دعویٰ وراثت
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہجب ہبہ کی طرف سے فیل ہوتے ہیں تو شیعہ حضرات وراثت کا سوال پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس دعویٰ کیا کہ فدک وراثت میں مجھے ملنا چاہیے سو یہ سوال پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔
1: اس لیے کہ وراثت بھی انہی اشیاء میں ہوتی ہے جو مورث کی ملکیت ہوں جب فدک حسبِ مسئلہ قرآن مال فی (وقف) تھا اور عامہ مسلمین کا حق تھا تو وراثت کیسی؟
2: اس لیے کہ دیگر ورثاء کو معلوم کر کے اکیلے فاطمہ رضی اللہ عنہ کو فدک بطورِ وراثت لینے کا کیا حق تھا حضرت کی نو بیویاں اور حضرت عباسؓ چچا بھی موجود تھے پھر ان کو کس طرح محروم الارث کر کے یہ مال اکیلے خاتونِ جنت کو مل سکتا تھا علاوہ ازیں اگر فدک میں مسئلہ فدک وراثت جاری ہو سکتا تھا اور انبیاء کے ترکہ توریث جائز ہوتی تو حضرت ابوبکرؓ کو اس تقسیم میں کچھ اثر نہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس سے آپ کی دختر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی بہرہ یاب ہوتی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہمیشہ مؤید رہے کی حق تلفی کس طرح روا رکھی جاتی؟
3: اس لیے کہ حضرت کی صحیح حدیث میں موجود ہے:
نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث ما ترکناہ صدقۃ۔
ترجمہ: ہم گروہِ انبیاء نہ کسی مال دنیوی کہ وارث ہوتے ہیں نہ ہمارا کوئی وارث ہوتا ہے ہمارا متروکہ صدقہ ہوتا ہے۔