Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امام حسن رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

جناب امیرؓ کے خلف اکبر حضرت امام حسنؓ سے حضرات شیعہ اس لیے ناراض ہیں کہ آپؓ نے سیدنا معاویہؓ سے صلح کر کے مسلمانوں کو گشت وخون سے بچا لیا۔ جناب ممدوح اپنے شیعہ کے جور و ستم کی جس قدر حکایت کرتے ہیں۔ ذیل کی روایات سے ظاہر ہے۔

1: جلاء العیون: صفحہ 268 میں ہے: ”جب ان منافقین نے یہ کلام حضرت سے سُنا اور ایک نے دوسرے پر نظر کی اور کہا اس کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو معاویہؓ سے صلح منظور ہے اور چاہتے ہیں کہ منصب خلافت معاویہؓ کو دلائیں، پس سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا۔ معاذ اللہ یہ شخص مثل پدر کافر ہو گیا ہے۔ کہہ کر بلوا کر دیا اور اسباب امام حسنؓ کا لوٹ لیا۔ یہاں تک کہ جائے نماز حضرت کے پاؤں کے نیچے سے کھینچ لی اور رداء دوش مبارک سے اُتار لی۔

2: جلاء العیون: صفحہ 276 حضرت نے فرمایا بخدا سوگند اس جماعت سے میرے لیے معاویہؓ بہتر ہے۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم شیعہ ہیں اور میرا ارادہ قتل کیا اور میرا مال لوٹ لیا۔ بخدا معاویہؓ سے میں عہد لوں اور اپنا خون حفظ کروں اور اپنے اہل وعیال میں ایمن ہو جاؤں، اُس سے بہتر ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کریں اور میرے اہل و عیال و عزیز و اقارب ضائع ہو جائیں۔ بخدا سوگند اگر میں معاویہؓ سے جنگ کروں یہی لوگ مجھے پکڑ کر معاویہؓ کو دے دیں۔

3: اس کتاب کے صفحہ 277 میں ہے۔ شیخ کشی نے بسند معتبر امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ ایک روز امام حسن اپنے گھر کے دروازہ پر بیٹھے تھے، ناگہاں ایک سوار آیا کہ اسے سفیان بن لیلیٰ کہتے تھے۔ اس نے کہا۔ (السلام عليك يا مذل المؤمنين) (اے ذلیل کننده مومنان)

ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیعان علیؓ نے ان کے خلف اکبر حضرت حسنؓ سے کیا سلوک کیا۔ صرف اس جرم پر کہ معاویہؓ سے صلح کرتا ہے۔ ان کو اور ان کے قبلہ جناب امیرؓ کو معاذ اللہ کافر کہا۔ بلوہ کر کے ان پر ٹوٹ پڑے، مال لوٹ لیا اور آپؓ کے پاؤں کے نیچے سے مصلیٰ کھینچ لیا اور دوش مبارک سے چادر تالی۔ پھر ایک مخلص نے آپؓ کو ذلیل کننده مومناں کا خطاب دیا۔ یہ تو ان شیعوں کے کرتوت تھے جنہوں نے آپؓ کا جمال اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پھر حال کے شیعہ کا کیا کہنا