اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 6

اس اصول کی رو سے اثناء عشری علماء جو اس دنیا سے جا چکے، ان کے تمام فتاویٰ کالعدم ہو گئے اور ان کا وہی دین و ایمان رہ گیا جو ان کے زندہ علماء بیان کریں، ظاہر ہے کہ یہ وہ چکر ہے جس نے پورے کے پورے مذہب کو شکوک و شبہات اور بے سند روایات پر لا کھڑا کیا ہے، پہلے تقیہ نے اس مذہب کی آدھی جان لے لی تھی اب باقی ماندہ اس اصول نے لے لی، کہ مفتی کے فوت ہوتے ہی اس کے تمام فتوے فوت ہو جاتے ہیں، اس صورتِ حال میں یہ اثناء عشری شیعہ بھی تقریباً اسی سٹیج پر آ گئے جس پر اسماعیلی شیعہ پہلے سے کھڑے تھے کہ ایک حاضر امام کے ہوتے انہیں نہ کسی کتاب کی ضرورت ہے نہ کسی اجتہاد کی۔

عشق کی ایک جست نے سب کر دیا قصہ تمام 

ورنہ اس کو علم کا اک سلسلہ سمجھا تھا میں

مشترکہ مجالس میں اپنی کتابوں سے لا تعلقی:

سرکاری مجالس میں حکام کبھی دو فریقوں کو بھی بلا لیتے ہیں ان میں کچھ خوش آہنگی پیدا ہو اور ایک ملک میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں زیادہ کشیدگی میں نہ رہیں آپ نے ایسی مجالس کو ضرور دیکھا ہو گا جن میں سنی شیعہ کے مابین کبھی مصالحت کی کاروائی ہوتی ہے ایسے موقع پر جب شیعہ علماء کو ان کی کتابیں دکھائی جائیں تو وہ بڑی مستعدی سے اپنی کتابوں سے بے نیازی اور لا تعلقی ظاہر کرتے ہیں اور حکام کو کہتے ہیں کہ یہ کتابیں صحیح نہیں ان میں بہت سی غلط روایات بھی موجود ہیں زیادہ بہتر یہی ہے کہ ان کو چھیڑا نہ جائے ورنہ ان سے خلیج اختلاف اور زیادہ وسیع ہو گی پھر حکام بھی ان کی دلجوئی کرتے ہیں اور افسران کے روبرو ان کو اپنی کتابیں دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی، ایسا کیوں؟ یہ اس لیے کہ یہ کتابیں تقیہ پر مبنی روایات اور فوت شدہ علماء کے فتاویٰ سے لا تعلقی برتنے کی ہدایات کے باعث اپنی افادیت کھو چکی ہیں ان سے مصالحت کی جو بات ہوتی ہے زبانی کلامی ہوتی ہے اور اس بات کو کبھی سامنے نہیں آنے دیا جاتا کہ یہ ایک دوسرے سے لا تعلقی تبرا اور اظہارِ برأت کیسے ان کے مذہب کا اصول بن گیا ہے۔

ان كنت لا تدرى فتلك مصيبة

وان كنت تدری فالمصيبة اعظم

علم سے بے نیازی انہیں کہاں تک لے گئی:

اپنی تاریخ سے بے خبری اور علم سے بے نیازی انہیں کہاں تک لے گئی اہلِ علم اس کا تصور نہیں کر سکتے کہ کوئی جماعت اپنے بانی کے تاریخی وجود کا انکار کر دے شیعی فکر کا بانی (ایک یہودی) عبداللہ بن سباء سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت میں یمن سے نمودار ہوا اس نے آسمانی امامت کا بیج بویا، تاہم اثناء عشری عقیدہ کی بناء چونکہ بارہ اماموں پر تھی اس لیے یہ مذہب گیارہویں حسن عسکری (260ھ) کی وفات کے بعد تدوین کی منزل میں آیا اور چوتھی صدی کے شروع میں ان کے اصولِ اربعہ میں سے پہلا اصول الکافی للکلینی (328ھ) مرتب ہوا ان کے ہاں چار سو دستاویزات تھیں جن سے اس نے ترتیب پائی، سو شیعی فکر اور شیعی مذہب میں تقریباً تین صدیوں کا تاریخی فاصلہ ہے شیعی فکر عبداللہ بن سبا کی سربراہی میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دو سالوں میں پیدا ہو چکی تھی البتہ شیعی مذہب چوتھی صدی ہجری میں مرتب ہوا۔

عبداللہ بن سبا کے تاریخی وجود سے انکار:

عبداللہ بن سبا کے تاریخی وجود سے انکار تاریخ سے ایک کھلا مذاق ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے مرزا حیرت دہلوی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ واقعہ کربلا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا یہ لوگوں کی اپنی اختراع ہے سیدنا حسینؓ تو اپنی طبعی وفات سے مدینہ میں فوت ہوئے لڑنے والے کے تو ہاتھ روکے جا سکتے ہیں مگر بولنے والے کی زبان نہیں روکی جا سکتی وہ کتنا ہی غلط نہ بول رہا ہو۔

صحیح بخاری پختگی ثبوت میں تاریخ بنی آدم میں ایک بے مثال تالیف ہے اس کے مطالب سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کے ثبوت میں نہیں، اس میں ایک زندیق (عبداللہ بن سبا) کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے مارا جانا صریح طور پر مذکور ہے، یہ صحیح ہے کہ اثناء عشری مذہب اس کی وفات کے مدتوں بعد بنا لیکن اس میں شک نہیں کہ اثناء عشریوں کے عقائد انہی اصولوں پر مرتب ہوئے جو ابن سباء نے پھیلائے تھے یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے سبائی اور اثناء عشری ناموں کا مصداق ایک ہی گروہ چلا آ رہا ہے حضرت علیؓ کے لشکر میں آخر دم تک یہ سبائی موجود رہے معرکہ صفین کے بعد یہ باقاعدہ منظم ہوئے اور خوارج کے نام سے انہوں نے شہرت پائی۔

عبداللہ بن سبا سیدنا علیؓ کے آسمانی عہدہ امامت کا عقیدہ رکھتا تھا، سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد اس عقیدے کے بہت سے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افواج میں آ شامل ہوئے، آپؓ انہیں نکال نہ سکتے تھے اور ان کی عام بغاوت کا آپ کو ہمیشہ خدشہ لگا رہتا تھا یہی لوگ تھے جنہوں نے جنگِ صفین کے بعد سیدنا علیؓ سے اس مسئلے میں اختلاف کیا کہ آپ نے سیدنا ابو موسیٰ الاشعریؓ کو حکم تسلیم کر کے کفر کا ارتکاب کیا ہے، یہ کفر تبھی ہو سکتا ہے کہ سیدنا علیؓ کی امامت زمینی منصب نہ ہو کوئی آسمانی منصب ہو جس کا انکار کفر ہو، زمینی افراد (جیسے خاوند اور بیوی) تو اپنے میں حکم مقرر کر سکتے ہیں وہ کسی آسمانی منصب پر نہیں ہوتے لیکن آسمانی امامت کا داعی کبھی کسی شخص کو اپنے عہدے سے دستبرداری کا اختیار نہیں سونپ سکتا جب سیدنا علیؓ نے ابو موسیٰ الاشعریؓ کو یہ اختیار سونپ دیا تو یہ اپنے عہدہ امامت کا انکار تھا اور سبائی عقیدہ میں یہ کفر تھا۔

صفحہ 5 از 6