پانچواں مسئلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کا اعتقاد ہے کہ جناب امیرؓ دیگر ائمہ خدا کی زبان منہ، آنکھ، ہاتھ اور جنب اللہ (خدا کی پسلی ہیں) اصولِ کافی صفحہ 72 میں ہے:
عَنْ اسْوَدَ بن سَعِيدٍ قَالَ كُنتُ عَنْدَ ابِی جَعَفَرَ فَانشَاء يَقُولُ ابْتَدَاءً مِنْهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ اسْئِلَهٗ نَحْنُ حُجَّةُ اللّٰهِ وَنَحْنُ بَابُ اللّٰهِ وَنَحْنُ لِسَانُ اللّٰهِ وَنَحْنُ وَجْهُ اللّٰهِ وَنَحْنُ عَيْنُ اللّٰهِ فِی خَلْقِهٖ وَنَحْنُ وَلَاةُ امْرِ اللّٰهِ فِی عِبَادِه۔
ترجمہ: اسود بن سعید کہتا ہے کہ میں سیدنا باقرؒ کے ہاں بیٹھا تھا وہ خود ہی کہنے لگے بغیر اس کے میں نے دریافت کیا ہو ہم خدا کی حجت ہیں ہم خدا کا دروازہ ہیں ہم خدا کی زبان اور خدا کا منہ اور اُس کی آنکھ ہیں اس کی مخلوق ہیں اور ہم خدا کے امر کے اس کے بندوں میں مختار کار ہیں۔
اس کتاب کے اسی صفحہ پر ہے:
حَدَّثَنِی هَاشِمُ ابْنُ عَمَّار الْجَهَنِی سَمِعْتُ امِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ انا عَيْنُ اللّٰهِ وَانَايَدُ اللّٰهِ وَانَا جَنبُ اللّٰهِ وَانَا بَابُ اللّٰهِ۔
ترجمہ: ہاشم بن ابی عمار کہتا ہے میں نے امیر المؤمنین سے سنا کہتے تھے، ہم خدا کی آنکھ، اس کے ہاتھ اس کے پہلو اور خدا کے دروازہ ہیں۔