ایک اور ثبوت
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاس امر کا مزید ثبوت کہ شیعہ کے نزدیک اصلی قرآن وہ ہے جو حضرت علیؓ نے جمع کیا۔ اصول کافی: صفحہ 671 میں ہے۔َ
عَنْ سَالِمِ ابْنِ سَلَمَةَ قَالَ قَرَءَ رَجُلٌ عَلىٰ أَبِیْ عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَنَا اَسْتَمِعُ حُرُوْفاً مِنَ الْقُرْآنِ لَيْسَ عَلىٰ مَا يَقْرَءُهَا النَّاسُ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ كُفَّ عَنْ هٰذِهِ الْقِرَاءَةِ اِقْرَأْ كَمَا يَقْرَءُ النَّاسُ حَتَّى يَقُومَ الْقَائِمُ فَإِذَا قَامَ الْقَائِمُ قَرَءَ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَلىٰ حَدِّهِ أَخْرَجَ الْمُصْحَفِ الَّذِیْ كَتَبَهٗ عَلىٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَالَ أَخْرَجَهٗ عَلىٌّ عَليهِ السَّلَام النَّاسِ حِيْنَ فَرَغَ مِنْهُ وَكَتَبَهٗ فَقَالَ لَهُمُ هَذَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كَمَا أَنْزَلَهُ اللَّهُ عَلىٰ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعْتُهٗ مِنَ اللَّوحِينِ فَقَالُو هُوَ ذَا عِنْدَنَا مُصْحَفٌ جَامِعٌ فِيْهِ الْقُرْآنُ اَلَا حَاجَة لَنَا فِيْهِ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ مَا تَرَونَهٗ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَ أَبَدًا إِنَّمَا كَانَ عَلَى أَنْ أَخْبَرَكُمُ حِيْنَ جَمَعْتُهٗ لَتَقَرِيْرُ
ترجمہ: سالم بن سلمہ راوی ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صادق کے پاس قرآن پڑھا، اس قرآن کے ایسے حروف میں نے سنے جو اس قرآن میں نہیں ہیں جو لوگ پڑھا کرتے ہیں۔ امام صاحب نے اسے کہا ابھی اس قرآن کا پڑھنا بند رکھو بلکہ یہی پڑھا کرو جو لوگ پڑھتے ہیں، جب تک امام مہدی کا ظہور نہ ہو۔ جب وہ تشریف لائیں گے، وہ دوسرا قرآن پڑھیں گے۔
امام جعفرؒ نے حضرت علیؓ کا لکھا ہوا قرآن نکالا اور فرمایا...... یہ ہے وہ قرآن جو خدا نے رسول اللہﷺ پر نازل کیا، میں نے اس کو ہر دو لوح سے جمع کر لیا ہے۔ لوگوں نے کہا، ہمارے پاس قرآن جامع موجود ہے، تمہارے قرآن کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا! بخدا تم اس قرآن کو آج کے بعد کبھی بھی نہ دیکھ سکو گے، مجھے لازم تھا کہ تمہیں اپنے جمع کردہ قرآن سے آگاہ کر دوں تا کہ تم اُسے پڑھو۔
اب اس حدیث سے بوضاحت ثابت ہو گیا کہ شیعوں کا قرآن (جمع کردہ) کہیں موجود ہے جو کسی نے امام جعفر صادقؒ کے پاس پڑھ بھی دیا تھا۔
سننے والے نے معلوم کیا کہ اس قرآن کے حروف اس قرآن سے نہیں ملتے۔ پھر امام نے اسے مصلحتاً روک دیا کہ ابھی اس کو ظاہر نہ کرو، یہ حضرت مہدی کے ہاں بطورِ خزانہ مخفیہ رہے گا جب وہ تشریف ساتھ لائیں گے۔ امام جعفر صادقؒ نے یہ بھی فرما دیا کہ حضرت علیؓ نے قرآن جمع کر کے لوگوں کے پیش کیا تھا، اُنہوں نے کہا ہمارے پاس کامل مکمل قرآن موجود ہے، ہمیں تمہارے قرآن کی ضرورت نہیں ہے، پس امیر اتنی بات سے خفا ہو گئے اور فرمانے لگے آج کے بعد اس قرآن کو تم لوگ کبھی بھی نہ دیکھ سکو گے۔
آج کل شیعہ مولوی بھی اسی قرآن کے قائل ہیں۔
چنانچہ رسالہ نافع: صفحہ 21، مصنفہ مولوی محسن علی شاہ صاحب سبزواری جس کو جعفریہ ایسوسی ایشن پنجاب لاہور نے شائع کیا ہے، اس کے صفحہ 24 پر لکھا ہے کہ امیر المومنینؓ نے جو قرآن جمع کیا تھا وہ اس وقت شیعہ سنی دونوں کے پاس نہیں ہے۔ مگر ہے ضرور، کہیں ہو۔ آخر کچھ لوگوں نے اس کو دیکھا ہے۔
ہم حضرات شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ جس قرآن کے آپ لوگ قائل ہیں وہ تو امام غائب کے ساتھ کہیں غائب ہے۔ موجودہ قرآن بقول آپ کے ناقص اور غلط ہے تو فرمائیے آپ کے ہاتھ میں خدا کی کتاب ہدایت کونسی موجود ہے؟ جس کی وجہ سے آپ مومن ہو سکتے ہیں۔ سنیوں کے ہاتھ میں ایک قرآن موجود تو ہے (نامکمل سہی) مگر جب ساڑھے تیرہ سو سال ہو چکے ہیں ابھی تم لوگوں نے اپنا مکمل قرآن خواب میں بھی نہیں دیکھا تو اس قرآن کا وجود و عدم تو تمہارے لیے یکساں ہے۔
تا تریاق از عراق آورده شود مارگزیده مرده نشود۔ کب
امام غائب آئیں، قرآن لا کر تمہیں دکھائیں، اس تمام عرصہ میں تو تم گمراہ ہی رہے۔ جو مر گئے ان کے لیے اُن کی آمد کا کیا فائدہ؟
جب مر چکے تو آئے ہمارے مزار پر
پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر