اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 6

آنحضرتﷺ نے لفظ سید کو ایک وصفی عزت دی ہے آپﷺ نے اس لقب کو بڑے لوگوں کی رسائی سے محفوظ بنایا ہے، ان پر یہ لفظ کسی طرح نہ آ سکے گا، حضرت بریدہؓ کہتے ہیں، آنحضرتﷺ نے فرمایا!

لا تقولوا للمنافق سیّد فانه ان یک سیّد فقد اسخطتم ربکم عزوجل (سنن ابی داؤد: جلد، 2 صفحہ، 324 اسنادہ صحیح جامع اصول: جلد، 11 صفحہ، 732) 

ترجمہ: تم کسی منافق کو سید نہ کہنا وہ اگر ایسا ہو تو تم نے ایسا کہہ کر اپنے پروردگار کو غصے میں کر دیا۔ 

اس سے پتہ چلا کہ کسی بے دین کو سیّد نہیں کہا جا سکتا غلام اپنے آقا کو سید کہہ سکتا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سید ایک وصفی عزت ہے اگر یہ کسی خاندان کے لیے نشان ہوتا تو حضور اکرمﷺ اسے عام لغوی معنی میں جاری نہ فرماتے آپ نے یہ بھی فرمایا! قوموا الی سیّدکم اور آپﷺ کا اشارہ سیدنا سعد بن عبادہؓ کی طرف تھا جو انصار کے نہ تھے، حضور اکرمﷺ نے حضرت حسنؓ کو سید کہا تھا تو آپ نے یہ وصفی عزت اسے اس بڑے کردار پر دی کہ انہوں نے مسلمانوں کے دو گروہ جو ایک دوسرے سے جدا ہو چکے تھے اور ملتِ اسلامی دو ٹکڑے ہو کر رہ گئی تھی پھر سے جمع کیا اور سلطنت ایسے ہاتھوں میں دے دی جو اسلام کی سیاسی شوکت قائم کرنے میں اس وقت کا صحیح انتخاب تھے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا:

ابنی ھذا سیّد ولعل اللہ ان یصلح به بین فئتین من المسلمین(صحیح البخاری: جلد، 1 صفحہ، 530) 

ترجمہ: میرا یہ بیٹا سید ہے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے مسلمانوں کی دو (بڑی) جماعتوں میں صلح کرا دے۔

تاریخ گواہ ہے کہ حضرت حسنؓ دو جماعتوں کا ایک کرنے میں سرداری لے گئے شعیہ حضرات نے ہمیشہ اس ٹائیٹل کو ایک نسلی امتیاز سمجھا ہے اور پھر اس میں اتنی ٹھوکر کھائی کہ وہ اسے سیدہ فاطمہؓ کی اولاد سے بھی خاص نہ کر سکے، ہم نے یہ وضاحت اس لیے کی ہے کہ اہلِ سنت حضرات ان لوگوں کے ہاں لفظ سید کے عام استعمال سے کوئی لفظی امتیاز نا سمجھنے لگیں نہ انہیں اولادِ سیدہ فاطمہؓ میں سے جانیں،

اسلام اور شیعیت کے تقابلی مطالعہ میں جس طرح ہم نے اسلام کی یہ وضاحت کر دی یہ کہ دو سلسلے اسلام کی دو شاخیں نہیں بلکہ ہر دو فریق کے اپنے اپنے اسلام ہیں ہر دو فرقے ایک دوسرے سے اپنے اپنے علمی ماخذ میں جدا جدا ہیں انہیں دو برابر کے عقیدے کہا جا سکتا ہے ایک اصول کی دو فروع (شاخیں) نہیں کہا جا سکتا نہ ان کے اختلاف فروعی اختلاف ہے، اسی طرح ہم نے لفظ شیعیت کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ ہمارے ان مباحث میں اس سے مراد اثناء عشریہ شیعہ ہیں نہ اسماعیلی یا بوہرے، جن کے اپنے علیحدہ کوئی علمی ذخائر نہیں حاضر امام نے انہیں ہر فقہ اور ہر اجتہاد سے فارغ کر رکھا ہے۔

شیعہ کے علمی ذخائر میں دو گونہ(دُہری) روایات:

اثناء عشری شیعوں نے پوری دنیا کے علمی ذخائر سے ایک بڑا اختلاف کر رکھا ہے، دنیا کے ہر مذہب اور ہر تہذیب میں راستی کو ہی درست سمجھ گیا ہے، علم انسان کو اندھیرے سے نکالتا ہے، علم کا اپنا کوئی اندھیرا نہیں ہوتا، اثناء عشریوں نے اپنے علمی ذخائر میں علم کو اندھیروں سے ملایا ہے اور روایات صادقین (ائمہ اہلِ بیت) کو اندھیروں میں پرورش دی ہے، اس کے نتیجہ میں ان کے ہاں علم موجبِ رسوائی ٹھہرا اور انہوں نے علم کو چھپانے میں عزت محسوس کی، سیدنا جعفرؒ کے نام سے اپنے اصول یہ بات ڈالی:

