ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 8
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں: میں اپنے والدین کے پاس آئی اور اپنی ماں سے کہا: اے میری ماں آپ کو معلوم ہے کہ لوگ میری بابت کیا کہہ رہے ہیں؟۔ ماں نے کہا: اے میری بیٹی تو رنج نہ کر، دنیا کا قاعدہ یہی ہے کہ جو عورت خوبصورت اور خوب سیرت ہو اور اپنے شوہر کے نزدیک بلند مرتبہ ہو تو حسد کرنے والی عورتیں اُس کے ضرر کے درپے ہو جاتی ہیں اور لوگ بھی اُس پر تہمتیں تراشتے ہیں۔ میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ کیا ابو جان کو بھی اس بات کا علم ہے؟ تو والدہ نے جواب دیا کہ: ہاں۔
آپؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے میری ماں! اللہ تمہاری مغفرت کرے، لوگوں میں تو اِس کا چرچا ہے اور آپ نے مجھ سے اِس کا ذکر تک نہیں کیا، یہ کہتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میری چیخیں نکل گئیں۔ میرے والدؓ جو بالاخانہ پر تلاوتِ قرآن میں مصروف تھے کہ میری چیخ سن کر نیچے آ گئے اور میری ماں سے میرے بارے دریافت کیا۔ ماں نے کہا کہ اِسے ساری بات کا علم ہو گیا ہے۔ یہ سن کر میرے والد بھی رونے لگے۔ مجھ کو شدت کا لرزہ آیا، میری والدہ نے گھر کے تمام کپڑے مجھ پر ڈال دیے اور یونہی تمام رات روتے ہوئے گزر گئی۔ ایک لمحہ کے لیے آنسو نہیں تھمتے تھے کہ اِسی طرح صبح ہو گئی۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی زبان سے شدت غم سے صرف یہ جملہ نکلا: اللہ کی قسم! ایسی بات تو ہمارے بارے میں زمانہ جاہلیت میں بھی کسی نے نہیں کہیں، اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اسلام سے عزت بخشی تو اِس کے بعد کیسے ممکن ہے؟ جب اِس معاملہ میں نزولِ وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول اللہﷺ‎ نے سیدنا علیؓ اور سیدنا اُسامہ بن زیدؓ سے مشورہ فرمایا۔ سیدنا اُسامہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ‎ وہ آپ کے اہلِ خانہ ہیں، ہم ان میں سوائے خیر و بھلائی کے کچھ نہیں جانتے۔
اس کے بعد سیدنا علیؓ نے آپﷺ‎ کی مسلسل پریشانی اور رنج و غم کو دور کرنے کے لیے عرض کی: یا رسول اللہﷺ‎! اللہ تعالیٰ نےخواتین کے معاملے میں آپ پر تنگی نہیں رکھی آپ مزید پریشان نہ ہوں، اور اپنے آپ کو اس فکر میں گھولتے نہ رہیں ہم سے آپﷺ‎ کی یہ پریشانیاں دیکھی نہیں جاتی میری رائے یہ ہے کہ سیدہ عائشہؓ کے علاوہ اور بھی خواتین ہیں۔ لیکن آپ اس معاملے میں جلدی نہ فرمائیں بلکہ گھر کی باندی سیدہ بریرہؓ سے اس بارے حقیقت حال معلوم کر لیں۔
نوٹ:
بعض کم فہم لوگ سیدنا علیؓ کی گفتگو سے یہ سمجھتے ہیں کہ العیاذ باللہ سیدنا علیؓ کی نگاہ میں ام المومنینؓ کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی یا اچھی حیثیت نہیں تھی۔ حالانکہ ہرگز ہرگز ایسا معاملہ نہیں تھا بلکہ سیدنا علیؓ کو اُم المومنینؓ کی پاکدامنی و عفت میں ذرہ برابر بھی تردد نہیں، باقی رہے ان کے یہ کلمات تو ان کو بغض سیدہ عائشہؓ سے پاک دماغ ہی سمجھ سکتے ہیں سیدنا علیؓ کو بھی کامل یقین کامل تھا سیدہ بریرہؓ ضرور سیدہ عائشہؓ کے حق میں گواہی دے گی اور اس سے رسول اللہﷺ‎ کے دل کو اطمینان ہو جائے گا کہ کیونکہ سیدہ بریرہؓ خانگی معاملات کو قریب سے مشاہدہ کر رہی ہے۔ اس سے بعض کوڑھ مغز لوگ ماں بیٹے کی باہمی کدرورت سمجھیں تو ان کے اپنے عقل کا فتور ہے۔
