ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 6 از 8
ابو آپؓ میری طرف سے رسول اللہﷺ‎ کو جواب دیں، اُنہوں نے کہا: میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا جواب دوں؟ پھر میں نے یہی الفاظ اپنی ماں سے کہے تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ اِس کے بعد میں نے خود آپﷺ‎ کو جواب دیا: اللہ کو بخوبی علم ہے کہ میں اس سارے معاملے میں بری اور بے قصور ہوں لیکن منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر اس کے اثرات گہرے پڑ چکے ہیں۔ اگر میں یوں کہوں کہ میں اس سے بَری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بَری ہوں، تو تم سب یقین نہ کرو گے اور اگر بالفرض میں اقرار کرلوں حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بَری ہوں، تو تم سب یقین کرو گے اور میں نے روتے ہوئے یہ کہا: اللہ کی قسم! میں اُس چیز سے کبھی توبہ نہیں کروں گی جو یہ لوگ مجھ سے غلط منسوب کرتے ہیں، بس میں وہی کہتی ہوں کہ جو یوسف علیہ السلام کے باپ نے کہا تھا: فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ‌ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ۞
(سورة یوسف: آیت، 18)
ترجمہ: صبر بہتر ہے اور اللہ ہی مددگار ہے اُس بات کی حقیقت ظاہر فرمانے پر جو تم بیان کرتے ہو۔
(اس موقع پر آپؓ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام نہیں لیا اس کی وجہ خود بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام یاد کیا تو نام یاد نہ آیا تو اِس لیے حضرت یوسف علیہ السلام کے والد کہا)
آپؓ خود فرماتی ہیں: اُس وقت میرے دل کو کامل یقین ہو گیا کہ ضرور اللہ تعالیٰ مجھے اس سے بری ثابت فرمائیں گے، لیکن یہ تو میرے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ میرے بارے میں اللہ تعالیٰ ایسی وحی نازل فرمائے گا جس کی ہمیشہ تلاوت ہوتی رہے گی، میرا خیال یہ تھاکہ اللہ تعالیٰ میری برأت اپنے رسول کو خواب دکھا دیں گے۔
آپ فرماتی ہیں: ابھی رسول اللہﷺ‎ وہیں پر تشریف فرما تھے کہ آپﷺ‎ پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی، آپﷺ‎ کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ رکھ دیا گیا اور ایک چادر اوڑھا دی گئی۔
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں: باوجود شدید سردی کے رسول اللہﷺ‎ کی جبین مبارک سے پسینے کے قطرات ٹپکنے لگے۔ جب وحی کا نزول شروع ہوا تو میں بالکل نہیں گھبرائی، کیونکہ میں جانتی تھی کہ میں بَری ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ پر ظلم نہیں فرمائے گا، لیکن میرے والدین کا خوف سے یہ حال تھا کہ مجھ کو اندیشہ ہوا کہ اُن کی جان ہی نہ نکل جائے۔
وحی الہٰی کا نزول ختم ہوا توآپﷺ‎ نے اپنی پیشانی مبارک سے پسینہ صاف کیا، آپﷺ‎ کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے۔ آپﷺ‎ مسکراتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا : يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللّهُ فَقَدْ بَرَّأَکِ۔
ترجمہ: اے عائشہؓ! اللہ نے تمہاری پاکدامنی بیان فرما دی ہے۔ چنانچہ سورۃ نور کی 11 سے لے کر 20 تک دس آیات مبارکہ سیدہ عائشہؓ کے حق میں نازل ہوئیں۔
آپؓ فرماتی ہیں: میری والدہ نے مجھے کہاکہ عائشہؓ اٹھو اور رسول اللہﷺ‎ کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! سوائے اللہ تعالیٰ کے جس نے میری برأت نازل فرمائی، کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔
نوٹ: ام المومنین سیدہ عائشہؓ دوہری حیثیت کی مالکہ ہیں۔ پہلی حیثیت یہ کہ آپؓ رسول اللہﷺ‎ کی امتی ہیں اور دوسری حیثیت کہ آپؓ رسول اللہﷺ‎ کی بیوی ہیں بلکہ محبوب ترین بیوی ہیں۔ اب سمجھیے کہ آپؓ والدہ کے کہنے کے باوجود آپﷺ‎ کا شکریہ کیوں نہیں ادا کیا یہ شوہر اور بیوی میں لاڈ و محبت کا وہ درجہ ہے جسے نافرمانی کا نام نہیں دیا جاتا بلکہ نازِ محبوبی کہا جاتا ہے۔
جب رسول اللہﷺ‎ سورۃ النور کی اِن آیاتِ مبارکہ کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ اُٹھے اور لختِ جگر کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ‎ مسجدِ نبوی تشریف لائے اور صحابہ کرام کے سامنے مذکورہ آیات تلاوت فرمائیں۔
سیدہ عائشہؓ کے بقول اس فتنے کی اصل بنیاد عبداللہ ابن اُبی بن سلول منافق تھا اور اُس کے ساتھ منافقین کا گروہ سر گرم تھا۔ مسلمانوں میں سے مسطح بن اثاثہؓ، حسان بن ثابتؓ اورحمنہ بنتِ جحشؓ پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ان کے مکر و فریب کے جال میں پھنس گئے۔
اِن تینوں افراد پر حدِ قذف جھوٹی تہمت لگانے کی شرعی سزا جاری کرتے ہوئے 80، 80 کوڑے مارے گئے اور وہ اپنی غلطی سے تائب ہوگئے۔ رضوان اللہ علیہم
آیتِ تیمم کا نزول:
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں: ہم لوگ حضورﷺ‎ کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم لوگ مقامِ بیداء یا مقام ذات الجیشِ میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، آپﷺ‎ اور کچھ لوگ اس ہار کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے، وہاں پانی بھی موجود نہیں تھا۔ اس وجہ سے کچھ لوگوں نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس جا کر میری شکایت کی۔
حضورﷺ‎ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہاں ٹھہرا لیا ہے حالانکہ یہاں پانی موجود نہیں ہے، یہ سن کر سیدنا ابوبکرؓ میرے پاس آئے اور بحیثیت والد مجھے سخت و سست کہا اور (ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے) اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مکا مارا۔
اس وقت رسول اللہﷺ‎ میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس لیے میں بالکل ہلی جلی نہیں۔ صبح کو جب آپﷺ‎ بیدار ہوئے تو وہاں کہیں پانی موجود ہی نہیں تھا، اسی وقت آپﷺ‎ پر تیمم کی آیت نازل ہو گئی۔ چنانچہ آپﷺ‎ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تیمم کیا۔
اس موقع پر سیدنا اُسید بن حُضیرؓ نے کہا کہ اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے۔ بلکہ آپؓ کے گھرانے کی کئی برکات ہیں اس کے بعد ہم نے اونٹ کو اٹھایا تو اس کے نیچے ہار موجود تھا۔
خوشگوار ازدواجی زندگی کے چند واقعات:
صفحہ 6 از 8