اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 6

اسلام اور شیعیت کا تقابلی مطالعہ

الحمدللہ و سلام و علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ اما بعد:

شیعیت اسلام کی شاخ کے طور پر نہیں اس کے مقابل ایک تحریک ہے کسی مذہب کی برانچیں اس کی فروع ہوتی ہیں ان کے اپنے اپنے اصول نہیں ہوتے جیسے حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی اسلام کی فروغ ہیں اصول و عقائد میں یہ چاروں مذاہب ایک ہیں، یہ چار طریقے ہیں چار فرقے نہیں ہے اختلاف ان فروغ کے شیعیت اسلام کے ایک بالکل برابر کی آواز ہے جس طرح اسلام کے تین اصول ہیں:

  1. توحید 
  2. رسالت 
  3. آخرت

(حاشیہ: آپﷺ کے پاس ایک عورت آئی کہ اس کی ماں نے ایک مسلمان لونڈی آزاد کرنی تھی مگر وہ چل بسی اب کیا میں اپنی ماں کی طرف سے اس باندی (ایک سیاہ رنگ کی عورت اس کے ساتھ تھی) کو آزاد کر سکتی ہوں حضور اکرمﷺ نے اس سیاہ رنگ عورت سے تین سوال کیے:

 اتشهدین اَنْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ، کیا گواہی دیتی ہے کہ خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،

اتشہدین ان مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ، کیا تو گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟

أتوقنين بالبعث بعد الموت، کیا تو یقین رکھتی ہے کہ مرنے کے بعد پھر سے جی اٹھنا ہے؟ اس نے تینوں کا جواب ہاں میں دیا، آپﷺ نے اسے اجازت دی کہ وہ اپنی والدہ مرحومہ کی طرف سے اس لونڈی کو آزاد کر سکتی ہے (دیکھیے سنن کبریٰ للبیہقی: جلد، 7 صفحہ، 388) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں اصولِ دین تین ہیں،1: توحید 2: رسالت اور 3: آخرت انہی کے اقرار سے کوئی شخص مومن اور مسلمان سمجھا جاتا ہے)

شیعیت کے اصولِ دین پانچ ہیں:

  1. توحید
  2. عدل
  3.  رسالت
  4.  امامت
  5.  آخرت

توحید کے ساتھ انہوں نے عدل رکھا اور ذات واجب پر عدل واجب کیا رسالت کے مقابل وہ امامت لائے اور اسے نبوت کی طرح ایک آسمانی عہدہ کہا اور آخرت کے ساتھ انہوں نے رجعت کو جوڑا، تاہم رجعت کو وہ عقائد میں لائے، اصولِ دین ان کے ہاں پنجتن کی طرح پانچ ہی رہے سو شیعیت اسلام کے ماتحت نہیں اس کے مقابل کی ایک الگ تحریک ہے جس کے اپنے اصول ہیں سو شیعہ کے عام مسلمانوں سے اختلافات فروعی نہیں اصولی ہیں۔ 

اسلام اور شیعیت کے اپنے اپنے ماخذ علم:

اسلام میں کسی عقیدے یا مسٸلے کے اثبات کے لیے 1: قرآن کریم 2: سنت 3: اجماعِ امت 4: قیاس مجتہد سے دلیل لائی جاتی ہے، اجماع اور اجتہاد (3 اور 4) کی ضرورت اس لیے ہوئی کہ آنحضرتﷺ کی وفات بعد کوئی اور مامور من اللہ نہیں تھا جس کی رہنمائی میں امت چل سکے اجتہاد سے آنے والا مجتہد اختلاف کر سکتا ہے اگر اس کا اپنا اجتہاد ہو لیکن وہ (آنے والا مجتہد) اجماع سے اختلاف نہیں کر سکتا اسے پہلے اجماع کو تسلیم کرنا ہی ہو گا کوںٔی اجتہاد اجماع کے خلاف نہیں کیا جا سکتا، جس طرح حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ کے مسئلہ طلاق میں اجتہاد ائمہ اربعہ کے اجماع کو نہیں توڑ سکا سب اہلِ سنت ایک ہی مؤقف پر رہے کسی نے بھی ابنِ تیمیہؒ کی تقلید نہ کی۔ 

