ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 8
مدینہ منورہ سے پہلے ذی قرع ایک بستی تھی، آپﷺ‎ نے اس مقام پر پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ لشکر کی روانگی سے کچھ پہلے سیدہ عائشہؓ قضائے حاجت کے لیے لشکر سے ذرا دور نکل کر باہر آڑ میں چلی گئیں۔ جب واپس تشریف لا رہی تھیں تو اِتفاقاً آپؓ کا ہاتھ اپنے گلے پر پڑا، ایک دم ٹھٹک کر رہ گئیں کیونکہ اپنی ہمشیرہ سیدہ اسماءؓ سے جو ہار عاریتاً لائی تھیں وہ گلے میں موجود نہیں تھا بلکہ کہیں گر چکا تھا۔ چنانچہ آپ واپس پلٹیں اور ہار تلاش کرنا شروع کیا۔
دوسری طرف لشکر مدینہ منورہ کی طرف جانے کے لیے بالکل تیار تھا،آپؓ نے یہ خیال کیا کہ ہار ابھی مل جائے گا اور میں واپس آجاؤں گی۔ لیکن ہار تلاش کرنے میں کافی دیر ہو گئی۔
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ آپؓ نے جاتے وقت کسی کو اطلاع نہیں دی کہ میں قضائے حاجت کے لیے جا رہی ہوں، ساربانوں جو کجاوے کو اٹھا کر اونٹ پر باندھتے ہیں نے خیال کیا کہ آپؓ کجاوے میں سوار ہیں۔
نوٹ:
یہ کجاوہ ڈولی نما ہوا کرتا تھا جس میں مستورات سفر کرتی تھیں۔ چونکہ پردے کے احکام نازل ہو چکے تھے اس لیے ازواجِ مطہراتؓ اور دیگر مسلمان خواتین سفر میں باپردہ ہی رہتی تھیں۔
اس کجاوے کے پردے نیچے لٹکے ہوئے تھے، ساربانوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ آپؓ کجاوے کے اندر موجود ہیں۔ کجاوہ اونٹ پر کسا اور لشکر کے ساتھ چل دیے۔ اُس زمانہ میں سیدہ عائشہؓ کی عمر بمشکل 14/15 سال برس تھی اور آپؓ کا جسم بھی دبلا پتلا تھا۔ اِسی لیےکجاوہ کَسنے والے ساربانوں کو معلوم نہ ہو سکا کہ آپؓ سوار ہیں یا نہیں؟
سیدہ عائشہؓ خود فرماتی ہیں: میں کافی دیر ہار تلاش کرتی رہی، بالآخر ہار مجھے مل گیا لیکن ایک پریشانی بھی ساتھ لاحق ہو گئی کہ قافلہ مجھے سے دور جا چکا تھا۔ غالباً ساربانوں نے میرا کجاوہ اٹھایا اور اونٹ پر باندھ دیا یہ سمجھ کر کہ میں بھی اس میں سوار ہوں حالانکہ میں ہار تلاش کرنے گئی تھی۔
اب اس میدان میں سوائے سیدہ عائشہؓ کے اور کوئی بھی نہیں تھا۔ چنانچہ آپؓ نے قافلے کے پیچھے جانے کے بجائے یہ فیصلہ کیا کہ قافلہ والے جب مجھے اپنے اندر نہ پائیں گے تو لازماً تلاش کرنے کے لیے یہیں لوٹیں گے اس لیے آپؓ چادر لپیٹ کر سو گئیں۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ آپؓ کو نیند آ گئی۔
جب لشکر کسی معرکے کے لیے نکلتے تو قافلے کے تین حصے ہوتے تھے۔ قافلے سے آگے کچھ فاصلے پر چندافراد ہوتے جنہیں حفاظتی دستہ یا مقدمۃ الجیش کہا جاتا۔ پھر قافلہ اور آخر میں چند افراد یا کسی ایک کی ذمہ داری ہوتی کہ قافلے والوں کی کوئی چیز راستے میں گر گئی ہو تو وہ اسے اٹھاتے۔
چونکہ قافلہ جا چکا تھا، قافلہ کے آخر ی حصہ کے ذمہ دار سیدنا صفوان بن معطلؓ تھے، وہ وہاں پہنچے اور دیکھا کہ سیدہ عائشہؓ کو آرام فرما رہی ہیں۔ سیدنا صفوانؓ نے آپؓ کو پردہ کے حکم نازل ہونے سے قبل چونکہ دیکھا ہوا تھا، اس لیے آپؓ کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ پڑھا۔ سیدہ عائشہؓ کے کانوں میں جب سیدنا صفوانؓ کی آواز پڑی تو آپ فوراً جاگ گئیں اور جھٹ سے پردہ کر لیا۔ آپؓ خود فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! سیدنا صفوانؓ نے مجھ سے کوئی بات تک نہیں کی اور اُن کی زبان سے سوائے اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ کے میں نے کوئی کلمہ نہیں سنا۔
