اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 6

اکابر ائمہ اہلِ سنت میں سب سے پہلے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (561ھ) ان کے مقابل پر تول کر نکلے اور غنیتہ الطالبین میں ان پر پوری جرح کی بھر شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) ابنِ مطہر الحلی (762ھ) کے مقابل صف آرا ہوئے اور منہج الکرامہ کے جواب میں منہاج السنہ چار جلدوں میں لکھی، ان دو کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ عربوں میں شیعہ عقائد کہیں بھی قبولیت نہ پا سکے وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ ایران میں انہوں نے تین چوتھائی حنفی مسلمانوں کو بزورِ حکومت اثناء عشری بنایا اور صفوی عہد میں ایران ایک شیعہ سٹیٹ بن کر سامنے آیا، پھر اثناء عشریوں اور ترکوں میں یہ معرکہ آرائی ہوئی لیکن عرب دنیا اس سے واقف ہو چکی تھی کہ سیدنا علیؓ سیدنا زین العابدینؒ سیدنا جعفرؒ سیدنا رضاؒ جو اہلِ سنت کی ممتاز شخصیات ہیں ان کے نام سے ایک نیا مذہب گھڑ لیا گیا ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں بادشاہ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں شیعیت لانے کی وجہ بنی اور اس نے قاضی نور اللہ شوشتری کو ہندوستان بلوایا سلسلہ چشتیہ کے روحانی بزرگ ان دنوں سر زمین ہند پر اپنی توجہات کا پہرہ دے رہے تھے شیخ سلیم فیضی کی نظر فیض اثر جہانگیر پر کام کر گئی اور اس نے برملا نور جہاں 

کو کہا کہ خانم ترا جان دادم ایمان نہ دادم

تاریخ اسلام کے دوسرے ہزار سال کا آغاز ہو چکا تھا، پاک و ہند کی علمی سرحدوں پر اس دور ہزار سال کے پہلے مجدد امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ پورے فاروقی جلال کے ساتھ چمکے اور اثناء عشریوں کے خلاف ردِ رفضہ لکھ کر اس برصغیر میں حق کی حجت تمام کی، پھر بارہویں صدی کے مجدد امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ گیارہویں صدی کے اس مجدد اعظم شیخ احمد سرہندیؒ (1034ھ) کے نقش قدم پر چلے اور حق و باطل کا یہ تصادم اب تک قائم ہے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

 یہاں اس وقت ان علمی معرکوں کا علمی تجزیہ پیشِ نظر نہیں نہ ان کی تاریخ بیان کرنا مقصود ہے، ہم یہاں صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ شیعیت کی جب کہیں کوئی علمی نمائندگی ہوئی وہ اثناء عشریوں نے ہی کی اور شیعوں کا کوئی اور فرقہ سوادِ اعظم کے مقابلے میں نہیں اٹھا، اسماعیلی ہوں یا بوہرے علمی میدان میں یہ ہمیشہ خاموش رہے ہیں اور ان کی طرف سے بد اخلاقی کے بھی کبھی وہ مظاہرے نہیں ہوئے جو اثناء عشریوں کے ہاں تبرا کے نام سے ایمان کی جان سمجھے جاتے ہیں۔

اثناء عشریوں کے ہاں کل عترت رسول اہل بیت نہیں:

جس طرح لفظ شیعیت کو واضح کرنے کی ضرورت تھی کہ اس سے مراد اثناء عشری شیعہ ہیں نہ کہ اسماعیلی یا بوہرے یا چھوٹے شیعہ، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ہم لفظ عترت کی بھی کچھ وضاحت کر دیں،اہلِ سنت کے ہاں آنحضرتﷺ کی کل اولاد عترتِ رسول ہے اور یہ سب واجب المحبت ہیں، ان سے محبت ان کے کسی کردار کے باعث نہیں محض خاندانی نسبت سے ہے، ان میں جو صالح عمل کے لوگ ہیں ان سے محبت اللہ کے لیے ہے اور جو گناہ گار ہیں ان سے محبت اور خیر خواہی نسبت رسالت کی وجہ سے ھے سونا گندے نالے میں بھی جا گرے تو وہ سونا ہی رہتا ھے محل نفرت نہیں ہو جاتا، سو اہلِ سنت کے ہاں کل سادات لائقِ احترام اور لائقِ محبت ہیں۔

