تفسیر آیت تبلیغ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت تبلیغ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

 بنوز کی کہتے ہیں کہ میں نے کلبی سے سنا وہ کہتا تھا کہ میں سبائی فرقے سے ہوں یعنی عبداللہ بن سباء کا پیروکار ہوں۔

حسن بن یحی رحمۃاللہ کہتے تھے میں نے کلبی سے سنا کہ جبرائیل علیہ السلام جب وحی لیکر آتے تھے آپ محمدﷺ اگر پاخانہ میں جاتے تو جبرائیل علیہ السلام اتنی دیر علیؓ سے وحی بیان کرتے تھے۔

احمد بن زبیر رحمۃاللہ کہتے ہیں میں نے امام احمد رحمۃاللہ سے پوچھا کلبی کی تفسیر کو پڑھنا جائز ہے تو انہوں نے کہا کہ جائز نہیں۔

 جوزجانی نے کلبی کو کذاب کہا ہے اور ایک جماعت دارقطنی نے اس کو متروک الروایت کہا ہے 

ابن حبان فرماتے ہیں کلبی کا رافضی ہونا ایسا ظاہر ہے کہ محتاج بیان نہیں اور کلبی بواسطہ ابو صالح کے ابن عباسؓ سے روایت کرتا ہے حالانکہ ابوصالح نے ابنِ عباسؓ کو دیکھا بھی نہیں کلبی ایسا شخص تھا کہ کتابوں میں اس کا ذکر جائز نہیں کلبی کا شیعہ ہونا شیعوں کی کتابوں سے ثابت ہے۔

چنانچہ اصول کافی میں کلبی کی بہت سی روایات ہیں اور اصول کافی میں ہے: فلم يزل الكلبي يدين الله بحب اهل هذا البيت حتى مات لین

 کلبی ہمیشہ اللہ کی اطاعت محبت اہل بیت کے ذریعہ سے کرتا رہا یہاں تک کہ مر گیا۔ 

اس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ روایت بھی قابل اعتبار نہیں کلبی رافضی کذاب کی گھڑی ہوئی ہے شیعہ حامد حسین صاحب نے اس روایت کو اہل سنت کے مقابلہ میں پیش کر کے اپنی دیانت کا ایک عمدہ ثبوت پیش کر دیا۔ 

اس روایت کو بھی شیعہ مجتہد حامد حسین نے متعدد کتابوں سے نقل کر کے ایک روایت کو مستند بنانے کی کارروائی کی ہے۔ 

اگر خدانخواستہ کوئی سنی اس قسم کی کارروائی شیعوں کے مقابلہ میں کرتا تو علما شیعہ تو جو کہتے بعد میں کہتے، پہلے علماء اہل سنت ہی اس کو ذلیل و خوار کر تے مگر شیعہ ہیں کہ اپنے مجتہد حامد ان کی مدح و ثناء میں رطب اللسان رہتے ہیں اس کا سبب سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ شیعوں کے ہاں فریب و دغا کی کارروائیاں جائز ہیں بلکہ موجب کمال ہیں۔ 

 تیسری روایت: براء بن عازب کی ہے مگر مجتہد محمد حسین نے اس کی پوری سند ہی نقل نہیں کی معلوم ہوتا کہ ان کی سند میں کون کون راوی ہیں اور ان راویوں کی بابت ائمہ جرح و تعدیل نے کیا لکھا ہے لہٰذا ایسی مجہول السند روایت کو پیش کرنا سوائے شیعہ مجہتد حامد حسین یا ان کے ہم مذہب علماء کے اور کسی سے شاید نہ ہو سکتا۔ 

چوتھی روایت: شیعہ حامد حسین نے عبقات میں یہ بھی لکھا ہے

 عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول خدا کے زمانہ میں اس آیت کو یوں پڑھتے تھے "یاایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولى المؤمنین" اس روایت کو مجتہد حامد حسین نے اپنی کتاب استقصاء الافھام میں بھی ذکر کیا ہے

