ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 8
جس کو خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارت ہو جائے وہ بہت خوش نصیب انسان ہوتا ہے اور اسے چاہیئے کہ وہ اپنی ساری زندگی نبی کریمﷺ کی تعلیمات کے مطابق بسر کرے۔ یہ خوش نصیبی ایک مومن کے لیے ہے جبکہ امُ المومنین سیدہ عائشہؓ کی خوش نصیبی کا عالم یہ ہے کہ سرورِ کائناتﷺ نے خواب میں آپؓ کی زیارت کی۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: میں نے تمہیں دوبار خواب میں دیکھا ہے ایک شخص میرے پاس آیا اس کے پاس ریشمی کپڑے میں تمہاری صورت تھی اور مجھے کہا کہ یہ آپ کی ہونے والی اہلیہ ہے، میں نے پردہ اٹھا کر دیکھا تو صورت تمہاری تھی تب میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا فرمائیں گے۔
پیغامِ نکاح:
امُ المومنین سیدہ خدیجہؓ کی وفات کے بعد سیدہ خولہ بنتِ حکیمؓ نے جیسے امُ المومنین سیدہ سودہ بنتِ زمعہؓ کے پاس آپﷺ کا پیغام نکاح لے کر گئیں، جو انہوں نے بصدِ سعادت قبول کیا اسی طرح آپﷺ کا پیغام نکاح لے کرسیدہ عائشہ صدیقہؓ کے گھر بھی گئیں اور سیدہ عائشہؓ کی والدہ محترمہ سیدہ امِ رومانؓ کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا، سیدہ امِ رومانؓ بہت خوش ہوئیں اورفرمانے لگیں کہ سیدنا ابوبکرؓ کا انتظار کر لینا چاہیئے سیدنا ابوبکرؓ تشریف لائے انہیں سارا معاملہ بتایا گیا۔
شبہِ صدیقی کا نبوی جواب:
آپؓ نے فرمایا کہ محمدﷺ تو میرے منہ بولے بھائی ہیں اس نسبت سے تو میری بیٹی عائشہؓ ان کی بھتیجی ہوئی۔ بھتیجی سے نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟ سیدہ خولہؓ نے آپﷺ کو بتایا تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے دینی بھائی ہیں لہٰذا نکاح جائز ہے سیدنا ابوبکرؓ نےاس سعادت پر لبیک کہا۔
پہلی نسبت ٹوٹنے کی وجہ:
رسول اللہﷺ کے پیغام نکاح سے پہلے سیدہ عائشہؓ کی نسبت جبیر بن مطعم بن عدی سے ہوچکی تھی، اِس لیے اُن سے پوچھنا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ مطعم بن عدی کے پاس گئے اور فرمایا کہ تم نے عائشہؓ کی نسبت اپنے بیٹے جبیر سے کی تھی، اب آپ کا کیا خیال ہے؟ مطعم بن عدی نے اپنی بیوی سے مشورہ لیا ان کے خاندان نے ابھی تک دعوتِ اسلام پر لبیک نہیں کہا تھا اُن کی بیوی نے کہا: اگر یہ لڑکی (سیدہ عائشہؓ) ہمارے گھر آگئی تو ہمارا بچہ بے دِین ہو جائے گا (یعنی بت پرستی چھوڑ دے گا) لہٰذا ہمیں یہ بات منظور نہیں۔
نوٹ: یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ صرف نسبت طے ہوئی تھی یعنی منگنی ہوئی تھی، نکاح یا رخصتی وغیرہ نہیں ہوئی تھی۔ یعنی سیدہ عائشہؓ کنواری تھیں، نبی کریمﷺ سے پہلے کسی سے نکاح نہیں ہوا۔
سیدہ عائشہؓ ام المؤمنین بنتی ہیں:
سیدہ عائشہؓ اپنے نکاح والے دن کے بارے میں بتلاتی ہیں کہ ایک دن میری والدہ سیدہ ام رومانؓ آئیں، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوں نے مجھے آواز دی میں آ گئی۔ مجھے اس بات کا کچھ علم نہیں تھا کہ ان کا کیا ارادہ ہے؟ خیر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھر کے دروازے کے پاس کھڑا کر دیا اور جھولا جھولنے کی وجہ سے میرا سانس پھولا جا رہا تھا، کچھ دیر بعد جب مجھے کچھ سکون سا ہوا تو انہوں نے پانی سے میرا منہ اور سر دھویا۔ اس کے بعد مجھے گھر کے ایک کمرے میں لے گئے۔ جہاں پہلے سے انصار کی چند خواتین موجود تھیں، مجھے دیکھتے ہی انہوں نے خیر و برکت کی دعا دی اور کہا کہ اچھا نصیب لے کر آئی ہو، میری والدہ نے مجھے انہیں کے حوالہ کیا اُنہوں نے مجھے دلہن کی طرح سجایا۔ اس کے بعد جب دن چڑھا تو رسول اللہﷺ تشریف لائے اور انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہؓ اپنے عزیز و اقارب کے ہمراہ بنو حارث کے محلہ میں رہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ 7 یا 8 مہینوں تک اپنی والدہ سیدہ امِ رومانؓ کے ساتھ رہیں۔ اس دوران اکثر مہاجرین کو یثرب مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی اور لوگ بیمار پڑ گئے۔ انہی میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ بھی تھے وہ بھی سخت بیمار ہوئے، سیدہ عائشہؓ اپنے والد کی تیمارداری میں مصروف رہیں۔ کچھ دنوں بعد آپؓ بھی بخار میں مبتلا ہوگئیں، مرض کی شدت کا یہ حال تھا کہ آپ کے سر کے بال تک جھڑ گئے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کچھ عرصہ بعد میرا بخار اتر گیا اور میں صحت یاب ہوگئی۔ رسول اللہﷺ سے میرے والد سیدنا ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہﷺ! آپ اپنی اہلیہ کو رخصت کیوں نہیں کرا لیتے؟ اِس میں کیا رکاوٹ ہے؟ یعنی آپ اپنی زوجہ اپنے گھر کیوں نہیں بلوا لیتے؟ آپﷺ نے فرمایا: اِس وقت میرے پاس حق مہر ادا کرنے کے لیے رقم موجود نہیں۔ آپﷺ کی یہ بات سن کرمیرے ابو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے آپﷺ کو 500 دراہم دیے۔ آپﷺ نے یہ تمام رقم مجھے بھجوائی اور میری رخصتی عمل میں آئی۔
امتیازی خصوصیات:
خود سیدہ عائشہؓ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: 9 باتیں ایسی ہیں جو دنیا میں میرے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں:
  1. خواب میں فرشتے نے آپﷺ کے سامنے میری صورت پیش فرمائی۔
  2. 7 سال میں میرے ساتھ اللہ کے نبیﷺ نے نکاح فرمایا۔
  3. 9 برس کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔
  4. امہات المومنینؓ میں میرے سوا کوئی بیوی پہلے کنواری نہیں تھی۔
  5. امہات المومنینؓ میں سے صرف میرے بستر پر قرآنِ کریم نازل ہوتا۔
  6. مجھے آپﷺ کی محبوب ترین بیوی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
  7. میرے حق میں قرآنِ کریم کی آیات اتریں۔
  8. میں نے جبرئیل امین کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
  9. رسول اللہﷺ نے میری گود میں سر رکھے وفات پائی۔
علمی جلالت شان:
سیدنا ابو موسیٰ الاشعریؓ فرماتے ہیں: ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جب کسی مسئلے میں مشکل پیش آتی تو ہم سیدہ عائشہؓ سے اِس بارے میں سوال کرتے تو آپؓ ہماری صحیح رہنمائی فرماتیں۔
مشہور تابعی امام زہریؒ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ‎ نے فرمایا: اگر اِس اُمت کی تمام عورتوں کے جن میں اُمہات المومنینؓ بھی شامل ہوں، علم کو جمع کرلیا جائے تو سیدہ عائشہؓ کا علم اُن سب کے علم سے زیادہ ہے۔
سیدنا امیرِ معاویہؓ نے فرمایا: میں نے کسی بھی خطیب کو سیدہ عائشہؓ سے بڑھ کر بلاغت و فطانت (ذہانت) والا نہیں دیکھا۔
صفحہ 2 از 8