ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت |…

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3
حبشہ میں دونوں میاں بیوی خوشی کی زندگی بسر کر رہے تھے، ایک رات سیدہ اُم حبیبہؓ کو ایک خواب آیا، کیا دیکھتی ہیں کہ ان کے خاوند عبیداللہ بن جحش کا چہرہ بری طرح مسخ ہوچکا ہے۔ جب بیدار ہوئیں تو بہت پریشان ہوئیں۔ لیکن اس وقت اس خواب کا تذکرہ کسی سے نہیں کیا۔
حالتِ ارتداد میں موت: 
کچھ عرصہ گزرنے کے بعد سیدہ امِ حبیبہؓ کے شوہر عبیداللہ بن جحش نے آپؓ سے کہا کہ میں پہلے عیسائی تھا، پھر اسلام قبول کیا لیکن اب پھر میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ نصرانیت ہی دینِ حق ہے اس لیے میں دوبارہ عیسائی ہو رہا ہوں۔ بلکہ میں تمہیں بھی یہی مشورہ دوں گا کہ تم بھی عیسائیت قبول کرلو۔ یہی ہمارے لئے بہتر ہے۔ سیدہ امِ حبیبہؓ نے اپنے خاوند کو اپنا خواب سنایا کہ شاید وہ اس کو سن کر اپنے فیصلے سے باز رہیں۔ لیکن اس خواب کا عبیداللہ پر کچھ اثر نہ ہوا، عیسائی ہو گئے اور شراب پینا شروع کر دی۔ ہر وقت شراب پیتے رہتے۔ اسی شراب نوشی کی کثرت کی وجہ سے حالتِ ارتداد اسلام قبول کرنے کے بعد پھر اسلام کو چھوڑ دینا "ارتداد" کہلاتا ہے پر عبیداللہ بن جحش کی وفات ہوئی۔
پریشانی کے ایام:
اپنے وطن سے دوری، شوہر کے مرتد ہونے اور ان کی وفات یہ سب سانحات ایسے تھے جن سے سیدہ امِ حبیبہؓ کو سخت صدمات پہنچے۔ لیکن اس کے باوجود صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ اللہ کی عبادت میں اور زیادہ مصروف ہو گئیں۔ حبشہ میں ہجرت کر کے تشریف لانے والی خواتین بالخصوص سیدہ امِ سلمہؓ، سیدہ رقیہؓ، سیدہ لیلیٰؓ اور سیدہ اسماءؓ آپؓ کو دلاسہ دیتی رہیں۔
امِ حبیبہؓ ام المومنین بنتی ہیں:
سیدہ امِ حبیبہؓ کے شوہر کے مرتد ہو کر فوت ہونے کی خبر نبی کریمﷺ کو ہوئی تو آپﷺ کو بہت صدمہ ہوا، سیدہ امِ حبیبہؓ کی دلجوئی کے لیے آپﷺ نے سیدنا عَمْرو بن امیہ ضُمَرِیؓ کو بادشاہِ حبشہ نجاشی کے پاس بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ آپ سیدہ امِ حبیبہؓ سے برضاء و رغبت معلوم کر کے ان کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔
نجاشی نے سیدہ امِ حبیبہؓ کے پاس پیغام بھیجا۔ سیدہ امِ حبیبہؓ کو اپنے سب دکھ بھول گئے آپ نے رضامندی کا اظہار فرمایا اور پیغام لانے والی باندی کو اپنے کنگن، انگوٹھیاں اور زیور اتار کر ہدیہ کر دیا اور سیدنا خالد بن سعید بن ابی العاصؓ کو اپنے نکاح کا وکیل بنا کر نجاشی کے پاس بھیجا۔
نجاشی نے اپنے شاہی محل میں نکاح کی مجلس منعقد کی اور سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں سیدہ امِ حبیبہؓ کا نکاح رسول اللہﷺ سے کر دیا اور 4000 درہم حق مہر رسول اللہﷺ کی طرف سے خود ادا کیا، یہ رقم سیدہ امِ حبیبہؓ کے وکیل نکاح سیدنا خالد بن سعیدؓ کے سپرد کی گئی۔
آپؓ نے اس رقم میں سے کچھ اس باندی کو دی جس نے نکاح کی خوشخبری سنائی تھی، لیکن اس باندی نے رقم اور دیگر زیورات وغیرہ آپؓ کو واپس کر دیے جو کل اس باندی نے لیے تھا اور کہنے لگی کہ بادشاہ سلامت کا یہی حکم ہے، خود نجاشی نے اس خوشی میں سیدہ امِ حبیبہؓ کو بیش قیمت تحائف اور قیمتی خوشبوئیں ہدیہ کے طور پر بھیجیں۔