یا سليمان انكم علیٰ دين من كتمه اعزّه الله ومن اذاعه اذلّہ الله (اصولِ کافی مع شرح: جلد، 3 صفحہ، 336)

 ترجمہ: اے سلیمان تم ایک ایسے دین پر ہو جو اسے چھپائے گا اللہ اسے عزت دے گا اور جو اسے عام کرے گا اللہ اسے ذلیل کرے گا۔

کیا یہ بات سیدنا جعفر صادقؒ نے فقہ جعفری ترتیب دینے کے لیے کہی کہ صحیح دین پیش نہ کیا جائے یا شیعہ مذہب کی یہ اساس شروع سے رہی ہے کہ ظاہر میں وہ دین پیش کرو جو تمہارا اصل دین نہ ہو؟ 

ملا یعقوب الکلینی نے سیدنا باقرؒ کے نام سے یہ روایت وضع کی:التّقیۃ من دينی و من دين اٰبائى ولا ايمان لمن لا تقية له۔

(اصولِ کافی مع شرح: صفحہ، 331)

ترجمہ: تقیہ کرنا میرا دین ہے، اور میرے آباء کا بھی یہی دین تھا اور جو تقیہ نہ کر پائے اس کا ایمان کیسے قابلِ اعتبار ہو سکتا ہے؟

تقیہ کب کیا جائے جب کسی جابر کے جبر کا ڈر ہو، کسی ظالم سے کوئی اندیشہ ہو؟ نہیں یہ ہمیشہ کے لیے واجب ہے اور اس وقت تک یہ حکم قائم رہے گا جب تک امام آخر الزمان کا ظہور نہیں ہو جاتا، شیخ صدوق اسے اپنے عقائد میں یہ جگہ دیتا ہے:

التقيه واجبه لا يجوز رفعها الى ان يخرج القائم فمن تركها قبل خروجه فقد خرج عن دين الله وعن دين الاماميه

ترجمہ: تقیہ واجباتِ دین میں سے ہے یہ حکم اس وقت تک نہیں اٹھ سکتا جب تک قائم آل محمد (امام مہدی) نہ نکلیں جس نے ان کے آنے سے پہلے تقیہ چھوڑ دیا وہ اللہ کے دین سے اور شیعہ مذہب سے نکل گیا۔ 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ تقیہ کو رخصت نہیں سمجھتے، اسے عزیمت کا درجہ دیتے ہیں، اسے ایک وقتی ضرورت نہیں سمجھتے، اسے تا ظہور قائم ایک مسلسل عمل قرار دیتے ہیں، ظاہر ہے کہ اب ان کا دینی لٹریچر تضادات کے ایک مجموعہ کے سوا اور کچھ نہ ہو سکے گا اور شیعہ مذہب شیعوں کو کتابوں سے نہیں ان کے زندہ مجتہدین سے ملے گا، وہ جس روایت کو چاہیں موقع کے مطابق ترجیح دے دیا کریں۔

کس کا یقین کیجئے کس کا یقین نہ کیجئے

لائے ہیں بزم یار سے لوگ خبر الگ الگ

اسی وجہ سے یہ اس عقیدہ پر مجبور ہوئے کہ فوت شدہ مجتہد علماء کی تقلید جائز نہیں، صرف زنده علماء کی تقلید کی جائے، نجف اشرف کے مجتہد ابو القاسم الموسوی الخوئی کے فتاویٰ منہاج الصالحین کے نام سے بیروت کے مطبع دار الزہراء سے چھپے ہیں، اس میں مسئلہ 12 اس طرح دیا گیا ہے:

اذا بقى على تقليد الميت غفلةً او مسامحۃً من دون ان يقلد الحی فی ذلك كان كمن عمل من غير تقليد و عليه الرجوع الى الحی فی ذلك (منہاج الصالحین: جلد، 1 صفحہ، 12 طبع، 22)

 ترجمہ: جب کوئی شخص غفلت اور سستی سے کسی فوت شدہ کی تقلید پر جما رہا اور اس نے کسی زندہ مجتہد کی تقلید نہ کی، وہ اس دور میں غیر مقلد رہا، اس کے ذمہ ہے کہ اب وہ کسی زندہ مجتہد کی طرف رجوع کرے۔

صفحہ 4 از 6