تفسیر آیت تبلیغ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت تبلیغ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

شیعہ مجہتد حامد حسین نے عبقات کی حدیث غدیر میں اس پر بھی بڑا زور دیا ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نازل ہوئی تھی اور شیعوں کو کتاب عبقات پر بڑا ناز ہے کبھی بھی سنیوں کو طعنے دیتے ہیں کہ تمہارے علماء نے عبقات کا جواب کیوں نہیں لکھا۔

اگرچہ شیعہ حامد حسین کی کتاب استقصاء الافهام اور عبقات الانوار دونوں پر کافی تنقید النجم (یہ ایک نایاب رسالہ ہے) دور قدیم میں ہو چکی ہے لیکن یہ مبحث چونکہ تمام عبقات میں چوٹی کا مبحث سمجھا جاتا ہے لہٰذا اس کی حالت کا اظہار اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے جس سے یہ بات بھی ظاہر ہو جائے گی کہ عبقات کا جواب نہ لکھنے کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ان خرافات کی طرف توجہ کرتا وہ کندن کاہ برآوردن کا مصداق ہے اہل سنت کی صحیح روایات سے ثابت ہے کہ یہ آیت مدینہ منورہ میں رات کے وقت نازل ہوئی تھی نہ غدیر خم میں دن کے وقت۔

 حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ترمذی وغیرہ بہت سے محدثین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ صحابہ کرامؓ رات کے وقت رسول خدا کی پاسبانی کیا کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا نے بالا خانہ سے سر باہر نکالا اور فرمایا کہ تم لوگ واپس چلے جاو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اب کسی کی پاسبانی کی ضرورت نہیں حاکم نے مستدرک میں اس روایت کو صحیح الاسناد کہا ہے۔ " 

نیز انہیں حافظ ابن کثیر نے سورہ مائدہ کی آیت یا ایها الذين آمنوا لاتخذوا اليهود والنصارى اولیاء کے تحت بحوالہ تفسیر طبری زہری سے نقل کیا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے یہودیوں سے دوستی قطع کردی مگر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے ان سے تعلق قائم کیا اس وقت اللہ نے یا ایها الذين آمنوا والله يعصمک من الناس تک یہ سب آیتیں نازل فرمائیں۔

معلوم ہوا کہ یہ آیت غدیر خم سے برسوں پہلے مدینہ میں بوقت شب نازل ہوئی اور اس کے نزول کے وقت عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین بھی زندہ تھا۔ 

اب دیکھیے شیعہ حامد حسین صاحب نے اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں کہ یہ آیت غدیر خم کے روز نازل ہوئی تھی کیا دلائل پیش فرمائے ہیں:

واضح ہو کہ شیعہ حامد حسین نے اپنی عادت شریفہ کے مطابق اس بحث کو طول تو بہت دیا ہے کئی جز و کاغذ سیاہ کر ڈالے مگر روایتیں کل چار پیش کی ہیں اور کارروائی کی ہے کہ ان روایتوں کو متبر کتابوں سے نقل کر کے ہر ہر کتاب کے اعتبار سے اس کو ایک جداگانہ روایت قرار دیا ہے اس طور پر چار روایتوں کو بہت سی روایات بنا کر ناز کیا ہے۔ 

پہلی روایت: ابوسعید "خدری" کی ہے جس کو عطیہ کوفی روایت کرتا ہے عطیہ مذکور کی نسبت میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ضعیف ہے، 

 امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں: بلغني انه كان ياتي الكلى وكان يسأله عن التفسير و كان يكنیه بابی سعيد فيقول قال ابو سعید یعنی یہ عطیہ کلبی کے پاس جایا کرتا تھا اور اس سے تفسیر آیات پوچھا کرتا تھا اور کلبی کی کنیت اس نے ابو سعید رکھی تھی لہٰذا یہ کہا کرتا تھا کہ مجھ سے ابوسعید نے یوں بیان کیا۔