آپﷺ‎ نے سیدہ بریرہؓ سے پوچھا: بریرہ! اگر تو نے ذرہ برابر بھی کوئی شئے ایسی دیکھی ہو جس میں تجھ کو شبہ اور تردد ہو تو بتلا۔ سیدہ بریرہؓ نے عرض کی: قسم ہے اُس ذات پاک کی، جس نے آپ کو برحق نبی بنا کر مبعوث فرمایا، میں نے سیدہ عائشہؓ کی کوئی بات معیوب اور قابلِ گرفت کبھی نہیں دیکھی، سوائے اِس کے کہ وہ ایک کمسن لڑکی ہیں، آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر سو جاتی ہیں، اور بکری کا بچہ آ کر اُسے کھا جاتا ہے۔
آپﷺ‎ نے جب سیدہ بریرہؓ کا یہ جواب سنا فوراً مسجدِ نبوی میں تشریف لے گئے اور منبر پر کھڑے ہو کر مختصر خطبہ دیا جس میں آپ نے فرمایا کہ اے مسلمانو! تم میں سے اس شخص کے خلاف کون میرا ساتھ دینے کو تیار ہے کہ جس نے میرے اہلِ بیتؓ کو ایذاء پہنچائی۔ اللہ کی قسم! میں نے اپنے اہلِ خانہ سے سوائے نیکی اور پاکدامنی کے کچھ نہیں دیکھا اور بالکل اسی طرح جس شخص کا اُن لوگوں نے نام لیا ہے اُن میں بھی سوائے خیر اور بھلائی کے کچھ نہیں دیکھا۔
اگرچہ حدیث پاک میں اس شخص کا صراحت کے ساتھ نام نہیں ہے لیکن حدیث کے مضمون سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ اس سے مراد سیدنا صفوان بن معطل سلمیؓ ہیں۔
چنانچہ قبیلہ اوس کے سردار سیدنا سعد بن معاذؓ نے پورے قبیلے کی طرف سے ترجمانی کرتے ہوئے گفتگو فرمائی اس کے قبیلہ خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادہؓ نے گفتگو کی۔ اختلاف مزاج کے بشری تقاضوں کے تحت بدمزگی سی محسوس ہونے لگی تو آپﷺ‎ منبر سے نیچے تشریف لائے اور دونوں کو خاموش رہنے کا حکم فرمایا۔
سیدہ عائشہؓ خود فرماتی ہیں: میرا یہ سارا دن بھی روتے ہوئے گزرا، ایک لمحہ بھر کے لیے بھی آنسو نہیں تھمے۔ رات بھی اِسی طرح گزری، میری اِس حالت میں میرے والدین کو گمان ہونے لگا تھا کہ اب اِس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ جب صبح ہوئی تو بالکل میرے قریب آکر میرے والدین بیٹھ گئے اور میں روئے جا رہی تھی اتنے میں انصار کی ایک عورت آگئی اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی۔
اِسی دوران اچانک رسول اللہﷺ‎ تشریف لائے اور سلام کر کے میرے قریب بیٹھ گئے۔ جب سے جھوٹا منفی پروپیگنڈا عام ہوا کبھی آپﷺ‎ میرے پاس آ کر نہیں بیٹھے تھے اور وحی کے اِنتظار میں ایک مہینہ گزر چکا تھا۔
آپﷺ‎ بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان فرمائی۔ اِس کے بعد یہ فرمایا:اے عائشہؓ! مجھے تیرے بارے میں ایسی ایسی بات پہنچی ہے، اگر تو اس بَری ہے تو دیکھنا عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور بَری کرے گا اور اگر تو نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو اللہ سے توبہ اور استغفار کر، اِس لیے کہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ اُس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔
آپؓ فرماتی ہیں: جب رسول اللہﷺ‎ نے اپنی بات ختم فرمائی تو اُسی وقت میرے آنسو تھم گئے۔ یہاں تک کہ آنسو کا کوئی ایک قطرہ بھی میری آنکھ میں نہ رہا اور میں نے اپنے والد سے کہا:
صفحہ 5 از 8