ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 8
سیدنا عروہ بن زیبرؓ فرماتے ہیں کہ قرآن، علم میراث، حلال و حرام، فقہ و اجتہاد، شعر و ادب، حکمت و طب، تاریخ عرب اور علم انساب میں سیدہ عائشہؓ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔
معروف تابعی سیدنا مسروقؒ سے پوچھا گیا: کیا سیدہ عائشہؓ فرائض (میراث) میں ماہر تھیں؟ فرمایا ہاں! اُس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے مشائخ و اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ آپ سے فرائض (میراث) کے مسائل پوچھا کرتے تھے۔
محدثین نے آپؓ کا شمار ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ کیا ہے جو کثرت کے ساتھ روایت کرنے والے ہیں۔
معانی قرآنی، فقہ و اجتہاد، علم میراث، شعر وادب، طب و حکمت، تاریخ عرب اور علم الانساب میں بھی آپؓ کا ہم پلہ کوئی نہیں اس کے ساتھ ساتھ علم حدیث میں آپؓ کی جو خدمات ہیں چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ امہات المومنینؓ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر ہیں۔ آپؓ مسائل کا شرعی بتلاتیں اور فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔
عبادات و معمولات:
فرائض، واجبات اور سنتوں کی ادائیگی میں زندگی بھر کبھی غفلت کا شکار نہیں ہوئیں اس کے ساتھ ساتھ نوافل و مستحبات میں بھی بہت دلچسپی تھی۔
نبی کریمﷺ جب تہجد کے لیے اٹھتے تو آپؓ بھی اٹھتیں اور نماز تہجد ادا فرماتیں۔ چاشت کی 8 رکعات کا معمول زندگی بھر رہا۔ اکثر روزہ سے ہوتیں۔ ایک دفعہ گرمیوں میں عرفہ کا دن تھا آپؓ روزے سے تھیں گرمی اس قدر سخت تھی کہ بار بار سر پر پانی ڈالتیں آپؓ کے بھائی سیدنا عبدالرحمٰنؓ نے کہا جب اتنی گرمی تھی تو روزہ کیوں رکھا؟ آپؓ نے فرمایا کہ میں بھلا یومِ عرفہ کا روزہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں جبکہ میں نے نبی کریمﷺ سے خود سنا ہے کہ عرفہ کا روزے سال بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ حج کی پابند تھیں بہت کم ایسا ہوا کہ آپؓ نے حج نہ کیا ہو۔ آپؓ نے کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا۔
آپ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے۔ حاجت مندوں کا بہت خیال فرماتیں۔ مالی صدقہ کثرت سے دیتیں۔ فقراء اور مساکین کو بہت نوازتیں۔ ان کی عزت و توقیر کا خیال رکھتیں۔
قاسم بن محمد بن ابی بکرؒ کا بیان ہے کہ میں صبح کو جب گھر سے روانہ ہوتا تو سب سے پہلے سلام کرنے کی غرض سے سیدہ عائشہؓ کے پاس جاتا، ایک صبح میں آپ کے گھر گیا تو آپ حالتِ قیام میں یہ آیت مبارکہ پڑھ رہی تھیں: 
فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا وَوَقٰٮنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ۞
(سورة الطور: آیت، 27)
 اور روتی جا رہی تھیں اور اِس آیت کو بار بار دہرا رہی تھیں، میں انتظار میں کچھ دیر رکا رہا، یہاں تک کہ کھڑا ہو کر اُکتانے لگا اور اپنے کام کاج کے لیے بازار چلا گیا، جب واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ اِسی حالت میں کھڑی نماز ادا فرما رہی ہیں اور مسلسل روئے جا رہی ہیں۔
نوٹ: حدیث مبارک میں جو آیتِ کریمہ مذکور ہے یہ سورۃ الطور کی آیت نمبر 27 ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔
سخاوت و دریا دلی:
سیدنا عروہ بن زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہؓ کے پاس اللہ کے رزق میں سے جو بھی چیز آتی وہ اس کو اپنے پاس نہ روکے رکھتیں بلکہ اسی وقت (کھڑے کھڑے) اس کا صدقہ فرما دیتیں۔
سیدنا عروہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو دیکھا کہ آپؓ نے ایک ہی وقت میں70 ہزار دراہم اللہ کی راہ میں خیرات کیے۔
سیدہ عائشہؓ کی خادمہ ام ذرہؒ بیان کرتی ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے دو تھیلوں میں آپ کو 80 ہزار یا ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا، آپؓ نے ایک تھال منگوایا اس میں مال رکھا اور لوگوں میں تقسیم کرنے بیٹھ گئیں۔ اور سارے کا سارا مال اللہ کی راہ میں تقسیم فرما دیا حتیٰ کہ ایک درہم بھی نہ بچا۔ آپؓ اُس دن روزے سے بھی تھیں۔جب شام ہوگئی تو آپؓ نے فرمایا: میرے افطار کے لیے کچھ لاؤ، وہ لڑکی ایک روٹی اور تھوڑا سا گھی لے کر آئی۔ اس پر اُم ذرہؒ نے آپؓ سے عرض کی آپؓ نے جو مال آج تقسیم کیا ہے، اگر اس میں سے ایک درہم بھی بچا لیتی تو ہم اس کا گوشت خرید لیتیں اور اس سے افطار کرتے، سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: اب اس طرح نہ کہو اگر مجھے اسی وقت یاد دلاتی تو شاید میں ایک درہم رکھ بھی لیتی۔
جلیل القدر تابعی سیدنا عطاءؒ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو سونے کا ایک ہار بھیجا جس میں ایک ایسا جوہر لگا ہوا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، آپؓ نے وہ قیمتی ہار تمام امہات المومنینؓ میں تقسیم فرما دیا۔
افک کا دلخراش سانحہ:
آپؓ کے زندگی کے بہت سے واقعات ایسے ہیں جو حوادثات کہلاتے ہیں۔ دشمنانِ اسلام منافقین نے آپؓ کی عفت وپاکدامنی پر انگلیاں بھی اٹھائیں۔ جسے عُرفِ عام میں واقعہ اِفک کہا جاتا ہے یہ بہت دلخراش سانحہ تھا کئی دنوں کے صبر واستقلال کے بعد بالآخر اللہ رب العزت نے آپ کی پاکدامنی پر قرآنی مہر ثبت کردی، قرآنِ کریم کی سورۃ نور میں تفصیل کےساتھ مذکور ہے۔
نوٹ: اِفک جھوٹ، تہمت اور بدعنوانی کے جھوٹے الزام کو کہتے ہیں۔ جب کہ بعض اہلِ لغت کے ہاں افک محض جھوٹ کو نہیں بلکہ ایسے بڑے جھوٹ کو کہتے ہیں جو اصل معاملے کی ساری صورتحال کو یکسر بدل دے۔ یہ لفظ فِکر کی طرح پڑھا جاتا ہے۔ یعنی الف کے نیچے زیر کے ساتھ۔
غزوہِ بنو مُصْطَلَقْ جو غزوہِ مُرَیْسِیع کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ابنِ اسحٰقؒ کی تحقیق کے مطابق شعبان 6ھ میں جب کہ ابنِ سعدؒ کی تحقیق کے مطابق یہ غزوہِ خندق سے بھی پہلے شعبان 5ھ میں پیش آیا۔ اس سفر میں امہات المومنینؓ میں سےآپﷺ‎ کے ہمراہ صدیقہ کائنات سیدہ عائشہؓ ہمرکاب تھیں۔
صفحہ 3 از 8