شیعہ کے ہاں آسمانی ہدایت امامت کے نام سے باقی ہے، اس لیے انہیں نہ اجماع کی ضرورت ہے نہ اجتہاد کی، ان کے لیے نص کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، ان کے لیے دین، توحید و رسالت اور اتباع اہلِ بیت ہی کا نام ہے، دونوں کے ہاں اپنی اپنی روایات ہیں، ان روایات سے دونوں کے اپنے اپنے ماخذ علم کا پتہ چل جاتا ہے۔

اہلِ سنت کا دوسرا ماخذ علم:

امام مالک رحمۃ اللہ اپنی موطا میں روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے کتاب اللہ کے بعد سنت سے تمسک کی تعلیم دی ہے:

عن مالك انه بلغه ان رسول اللهﷺ قال تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم به‍ما كتاب الله و سنت رسوله۔

(موطا امام مالکؒ: صفحہ، 63 عربی)

ترجمہ: امام مالکؒ کو حضورﷺ سے یہ بات پہنچی آپ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان سے تمسک کرو گے گمراہ نا ہو گے 1: کتاب اللہ 2: آپﷺ کی سنت

شیعیت کا دوسرا ماخذ علم:

 نصر بن عبد الرحمٰن الکوفی زید بن حسن الکوفی صاحب الانماط سے روایت کرتا ہے کہ حضورﷺ نے کتاب کے بعد دوسرا ماخذ علم اپنی عترت کو ٹھہرایا:

انی تركت فيكم من ان اخذتم به لن تضلوا كتاب الله و عترتی۔ 

(روی الترمذی عن نضر بن عبد الرحمٰن الکوفی: جلد، 2

صفحہ، 219)

ترجمہ: میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑیں، اللہ کی کتاب اور اپنے اہلِ بیت

حافظ ابنِ حجرؒ زید بن حسن کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

روی له الترمذی حديثاً واحداً فی الحج۔

(لسان المیزان: جلد، 3 صفحہ، 406)

معلوم نہیں یہ اس کی دوسری روایت جامع الترمذی میں کیسے آ گئی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی روایت ہو 

جمہور مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہے کہ قرآن کتاب ناطق ہے اس کا بعض دوسرے بعض کی تفسیر کر دیتا ہے، اور اس کی عملی شکل سنت سے معلوم ہو جاتی ہے، سنت سبیلِ رسول اور سبیل مؤمنین دونوں کا نام ہے جن کا خلاف شقاقِ رسول سمجھا گیا ہے، جمہور اہلِ اسلام کے ہاں یہ کتاب (قرآن) کتاب ناطق ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: 

لكل اية منه‍ا ظھر و بطن ولكل حد مطلع۔ (رواه البغوى فى الشرح السنۃ) 

ترجمہ: اور شیعہ کے عقیدے میں ہے کہ یہ قرآن ایک کتاب صامت ہے یہ ایک خاموش کتاب ہے اس کی طرف سے اہل بیت بولتے ہیں اور ان کے بول سے دین متعین ہوتا ہے سب ائمہ ایک ہی چشمہ سے بولتے ہیں اور کسی امام کی بات کی علی التعین ضروری نہیں جس کی بھی بات ہو وہ عین دین سے ہے، حکم امام ہے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نام سے یہ بات وضع کی ہے۔

صامت کا ایک یہ بھی معنی ہو سکتا ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں کوئی خاموش بیٹھا ہوا ہو اور امام غائب کی طرف سے آئے سفراء اس کی طرف سے بولتے رہیں شیعہ کے ہاں اسی سے راہِ اہل بیت قائم ہوتی ہے۔ 

جمہور اہلِ اسلام کے ماخذ علم:

جمہور مسلمانوں کے ماخذ علم پہلے دور میں یہ سمجھے جاتے ہیں:

1: موطا امام مالکؒ (179ھ)

2: موطا امام محمدؒ (189ھ)

3: کتاب الآثار امام محمدؒ

4: کتاب الام امام شافعیؒ (204ھ)

5: المصنف عبد الرزاقؒ (210ھ)

6: المصنف ابنِ ابی شیبہؒ (235ھ)

پھر علمِ حدیث باقاعدہ مرتب ہوا اور اس نے ایک فن کی شکل پائی اس دور کی یہ چھ کتابیں صحاح ستہ کہلائیں:

1: صحیح بخاری (256ھ)

2: صحیح مسلم (261ھ)

3: سنن ابی داؤد (275ھ)

4: سنن نسائی ( 303ھ)

5: جامع ترمذی (379ھ)

6: سنن ابنِ ماجہ (275ھ)

صفحہ 1 از 6