ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 7 از 8
  1.  رسول اللہﷺ نے ایک بار آپؓ سے فرمایا: جب سے مجھے اس بات کا علم ہوا کہ تم جنت میں بھی میری بیوی رہو گی مجھے موت کی پرواہ نہیں رہی۔
  2. آپؓ فرماتی ہیں: رسول اللہﷺ کھانے پینے کا برتن ہاتھ میں لے لیتے اور مجھے قسم دیتے کہ میں اِس میں سے کچھ کھاؤں پیوں، جب میں کھا پی لیتی تو آپ برتن کو مجھ سے لیتے اور جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا پیا ہوتا تھا، اسی جگہ سے خود کھاتے اور پیتے۔
  3. سیدہ عائشہؓ خود فرماتی ہیں کہ کبھی ایسے بھی ہوتا کہ گوشت والی ہڈی کو جس جگہ سے میں کھاتی آپﷺ بھی اسی جگہ سے تناول فرماتے۔ یعنی دونوں مل جل کر تناول فرماتے۔
  4.  آپﷺ نے ارشاد فرمایا:جیسے تمام کھانوں میں ثرید عمدہ کھانا ہوتا ہے، اسی طرح سیدہ عائشہؓ تمام عورتوں میں بہترین عورت ہے۔ یہ الفاظ خوشگوار گھریلو زندگی کے عکاس ہیں
  5. سیدہ عائشہ صدیقہؓ ایک دن چرخہ کات رہی تھیں اور آپﷺ اپنے نعلین پاک کو گانٹھ رہے تھے اس دوران آپﷺ کی پیشانی مبارک سے پسینہ کے قطرات ٹپکنے لگے ان میں روشنی سی پھوٹ رہی تھی آپؓ نے یہ خوبصورت نظارہ دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئیں۔
آپؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: عائشہؓ! کیا ہوگیا آپ کو؟ میں نے عرض کی کہ آپ کی مبارک پیشانی سے پسینے کے قطرے دیکھ رہی ہوں۔ ابوکبیر ہُذلی زمانہ جاہلیت کا معروف شاعر اگر اس کیفیت کا مشاہدہ کر لیتا تو وہ سمجھ جاتا کہ اس کے شعر کا حقیقی مصداق آپ ہیں۔
آپﷺ نے پوچھا کہ اس نے کون سا شعر کہا ہے؟ تو آپؓ نے آپﷺ کو اس کا شعر سنایا۔
فإذا نظرتُ إلی أسرة وجهه
برقت کبرق العارض المتهلل۔
ترجمہ: جب میں نے اُس کے رُخِ روشن کو دیکھا تو اُس کے رخساروں کی روشنی یوں چمکی جیسے برستے بادل میں بجلی کوند جائے۔
آپﷺ نے یہ اشعار سنے تو اپنی جگہ سے اٹھ کر سیدہ عائشہؓ کے قریب تشریف لائے اور ازراہ محبت فرمایا: اے عائشہ مجھے جو خوشی تیرے کلام سے ملی ہے اس قدر خوشی تمہیں میرے دیدار سے بھی حاصل نہیں ہوئی ہو گی۔
سیدہ عائشہؓ بیان فرماتی ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تھی، میں نے آپﷺ کے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا تو میں آپﷺ سے آگے بڑھ گئی۔ پھرکسی دوسرے موقع پر جب میرا جسم قدرے بھارے پن کا شکار ہو گیا تو آپﷺ مجھ سے بڑھ گئے تو آپﷺ نے فرمایا: یہ اس پہلی دوڑ کا بدلہ ہے۔
چونکہ آپﷺ کی مبارک زندگی تکلفات سے پاک تھی اس لیے بے تکلفی کے ماحول میں کبھی کبھار ایسے واقعات بھی رونما ہوجاتے جو فطری زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں۔ چنانچہ سننِ ابی داؤد میں ہے: ایک بار آپﷺ کے اور سیدہ عائشہؓ کے مابین بے تکلفی میں کوئی بات ہوگئی تو آپﷺ نے پوچھا: اچھا یہ بتاؤکہ کیا تم عمر کو حَکَم (فیصلہ کرنے والا) ماننے کے لیے تیار ہو؟ سیدہ عائشہؓ نے عرض کیا: نہیں۔ پھر معصومانہ انداز میں بولی کہ وہ سخت طبیعت کے مالک ہیں، آپﷺ نے پوچھا: اگر تمہارے والد کو فیصلہ کرنے والا بنا دیں تو تب تم راضی ہو؟ سیدہ عائشہؓ نے فوراً کہا: ہاں آپﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کو بلا بھیجا، جب سیدنا ابوبکرؓ تشریف لائے تو آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کہ ہاں عائشہ! تم بات کرو گی یا میں بتاؤں؟ سیدہ عائشہؓ نے عرض کی آپ ہی بات کریں ساتھ ہی نازِ محبوبی میں یہ بھی کہہ دیا کہ لیکن صحیح صحیح بتانا یہ بات سیدنا ابوبکرؓ کو ناگوار محسوس ہوئی اور بحیثیتِ والد اپنی بیٹی سیدہ عائشہؓ کی ناک پر تھپڑ رسید کر دیا، سیدہ عائشہؓ بھاگیں اور آپﷺ کی پیٹھ پیچھے چُھپنے لگیں، آپﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ سے فرمایا: ابوبکرؓ میں نے آپ کو اس لئے نہیں بلایا تھا سیدنا ابوبکرؓ تشریف لے گئے تو آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ کو قریب بلایا مگر سیدہ عائشہؓ نے ناز محبوبی میں آنے سے انکار کیا، آپﷺ مسکرائے اور فرمایا: ابھی کچھ دیر پہلے تو تم میری پیٹھ سے چمٹی جا رہی تھیں چنانچہ سیدہ عائشہؓ ہنس پڑیں اور آپﷺ بھی مسکرانے لگے تھوڑی دیر بعد جب سیدنا ابوبکرؓ تشریف لائے اور دونوں کو ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: آپ دونوں نے اپنے اختلاف میں ہمیں شریک کیا تھا، تو اپنی صلح میں بھی ہمیں شریک کرلیں۔
 ہمارے معاشرے کی خواتین اپنی سوکن/سوکنوں سے جو سلوک کرتی ہیں اور اس کو شوہر کی نظروں سے گرانے بلکہ یوں کہیے کہ گھر سے نکالنے کے جو منصوبے بناتی ہیں وہ انتہائی قابلِ افسوس ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا گھرانہ جہاں بیک وقت کئی سوکنیں آباد تھیں کس طرح باہمی محبت و پیار کا منظر پیش کرتا ہے،چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کے لیے حریرہ دودھ، آٹا اور گھی وغیرہ سے تیار کردہ عربوں کی مشہور سوغات تیار کیا۔ اس وقت رسول اللہﷺ کے ساتھ ام المومنین سیدہ سودہؓ بھی تشریف فرما تھیں، سیدہ عائشہؓ نے سیدہ سودہؓ سے کہا آپؓ بھی تناول فرمائیں۔ سیدہ سودہؓ نےکھانےسے انکار کیا۔ شاید اس وقت طلب نہ ہوگی سیدہ عائشہؓ نے اصرار کیا کہ آپؓ کو کھانا پڑے گا، ورنہ میں یہ حریرہ تمہارے چہرے پر مل دوں گی۔
اس کے باوجود سیدہ سودہؓ نے انکار کیا۔ چنانچہ ازراہ محبت و پیار سیدہ عائشہؓ نے حریرہ میں ہاتھ ڈال کر سیدہ سودہؓ کے چہرہ پر لیپ دیا۔ نبی کریمﷺ یہ سب باہمی محبت و پیار دیکھ کر مسکرانے لگے اور سیدہ سودہؓ سے فرمایا کہ اب تم بھی سیدہ عائشہؓ کے چہرہ پر حریرہ مل دو۔ چنانچہ سیدہ سودہؓ نے بھی حریرہ میں ہاتھ ڈالا اور سیدہ عائشہؓ کے چہرہ پر اسی طرح لیب دیا۔ یہ منظر دیکھ کر نبی کریمﷺ کافی دیر تک مسکراتے رہے۔
مدح نبی بزبانِ عائشہؓ:
مواہب لدنیہ کی شرح میں امام زرقانیؒ نے لکھا ہے کہ سیدہ عائشہؓ نے آپﷺ‎ کی شان مبارک میں یہ شعر کہا۔ 
وَلَوْ سَمِعُوا فِی مِصْرَ أَوْصَافَ خَدِّهِ
لَمَا بَذَلُوا فِی سَوْمِ يُوسُفَ مِنْ نَقْدِ
لَوَّامِی زلِيخَا لَوْ رَأَيْنَ جَبِينَهُ
لَآثَرْنَ بِالْقَطْعِ الْقُلُوبَ عَلَى الْأَيْدِی۔
ترجمہ: مصر والے اگر میرے محبوب کے رخسار مبارک کے اوصاف سُن لیتے تو حضرت یوسف علیہ السلام پر سیم وزر کی قیمتیں لگانا بھول جاتے اور زلیخا کو ملامت کرنے والی عورتیں اگر میرے محبوب کی جبین مبارک کو دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کے بجائے اپنے دل کاٹنے کو ترجیح دیتی۔
صفحہ 7 از 8