 نیز امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

حدثنا ابو احمد الزبيري سمعت الكلبي يقول کنانی عطية ابوسعید وقال ابن حبان سمع من ابی سعید احادیث فلما مات جعل يجالس الكلبي يحضر بصفته فاذا قال الكلبي قال رسول الله الله فيحفظه و كناه أبا سعيد ويروى منه فاذا قيل من لینک بهذا فيقول حدثنی ابوسعيد فيتوهمون انه يريد اباسعيد الخدری وانما أراد الكلبي لا يحل کتب حديثه الا على جهة التعجب وقال السناجی ليس بحجة و كان يقدم عليا على الكل وقال ابن عدى كان يعد مع شيعة اهل ورقة وقال الجوزجانی مائل وقال ابوداؤد ليس بالذي يعتمد عليه وقال ابو بكر البزار كان بعده في التشيع

 ترجمہ: ہم سے ابو احمد زبیری نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں نے کلبی کو کہتے ہوئے سنا کہ میری کنیت عطیہ نے ابوسعید رکھی تھی، ابن حبان کہتے ہیں عطیہ نے حضرت ابوسعید خدری سے کچھ روایتیں کی تھیں مگر جب ان کی وفات ہو گئی تو یہ جا کر کلبی کے پاس بیٹھنے لگا اور کلبی جب قال رسول اللہﷺ کہتا تھا تو یہ اس کو یاد کر لیتا تھا اور کلبی کی کنیت اس نے ابوسعید رکھ لی تھی اور کلبی رافضی ہی سے یہ روایت کیا کرتا تھا جب اس سے کوئی پوچھتا کہ یہ حدیث تجھ سے کس نے بیان کی تو کہتا تھا کہ ابوسعید نے۔ لوگ یہ گمان کرتے تھے کہ ابوسعید خدری صحابی مراد ہیں حالانکہ ابوسعید کلبی رافضی کو مراد لینا تھا عطیہ کی روایت کو لکھنا جائز نہیں مگر بطور تعجب کے اور ساجی نے کہا ہے کہ عطیہ معتبر شخص نہیں ہے وہ حضرت علیؓ کو تمام صحابہ پر مقدم سمجھتا تھا اور ابنِ عدی نے کہا ہے کہ عطیہ کا شمار کوفہ کے شیعوں میں تھا اور جوز جانی نے اسکو مائل بتشیع بیان کیا ہے اور ابو داؤد نے کہا ہے کہ عطیہ ایسا شخص نہیں جس پر اعتماد کیا جائے اور کہا ہے کہ ابوبکر بزار کا مرتبہ عالیہ کے بعد ہے۔ 

پس اس روایت میں دو رافضی ہوئے ایک عطیہ دوسرا کلبی جس کو دھوکہ دینے کیلئے ابوسعید کہا گیا ہے تاکہ لوگ ابوسعید کو صحابی سمجھ کر روایت کو قبول کر لیں حالانکہ وہ کلبی ابوسعید ہے اور روایت اس نے گڑھی ہے۔ لہٰذا اس روایت کو اہل سنت کے سامنے پیش کرنا شیعہ حامد حسین کی دیانت کا ایک نمونہ ہے اور پھر اس پر مزید یہ کہ اس روایت کو متعدد کتابوں سے مل نقل کر کے کتاب کے لحاظ سے اس کو جداگانہ روایت قرار دیکر یہ ظاہر کرنا کہ یہ روایت کثرت طرق سے مروی ہے شیعہ حامد حسین کی چالاکی کا ایک معمولی کرشمہ ہے۔

دوسری روایت: ابن عباسؓ کی ہے جس کو کلبی نے بواسطہ ابوصالح کے ابن عباس سے کیا ہے کلبی کا رافضی اور کذاب ہونا مسلم الكل ہے۔

میزان الاعتدال میں ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ فرماتے تھے کہ سفیان کہتے تھے کلبی نے مجھ سے کہا کہ جتنی روایتیں میں نے ابوصالح سے نقل کی ہیں وہ سب جھوٹی ہیں۔ 

یزید بن يذیع کہتے ہیں کہ کلبی عبداللہ بن سبا کے فرقہ کا شخص تھا۔

ابن حبان کہتے ہیں کہ کلبی عبداللہ بن سبا کے فرقہ کا شخص تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نہیں مرے اور جب بادل کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین اس میں ہیں۔

صفحہ 2 از 4