اور اس سے تحریف قرآن ثابت کرنی کی کوشش کی ہے پوری سند اس روایت کی بھی مجتہد شیعہ صاحب نے ذکر نہیں کی صرف اس قدر نقل کیا ہے کہ ابوبکر بن عیاش نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے ابن مسعود سے لیا ہے اس کو نقل کیا ہے ابوبکر بن عیاش کے بعد کے روای معلوم ہیں کیسے ہیں لہٰذا ایک خرابی تو اس روایت میں یہ ہوئی کہ سند اس کی مجہول ہے۔

دوسری خرابی یہ ہے کہ ابوبکر بن عیاش مجروح ہیں میزان الاعتدال میں ہے اور یہ کہ وہ حدیث میں غلطی کرتے تھے اور وہم ہو جاتا تھا، محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ان کو ضعیف کہا ہے یحی بن سعید انکا بالکل اعتبار نہ کرتے تھے ان کے سامنے ابوبکر بن عیاش کا ذکر ہوتا تو چیں بہ جبیں ہو جاتے کہ اگر ابوبکر بن عیاش میرے سامنے موجود ہوتے تو میں ان سے کچھ نہ پوچھتا۔ 

امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ "وہ حد سے زیادہ کثیر الغلط ہیں،''

ابن مبارک رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن عیاش سے بڑھ کر حدیث پر بہت جلد جرأت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔

 تیسری خرابی یہ ہے ابوبکر بن عیاش عاصم سے روایت کرتے عاصم نام کے کئی راوی ہیں جن میں بعض کذاب بھی ہیں۔

 جب تک معلوم نہ ہو کہ کون عاصم ہیں اس وقت تک راویت بھی مجہول و ناقابل اعتبار ہے۔

پس یہ کل چار روایتیں شیعہ حامد حسین نے اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں پیش کی تھیں کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نازل ہوئی۔ عبقات کی حقیقت معلوم کرنے کیلئے یہ نمونہ کافی ہے ایک عجیب لطف یہ ہے:

شیعوں کی معتبر روایتوں سے بھی یہ ثابت ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نہیں نازل ہوئی بلکہ عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی جو غدیر خم سے نو دن پہلے تھا اب اس کے بعد شیعہ حامد حسین کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ  

           در کفر ہم ثابت نہ شد او را رسوا کن

کیونکہ ان کی تحقیق شیعوں کے بھی خلاف نکلی ملاحظہ ہو:

 اصول کافی مطبوعہ لکھنؤ صفحہ 187 میں ہے کہ ابو الجار وہ کہتا ہے میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ثم نزلت المولاتيه وانما اتاه ذلك في يوم الجمعة بعرفة انزل الله رجل اليوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و كان اكمال الدين بولاية على بن ابی طالب عليه السلام فقال عند ذلک رسول الله غالب امتی حدیثو عهد بالجاهلية ومتى اخبرتهم بهذا في ابن عمي يقول قائل ويقول قائل فقلت في نفسي من غير أن ينطق به لسانی قاتانی عزيمة من الله عز وجل بتلة فنزلت یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمک من الناس أن الله لا يهدي القوم الكافرين

ترجمہ: پھر نازل ہوئی امامت علی کی یہ حکم نبی کے پاس جمعہ کے دن عرفہ میں آیا اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی

دین کا کمال علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت سے ہوا تو اس وقت رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری امت جاہلیت سے قریب العہد ہے جب میں ان کو اپنے چچا کے بیٹے (یعنی علی) کے متعلق کوئی خبر دونگا تو کوئی کچھ کہے گا اور کوئی کچھ کہے گا۔ ابھی یہ خیال میں نے اپنے دل میں کیا تھا زبان سے کوئی لفظ نہ نکالا تھا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے سخت تاکید آ گئ اور یہ آیت نازل ہوئی: يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَابَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ

صفحہ 3 از 4