اسی مجلس میں نکاح کی تقریب میں شرکت کرنے والوں کو کھانا بھی کھلایا گیا۔ اس کے بعد سیدہ امِ حبیبہؓ کو سیدنا شرحبیل بن حسنہؓ کے ساتھ بحری جہاز میں خیبر کے راستے مدینہ منورہ روانہ کر دیا۔ آپؓ مدینہ منورہ تشریف لائیں اور نبی کریمﷺ کی زوجہ مطہرہ بن کر امُ المؤمنین کے معزز اعزاز سے سرفراز ہو گئیں۔
مبارک خواب کی تعبیر:
آپؓ نے کافی عرصہ پہلے ایک خواب دیکھا تھا، آپؓ فرماتی ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص مجھے "یا اُم المؤمنین" کہہ کر مخاطب کر رہا ہے میرے دل میں آیا اور میں نے از خود اس مبارک خواب کی تعبیر یہی سمجھی کہ رسول اللہﷺ مجھے نکاح میں لائیں گے۔ جب آپﷺ سے آپؓ کا نکاح ہو گیا تو آپؓ کے خواب کی تعبیر پوری ہو گئی۔
بسترِ رسولﷺ کی حرمت:
سیدہ امِ حبیبہؓ کو نبی کریمﷺ سے بے حد عقیدت و محبت تھی۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ کہ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل (مومن نہیں ہو سکتا جب تک میری محبت اسے اپنی اولاد، اپنے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو ایک بار سیدہ امِ حبیبہؓ کے والد ابوسفیانؓ) جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مدینہ منورہ آئے اور اپنی بیٹی سیدہ امِ حبیبہؓ کے گھر پہنچے، اور آ کر آپﷺ کے بستر پر بیٹھ گئے۔ سیدہ اُم حبیبہؓ فوراً اٹھی اور والد کو ادب سے عرض کی کہ آپ اس بستر سے اٹھ جائیں۔ یہ پاک بستر نبی پاکﷺ کا ہے اور آپ ابھی تک شرک سے پاک نہیں ہوئے۔
اتباعِ شریعت:
دینِ اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں زندگی کے ہر موڑ کی رہنمائی موجود ہے، خوشیاں کیسے منانی ہیں اور غم و مصیبت میں کیا کرنا ہے؟ چنانچہ جب کوئی فوت ہو جائے تو سوگ کتنے دن کیا جائے؟ ایسے حالات میں شریعت کے حکم کی اتباع کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، سیدہ امِ حبیبہؓ کے مزاج میں شریعت کی اتباع رچ بس چکی تھی۔ چنانچہ سیدہ زینبؓ بیان کرتی ہیں میں امُ المؤمنین سیدہ امِ حبیبہؓ کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد سیدنا ابوسفیانؓ کا انتقال ہوا تھا۔
سیدہ امِ حبیبہؓ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی اور امُ المؤمنین نے خود اپنے رخساروں پر اسے لگایا۔ اس کے بعد فرمایا واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے، سوائے شوہر کے (کہ اس کا سوگ) چار مہینے دس دن کا ہے۔
نوٹ: عدت کا شرعی حکم ہم پہلے لکھ چکے ہیں، وہاں دیکھ لیا جائے۔
ذوقِ عبادت:
آپؓ نہایت عبادت گزار خاتون تھیں، ہر وقت ذکرِ الہٰی میں مشغول رہتیں فرائض و واجبات کی ادائیگی کے تو کیا کہنے آپؓ نفلی عبادات بھی بہت زیادہ کرتیں۔ ایک بار آپﷺ نے فرمایا جو شخص 12 رکعات نفل روزانہ پڑھے گا اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ جب آپؓ نے یہ سنا تو اس وقت سے لے کر آخر عمر تک کبھی بھی ان کا ناغہ نہیں کیا۔
فکرِ آخرت:
صفحہ 2 از 3