آپؓ فرماتی ہیں: سیدنا صفوانؓ نے اپنا اونٹ میرےقریب کیا اور خود پیچھے ہٹ گئے، میں اُس پر سوار ہوئی اور سیدنا صفوانؓ اُس اونٹ کی نکیل پکڑ کر آگے ہو لیے اور لشکر کی تلاش میں تیزی سے روانہ ہوئے۔
آپؓ فرماتی ہیں ہم دوپہر کو لشکر کے ساتھ آ کر ملے اور تمہت لگانے والوں کو جو کچھ کہنا تھا، اُنہوں نے کہا اور مجھ کو اِس کی کوئی خبر نہ تھی۔
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مدینہ پہنچ کر میں بیمار ہوگئیں۔ تقریباً ایک مہینہ بیماری میں گزرا، بہتان طرازوں اور اِفتراء پردازوں نے طوفان برپا کرنے والے اپنے کام میں لگے رہے مگر مجھے ان باتوں کا کچھ علم نہیں تھا، رسول اللہﷺ‎ کے اُس مہربانی میں کمی آ جانے کی وجہ سے جو سابقہ بیماریوں میں میرے ساتھ رہی، دلی طور پر پریشان کن تھا کہ آخر کیا بات ہے کہ آپﷺ‎ گھر تو تشریف لاتے ہیں اور دوسروں سے میرا حال دریافت کرکے واپس ہو جاتے ہیں، مجھ سے دریافت نہیں کرتے، آپﷺ‎ کے اس انداز سے میری تکلیف میں اضافہ ہوتا تھا۔
آپؓ فرماتی ہیں: ایسے حالات نے مجھے دل گرفتہ کر دیا تھا میں نے رسول اللہﷺ‎ سے عرض کیا یا رسول اللہﷺ‎! اگر آپ مجھے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیں، میں وہاں چلی جائوں تا کہ وہ میری تیمارداری اچھی طرح سے کرسکیں گے تو رسول اللہﷺ‎ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔
چنانچہ میں اپنی والدہ کے پاس چلی آئی اور میں اِن باتوں سے قطعاً بے خبر تھی اور قریباً ایک ماہ کی بیماری میں نہایت کمزور ہوچکی تھی۔ ہم عرب لوگ تھے، ہمارے گھروں میں اہلِ عجم کی طرح بیت الخلا نہ تھا۔ قضائے حاجت کے لیے مدینہ کی کھلی فضاء میں چلے جاتے تھے (یعنی کھلے جنگل میں شہر کے باہر) اور خواتین حوائج ضروریہ کے لیے رات کو باہر جایا کرتی تھیں۔ چنانچہ میں بھی ایک شب رفع حاجت کے لیے باہر گئی اور میرے ہمراہ اُم مسطح بنتِ ابی رہم بن مطلب تھیں، چلتے چلتے وہ اپنی چادر میں اُلجھ کر ٹھوکر لگی اور گر گئیں تو اُن کے منہ سے نکلا: مسطح ہلاک ہو (مسطح اُن کا بیٹا تھا، لقب مسطح تھا اور نام عوف تھا)۔
یہ سن کر میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے ایک بدری مہاجر کو بددعا دے کر برا کیا۔ تو اُم مسطح نے کہا: اے دختر ابی بکرؓ! کیا تم کو وہ بات معلوم نہیں؟ میں نے پوچھا کون سی؟ تو اُم مسطح نے مجھے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ میں نے حیرت سے پوچھا: کیا یہ بات ہوچکی ہے؟
اُم مسطح نے کہا: ہاں واللہ! یہ بات پھیل چکی ہے۔ میرے اوسان خطاء ہوگئے اور میں بغیر رفع حاجت کے واپس چلی آئی، واللہ! میں رات بھر روتی رہی، میں نے محسوس کیا کہ روتے روتے میرا کلیجا پھٹ جائے گا۔ یہ سنتے ہی مرض میں اور شدت آ گئی۔
صفحہ 4 از 8