اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 6

پھر عموم روایت میں یہ چھ ائمہ حدیث نمایاں ہوئے:

1: امام احمدؒ (241ھ)

2: امام دارمیؒ (255ھ)

3: امام طحاویؒ (328ھ)

4: امام طبرانیؒ (360ھ)

5: امام حاکمؒ (405ھ)

6: امام بیہقیؒ 458ھ)

شیعیت کے ماخذ علم:

اثناء عشری شیعوں کے ماخذ علم شروع سے ہی عام مسلمانوں سے جدا رہے ان کے ہاں طریق اھل بیت جن چار کتابوں سے قائم ہوا، انہیں اصولِ اربعہ کہتے ہیں ان کی ان چار کتابوں کا نام صحاحِ اربعہ نہیں اصولِ اربعہ ہیں، صحاح ستہ روایات کا مجموعہ ہیں اور کہیں کہیں ان میں فقہ بھی دی گئی ہے، مگر اہلِ سنت کے مذاہبِ اربعہ صحاح ستہ کے لکھے جانے سے پہلے مرتب ہو چکے تھے چوتھے مذہب کے امام احمد بن حنبلؒ (241ھ) صحاح ستہ کی پہلے امام بخاریؒ (265ھ) کے استاد تھے، اس لیے اہل سنت کے ہاں ان کتابوں کو اصول نہیں کہا گیا اصول مجہتدین کے بیان سے قائم ہوتے ہیں ان اماموں کے بیان سے نہیں جنہوں نے حدیث کی کتابیں مرتب کیں شیعہ کے ہاں امام آسمانی امامت کے حامل ہیں وہ کسی حدیث کی کتاب کی تصدیق کر دیں تو اب وہ کتاب صرف روایات کا مجموعہ نہ رہے گی اصول کے طور پر قبول کی جائے گی اور اس کے کسی راوی کے ضعف و ثقایت پر بحث نہ ہو گی یہی وجہ ہے کہ شیعہ اپنے حدیث کے ان چار مجموعوں کو اصولِ رابعہ کہتے ہیں یہ ان کے تین محمدوں کی تالیف ہیں ان میں پہلی کتاب کی تصدیق غیبت صغریٰ کے بعد بارہویں امام کر گئے بارہویں امام نے فرمایا، ھذا کاف لشیعتنا، یہ ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے۔

1: الکافی للکلینی (328ھ) یہ اصول کافی، فروع کافی اور روضہ کافی کا مجموعہ ہے اور آٹھ جلدوں میں ہے۔

2: من لا یحضرہ الفقیہ، لابن بابویہ القمی (371ھ)

3: تہذیب الاحکام، محمد بن حسن الطوسی (460ھ)

4:الاستبصار، محمد بن حسن الطوسی (460ھ)

دور اول میں ان کی یہی چار کتابیں اصول کے درجے میں معروف تھیں سولہویں صدی میں ایران پر صفوی خاندان کی حکومت قائم ہوئی اور پوری مملکتِ ایران کو ایک شیعہ سٹیٹ قرار دے دیا گیا پہلے ایران میں تین چوتھائی حنفی مسلمان تھے شیعہ اقلیت میں تھے اب پورے ملک کو بجبر شیعہ کر لیا گیا اور اہلِ سنت وہاں صرف 30 فیصد کے قریب رہ گئے۔

طہران یونیورسٹی کے پروفیسر سعید نفیسی لکھتے ہیں:

بادشاہانِ صفوی کی توجہ و عنایتی خاص بانتشار دین شیعہ واشتہ اند نظر باینکہ اکثریت مردم و ایران پیش ازاں حنفی بودہ اند عدہ کافی مبلغ و پیشوائی دینی برائے انتشار طریقہ شیعہ دزا ایران نیافتہ اند (تاریخچہ تکامل نثر فارسی)

شیعہ کے اس دور کے علماء حدیث:

محمد بن علی الموسوی، الموسوی (1009ھ) زین بحرانی (1021ھ)، محمد امین استر آبادی (1028ھ)، قاضی نوراللہ شوستری (1019ھ)، زین الدین عاملی (1030ھ)، محمد امین استر آبادی (1041ھ)، میر محمد باقر داماد (1041ھ)، ملا تقی مجلسی (1070ھ)، ملا محسن کاشانی (1090ھ)، ملا فیض الوافی (1091ھ)، محمد بن حسن الحر العاملی (1104ھ)، ملا باقر مجلسی ( 1110ھ)، ملا فیض کاشانی (1113ھ)، نعمت اللہ الجزائری (1114ھ)، رضا تبریزی ( 1158ھ) 

