خدا کا غصہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہحضرت علیؓ تو آخر بشر تھے، مان بھی لیا جائے کہ انہوں نے غصہ میں آ کر قرآن کو کہیں گم کر دیا ہو لیکن یہ کس طرح مانا جاسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو غصہ قاتلانِ حسینؓ پر ہو اور اس کا نزلہ حضرت امام منتظر پر گرے کہ وہ اس کی سزا میں دائم الحبس کر دیئے جائیں اور اس کے ساتھ ہی قرآن دنیا سے نابود کر دیا جائے، یہ سب کچھ خرافات ہیں جو یار لوگوں نے افتراء کیے ہوئے ہیں۔ قرآن یہی ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے، یہی قرآن حضرت علیؓ پڑھتے تھے اور یہی قرآن ائمہ اہلِ بیت کے وردِ زبان تھا اور یہی ہمیشہ رہے گا، امام مہدی آئیں گے تو اس قرآن کی اشاعت فرمائیں گے۔