ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 8 از 8
اشعار کی تشریح یہ ہے کہ زلیخا کو ملامت کرنے والی اگر میرے محبوب کے جمال کا مشاہدہ کرتیں تو دل کاٹ لیتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دل مرکز بدن ہے اور انگلیاں شاخ بدن حضرت محمدﷺ مرکز حسن ہیں اور آپﷺ‎ کےمقابلے میں حضرت یوسف علیہ السلام شاخِ حسن ہیں۔ زلیخا کو ملامت کرنی والی مصر ی خواتین نے شاخِ حسن کو دیکھا تو شاخِ بدن انگلیاں کاٹ لیں۔ اگر وہ مرکزِ حسن کو دیکھتیں تو مرکزِ بدن دل کاٹ لیتیں۔
وفات:
58 ہجری رمضان المبارک کی17 تاریخ کو آپؓ سخت بیمار ہوئیں۔ امام ابنِ سعدؒ نے لکھا ہے کہ کوئی خیریت دریافت کرنے آتا تو فرماتیں کہ اچھی ہوں عیادت کرنے والے بشارتیں سناتے تو جواب میں کہتیں اے کاش میں پتھر ہوتی کبھی فرماتیں کہ اے کاش میں کسی جنگل کی جڑی بوٹی ہوتی۔
نمازِ وتر کی ادائیگی کے بعد آپؓ اس جہاں سے اس جہاں کو کوچ فرما گئیں جس کی خواہش سرکار دو عالمﷺ‎ نے اللھم الرفیق الاعلی کے الفاظ سے فرمائی۔ سیدنا ابو ہریرہؓ ان دنوں مدینہ طیبہ کے قائم مقام حاکم تھے انہوں نے آپؓ کا جنازہ پڑھایا۔ آپؓ رضی اللہ عنہا کے بھانجوں اور بھتیجوں قاسم بن محمد بن ابوبکر، عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابوبکر، عبداللہ بن عتیق، عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہﷺ‎ کی پیاری زوجہ اور امتِ محمدیہ کے مومنین کی ماں کو قبر کی پاتال میں اتارا۔


صفحہ 8 از 8