اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 6 از 6

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے خارجیوں سے مناظرہ کرتے وقت انہیں تحکیم کے جواز میں جو دلائل دیے وہ اتنے واضح ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت انسان ان کا انکار نہیں کر سکتا، بایں ہمہ بیشتر خوارج ان کے ہم خیال نہ ہوئے، یہ اس لیے تھا کہ وہ سبائی عقیدہ کے مطابق سیدنا علیؓ کو آسمانی عہدہ امامت کا امام سجھتے تھے اور آسمانی عہدہ سے دستبرداری کی تجویز واقعی اپنے لیے کفر کا دروازہ کھولنا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ فتنہ خوارج دراصل ایک سبائی تحریک تھی جو پہلے سیدنا عثمانؓ کے خلاف اٹھی تھی، اس وقت ان کا خروج سیدنا عثمانؓ کے خلاف تھا پھر یہ لوگ زبردستی سیدنا علیؓ کی فوجوں میں آ گھسے تھے، ان کا اعتقاد تھا کہ امامت ایک آسمانی عہدہ ہے، جو حضور اکرمﷺ کے بعد سیدنا علیؓ کو حاصل تھا، واقعہ تحکیم کے بعد سیدنا علیؓ کے خلاف ہو گئے سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے صرف سیاسی اختلاف تھے اعتقاداً دونوں ایک تھے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں آپس میں کوئی اعتقادی فتنہ نہ پھوٹا تھا، تاریخ اسلام میں پہلا اعتقادی فتنہ تحریکِ خوارج رہی اور یہ اسی سباںٔیت کی ایک دوسری کڑی تھی جو سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا موجب ہوئی تھی اور اس کی تیسری کڑی یہ اثناء عشری مذہب کی تشکیل و تدوین رہی جس کا مدار بارہ اماموں کے آسمانی عہدہ امامت پر رہا یہ لوگ بڑے فخر سے اپنے آپ کو امامی کہتے ہیں، اس عقیدے کو ساسانی ایران میں بادشاہوں کا ربانی حق کہا جاتا رہا ہے۔

حضور اکرمﷺ کے دور میں ایک دفعہ تقسیم غنائم کے موقع پر ایک شخص نے سر اٹھایا اور حضورﷺ سے عدل کرنے کو کہا، آپﷺ نے فرمایا اگر میں عدل نہ کروں گا تو اور کون کرے گا اللہ تعالیٰ نے مجھے آسمانی باتوں کا امین بنایا تم زمینی امور میں مجھے امین نہیں سمجھتے،آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس جڑ سے ایک قوم نکلے گی کہ تم اپنے اسلام کو ان سے کمزور محسوس کرو گے آپﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا! یمرقون من الاسلام: یہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اس اساس پر یہ لوگ خوارج کہلائے (اسلام سے نکل جانے والے) ان لوگوں نے صراحتاً اسلام کا انکار نہ کیا تھا عدلِ رسالت سے انکار کیا تھا، سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت کے آخر میں یہ لوگ آپ کے خلاف اٹھے اور آپ پر وہی عدل نہ کرنے کا الزام لگایا جو یہ لوگ پہلے حضور اکرمﷺ پر لگا چکے تھے، عبداللہ بن سبا نے ان کی قیادت یہاں تک کی کہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا، پھر یہ لوگ زبردستی سیدنا علیؓ کی فوجوں میں جا گھسے، یہ لوگ سیدنا علیؓ کو چلنے نہ دیتے تھے سیدنا علیؓ نے انکے بارے میں فرمایا۔

يملكوننا ولا نملكهم (نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 98)

ترجمہ: یہ ہمارے حاکم بنے بیٹھے ہیں ہم ان پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔

سیدنا علیؓ کو امرِ خلافت میں نا کام کرنے میں یہ لوگ ہمیشہ پیش پیش رہتے، آپ نے انہیں صاف لفظوں میں اپنا نا فرمان بتلایا۔

ايتها الفرقة التی اذا امرت لم تطع واذا دعوت لم تجب ان امهلتم خفتم و ان حوربتم خرتم و ان اجتمع الناس على امام طعنتم و ان اجئتم إلى مشاقة نکضتم لا ابا لغيركم

اے وہ جدا ہونے والو جب میں کوئی حکم دوں تو نہ ماننے والے ہو اور جب میں تمہیں آواز دوں تو تم جواب نہیں دیتے، اگر میں تمہیں ڈھیل دوں تم تھک جاتے ہو اور اگر تمہیں لڑنے کا کہا جائے تو تم چیخ اٹھتے ہو اور اگر لوگ کسی امام پر جمع ہو جائیں تو تم ان خلفاء پر طعن کرنے لگتے ہو اور اگر تمہیں کسی مہم پر لے جایا جائے تو تم منہ پھیر لیتے ہو۔

پھر تحکیم کے موقع پر یہ واقعی سیدنا علیؓ سے جدا ہوئے اور انہوں نے خوارج نام پایا، اب انہوں نے اپنے اختلافات باقاعدہ وضع کیے جس طرح پہلے یہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے مخالف تھے اب یہ سیدنا علیؓ کے بھی مخالف ہو گئے عبدالرحمٰن بن ملجم سیدنا علیؓ کا قاتل انہی میں سے تھا، انہوں نے ہی سیدنا علیؓ حضرت امیرِ معاویہؓ اور سیدنا عمرو بن العاصؓ کو ایک ہی رات میں قتل کرنے کی سازش کی تھی، اب یہ ان تینوں اور ان کی اولاد کے مخالف تھے سیدنا حسینؓ اور یزید دونوں کے خلاف ایک جیسے تھے۔


صفحہ 6 از 6