شیعہ غور کریں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ غور کریں

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

12: وَجَاهِدُوۡا فِى اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ‌ هُوَ اجۡتَبٰٮكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ‌ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰهِيۡمَ‌ هُوَ سَمّٰٮكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ مِنۡ قَبۡلُ وَفِىۡ هٰذَا لِيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَهِيۡدًا عَلَيۡكُمۡ وَتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ‌۞

(سورۃالحج: آیت 78)

ترجمہ: اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں (اپنے دین کے لیے) منتخب کر لیا ہے اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیم کے دین کو مضبوطی سے تھام لو، اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی، تاکہ یہ رسول تمہارے لیے گواہ بنیں اور تم دوسرے لوگوں کے لیے گواہ بنو۔

دیکھو اس آیت میں مومنین مجاہدين کے اسلام اور ایمان پر کیسی قوی شہادتِ الٰہی موجود ہے کہ ان کا نام نہ صرف قرآن میں بلکہ آسمانی کتابوں میں پہلے ہی مسلمان لکھا ہوا ہے۔ کیا خلفائے کرام سے بڑھ کر کوئی شخص "وَجَاهِدُوْا فِیْ سَبِيْلِ اللهِ" کا حامل ہو سکتا ہے اس میں کلام نہیں ہے کہ انہوں نے اس حکم پاک کی پوری جانفشانی سے تعمیل کی، پھر شیعہ اگر خدا کی جملہ آسمانی کتابوں سے ان کے سچے اسلام کی شہادت مٹا سکتے ہیں تو مٹائیں۔ سبحان اللہ! جن بزرگانِ دین کے اوصافِ حسنہ تمام آسمانی نوشتوں میں پہلے ہی سے درج ہو چکی ہوں اگر کوئی حق ناشناس ان کے خلاف یاوہ گوئی کرے تو کیا مضائقہ ہے؟

گرنہ بیند بروز شپرا چشم 

                 چشمہ آفتاب راچہ گناہ؟

13: لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ۞ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا ‌وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞

(سورۃالفتح: آیت 18، 19)

ترجمہ: يقيناً اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی اور غنیمت میں ملنے والے بہت سے مال بھی جو ان کے ہاتھ آئیں گے اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اس آیت میں خداوند کریم نے بیعتِ رضوان کے شاملین کو اپنی رضاء کی سند عطا فرمائی اور ان پر رحمت کا نازل کرنا اور فتح اور حصولِ مغانم کی مبارک باد دی ہے۔ شیعہ بتلائیں کیا خوشنودی کا پروانہ منافقین کو بھی ملا کرتا ہے؟ کبھی نہیں جو لوگ اس بیعت میں شامل ہوئے اور اس پر قائم رہے ان کو منشور رضا الٰہی عطا ہو چکا اور الٰہی دربار سے ملا ہوا منشور پھر واپس نہیں لیا جا سکتا یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ میں سے شیخین تو اس بیعت میں شریک تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسالت مآبﷺ کی تعمیلِ حکم کے لیے مدینہ منورہ میں سفیر بن کر گئے ہوئے تھے اور گویا وہ اس بیعت میں پہلے ہی سے داخل ہو چکے تھے۔ کیونکہ بیعت لینے سے مطلب ہی یہ تھا کہ کوئی شخص ایسے مشکل وقت میں ہمت ہار کر لشکرِ اسلامیہ کا ساتھ نہ چھوڑ دے۔ وہ تو پہلے ہی سے اس عہد کی وفا کا عملی ثبوت دے چکے تھے کہ دشمن کے شہر میں امرِ رسولﷺ مان کر چلے گئے تھے۔

دوم: آنحضرتﷺ نے حضرت عثمانؓ کو بھی بیعت میں اس طرح شریک فرمایا کہ خاص اپنے دستِ مبارک کو دستِ عثمانؓ بتایا جس سے بیعتِ عثمانؓ کا رتبہ سب سے بڑھ گیا کتب شیعہ میں بھی اس کی تصدیق موجود ہے۔ 

چنانچہ فروع کافی (روضہ) جلد 2، صفحہ 151 میں ہے۔

"فَلَمَّا انْطَلَقَ عُثْمَانُ لَقِیَ اَبَانَ بن سعيد فتاخر عن السرج فتحمل عثمان بين يديه ودخل عثمان فاعلمهم وكانت المنافشة مجلس سهل ابن عمر وعند رسول الله صلى الله عليه وسلم مجلس عثمان فی عسكر المشرکين وبايع رسول الله المسلمين وضرب رسول الله باحدى يديه على الاخرىٰ لعثمان وقالی المسلمون طوبیٰ لعثمان طاف بالبيت وسيعی بين الصفا والمروۃ واحل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كان ليفعل فلما جاء عثمان قال رسول الله اطفت بالبيت فقال ما كنت لاطوف بالبيت رسول الله لم يطف به ثم ذكر قصة وما كان فيها"

ترجمہ: "پس جب چلا عثمانؓ ملا ابان بن سعیدؓ کو، پس پیچھے ہوا زین سے، پس عثمانؓ اس کے آگے سوار ہوا اور داخل ہوا عثمانؓ اور ان کو آگاہ کیا۔ پس سہل بن عمرو (سفیِر مشرکین) رسول اللہﷺ کے پاس آ بیٹھا اور عثمانؓ لشکر مشرکین میں مبحوس ہوا۔ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں سے بیعت لی اور اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر عثمانؓ کے لیے مارا۔ مسلمان کہنے لگے خوشا حال عثمانؓ کا کہ طواف کعبہ نصیب ہوا اور صفا مروہ میں سعی کرے گا۔ حضرتﷺ نے فرمایا کہ ممکن نہیں کہ عثمانؓ ہمارے بغیر طواف کرے۔ پس جس وقت عثمانؓ آیا، حضرت نے فرمایا کہ تو نے کعبہ کا طواف کیا؟ عرض کی کہ میں بغیر حضورﷺ کے کس طرح سے طواف کرتا۔ 

یہی مضمون شیعہ کی کتاب حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 404 میں درج ہے ایسا ہی حملہ حیدری میں درج ہے۔

طلب کر دپس اشرف انبیاء 

ز اصحاب عثمانؓ صاحب حیا 

باوہم ہماں گفت خیر البشرﷺ 

کہ زاں پیشتر گفتہ بد باعمرؓ 

ببو سید عثمانؓ زمین و زماں  

با مقصد رواں شد چو تیراز کماں

چو اورفت اصحاب روز دگر 

بگفتند چندیں با خیر البشرؓ 

خوشا حال عثمانؓ با احترام 

کہ شد قسمتش حج بیت الحرام 

رسول خدا چوں شنید ایں سخن 

بپا سخ چنیں گفت با انجمن 

ز عثمانؓ نداریم ما ایں گماں

کہ تنہا کند طواف آں آستاں



صفحہ 2 از 2