دوسرے شیعہ فرقوں کے ماخذ علم:

شیعہ کا سب سے بڑا فرقہ اثناء عشری شیعہ ہیں ان کا دوسرا بڑا فرقہ اسماعیلی ہے، یہ دو امام غائب اور امام حاضر کے پیروؤں کے طور پر ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے ہیں، اثناء عشری اور اسماعیلی سیدنا جعفر رحمۃ اللہ تک مشترک ہیں چھ اماموں تک یہ یکساں چلے ہیں، سیدنا جعفر رحمۃ اللہ نے اپنے بیٹے اسماعیل کو ساتواں امام نامزد کیا لیکن ساتواں امام چھٹے کی وفات سے پہلے راہی ملک بقا ہوا، اب چھٹے امام نے اپنے دوسرے بیٹے موسیٰ کاظم کو جانشین نامزد کیا اور سیدنا موسیٰ کاظمؒ سے اثناء عشری سلسلہ چلا اور اسماعیل کو ساتواں امام ماننے والے یہ تسلیم نہیں کرتے کہ سیدنا جعفر رحمۃ اللہ نے موسیٰ کاظم کو جانشین مقرر کیا ہو وہ کہتے ہیں خدائی نظام میں غلطی نہیں لگتی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا کو آسمانی امامت کی ترتیب میں اتنی بڑی غلطی لگے، اسماعیلی سیدنا اسماعیل کے نام سے اب تک امام حاضر کے عقیدہ سے چل رہے ہیں اور اس وقت آغا خان ان کے حاضر امام ہیں، جب یہ امام حاضر کے قائل ہیں تو ظاہر ہے کہ انہیں کسی حدیث کی کتاب کی ضرورت نہیں، نہ یہ ضرورت ہے کہ ان میں کوئی مسائل اجتہاد سے حل کیے جائیں عقیدہ اور اس کی جو بات یہ جاننا چاہیں ان کا حاضر امام ان کی رہنمائی کرتا ہے قرآن ان کے ہاں بھی کتابِ صامت ہے اور حاضر امام اس کی طرف سے بولتا ہے یہ نہ کسی امام غار کے انتظار میں ہیں اور نہ یہ کسی ایسے قرآن کے قائل ہیں جو کسی غار میں محفوظ دھرا ہو، ان کا دین و ایمان اپنے امام حاضر کے نام سے قائم ہے، سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ تک یہ دونوں ایک رہے اس لیے فقہ جعفری پر دونوں متفق ہیں، اثناء عشریوں کے ہاں فقہ جعفری کتابوں میں منضبط ہے اور اسماعیلیوں کے ہاں یہ امام حاضر کے قول و فعل میں جذب ہے اسے ہی یہ لوگ فقہ جعفری کہتے ہیں۔

اہل سنت کے مقابل صرف اثناء عشری رہے:

اہلِ سنت کے مقابل علمی میدان میں صرف اثناء عشری رہے ہیں اور انہی سے ان کے عملی معرکے لگے یہی دو کتابوں والے گروہ ہیں جن کی اپنی اپنی کتابیں ہیں، اہلسنت کے ہاں اثناء عشریوں کی تمام کتابیں وضعی ہیں اور شیعہ (اثناء عشریہ) کے ہاں اہل سنت کی کتابیں اثناء عشری فرقہ قائم ہونے سے بہت پہلے مرتب ہو چکی تھیں، ان کے گیارہویں امام (260ھ) میں فوت ہوئے اور اہلِ سنت کے امام بخاریؒ (256ھ) میں فوت ہوئے، ایران کے شیعہ زیادہ اثناء عشری عقیدہ کے ہیں اور عراق میں بھی ان کی علمی درسگاہیں ہیں ان کا قم کا مدرسہ بھی یہیں ہے اور کربلا بھی یہیں ہے جس کے زائرین کربلائی کہلاتے ہیں نجف اشرف بھی یہیں ہے جہاں ان کے ہاں سیدنا علی المرتضیٰؓ مدفون ہیں،

صفحہ 2 از 6