش آدمی یہ تصور کر سکتا ہے؟؟؟


صفحہ 4 از 4