شیعہ اپنے عقیدے میں اہلبیت رسالت کو ثقلین میں سے ثقل ثانی اور پوری امت کے لیے واجب التمسک قرار دیتے ہیں نہ کہ انہیں صرف لائق محبت جانتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ تمسک محدود شخصیات سے تو ہو سکتا ہے جن کی گنتی کی جا سکے نا کہ لا محدود شخصیات سے ان کی پیروی عقلاً اور نقلاً محال ٹھہرے گی خصوصاََ جبکہ وہ آپس میں بھی مختلف آراہوں اور ان کے نیک اور بد سبھی قسم کے لوگ پائے جائیں، اہلِ سنت کے ہاں یہ حدیث تھی کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں1: کتاب اللہ اور 2: اپنی سنت جب تک تم ان سے تمسک کرو گے گمراہ نہ ہو گے شیعوں نے اس کے مقابل اسے یوں پیش کیا کہ وہ دونوں چیزیں یہ ہیں 1: کتاب اللہ اور 2: میرے اہل بیت۔ اب ظاہر ہے کہ اہلِ بیت سے تمسک کی تعلیم دی جا رہی ہے اور ان کی پیروی لازم کی جا رہی ہے نہ کہ یہ ان سے موانست اور حسنِ سلوک کی تلقین ہے، واجب التمسک ہونا اور بات ہے اور لائق محبت ہونا اور بات ہے، اس صورت میں اثناء عشری مجبور ہوئے کہ سب سادات کو اھل بیت میں جگہ نہ دیں کیونکہ سادات تو قیامت تک ہوتے رہیں گے، اب ان سب کی پیروی کیسے کی جا سکے گی لہٰذا ان کو بارہ شخصیات میں محدود کر دیا جائے کہ یہی لائق تمسک ہیں اور یہی واجب الاطاعت، انہی کی زندگی تمہارے لیے سنت ہے اور یہی تمہارے ائمہ اطہار ہیں، اس توجیہ سے ان بارہ کی حیثیت سے تو واقعی بہت اونچی ہو گئی لیکن ان کے بعد آنے والے جملہ سادات کی حیثیت بہت کم ہو گئی انہیں اہلِ بیت سے ہی نکال دیا گیا اب ان کے ہاں عام سید اہلِ بیت سے نہیں۔

اہلِ بیت میں نہ ہونے پر کیا وہ سید رہے:

سیّد سردار کو کہتے ہیں سردار اس کو کہتے ہیں جس کا کسی حلقے میں حکم چلے یہ کیسے سیّد ہیں جن کو کسی حلقے میں بھی سردار نہ مانا جائے گاؤں کا نمبردار ہی گاؤں میں بڑا سمجھا جاتا ہے اور یہ نام کے سیّد اپنے گاؤں کے امور میں اس نمبردار کے ماتحت ہوں گے اور پھر یہ لوگ اعتقاداً بھی صرف بنو فاطمہ کو سیّد نہیں کہتے کل اولادِ ہاشم جن پر صدقہ حرام ہے انہیں بھی یہ سادات میں شمار کرتے ہیں گو وہ سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب کی اولاد میں سے ہوں یا سیدنا عباسؓ بن عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں نجف اشرف کے مجتہد ملا کاظم خراسانی کے فتاویٰ ذخیرۃ العباد کے نام سے جمع ہو چکے ہیں اور ان کا اردو میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے اس میں ہے:

سوال: آیا سادات میں شرط ہے کہ پیغمبر کے دادا حضرت ہاشم کی اولاد سے ہوں؟ 

جواب: شرط ہے اگرچہ حضرت امیر المؤمنین علیؓ بن ابی طالب کی اولاد سے نہ ہوں۔ 

اہلِ سنت کے ہاں بھی سیّد صرف بنو فاطمہ نہیں، مولانا کرامت علی اپنے رسالہ حق الیقین میں لکھتے ہیں کہ جملہ بنو ہاشم سیّد ہیں۔

اس کھانے کا کھانا محتاجوں کو درست ہے غنی لوگ اور بنو ہاشم یعنی سیّد کو درست نہیں (ذخیرہ کرامت: حصہ، 2 صفحہ، 266)

سید ہونا ایک وصفی عزت ہے یہ کوئی نسلی ملت نہیں:

صفحہ 3 از 6