مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 9 از 33

هذا عِلم كبير قد ألّف الناس فيه كتبا كثيرة ومن أجلّها وأكثرها فوائد ”كتاب الاستيعاب“ لابن عبدالبر لو لا ما شانه به من ایراده كثيرًا مما شجر بين الصحابة وحكاياته عن الاخباريين لا المحدّثين وغالب على الاخباريين الإكثار والتخليط فيما يروونه.

(علومِ الحديث: صفحہ 262، طبع المدينۃ المنورہ) ترجمہ: معرفتِ صحابہؓ ایک بڑا علم ہے جس میں لوگوں نے بہت بہت تصانیف لکھی ہیں اور ان میں سب سے افضل و اعلیٰ اور سب سے زیادہ مفید کتاب ”الاستیعاب“ ہے ابنِ عبدالبرؒ کی، اگر اس کو یہ بات عیب دار نہ کر دیتی کہ اس میں مشاجراتِ صحابہؓ کے متعلق تاریخی روایات کو درج کر دیا ہے، محدثین کی محدثانہ روایت پر مدار نہیں رکھا اور یہ ظاہر ہے کہ مؤرخین پر غلبہ اس کا ہے کہ بہت روایات جمع کر دی جائیں، جن کی روایت میں معتبر و غیر معتبر روایات خلط ملط ہوتی ہیں۔

اسی طرح علامہ سیوطیؒ نے تدریب الراوی میں علمِ معرفتِ صحابہؓ پر کلام کرتے ہوئے ابنِ عبد البرؒ کی استیعاب کا ذکر تقریباً انہیں الفاظ میں کیا ہے جو ابنِ صلاحؒ کے اُصولِ حدیث سے اوپر نقل کئے گئے ہیں، جس میں مشاجراتِ صحابہؓ کی بحث میں تاریخی روایات کے داخل کر دینے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ (تدریب الراوی: صفحہ 295) دوسرے محدثین نے ”فتح المغیث“ وغیرہ میں ابنِ عبدالبرؒ کے اس طرزِ عمل پر رد کیا ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ کا مسئلہ جو عقیدے کا مسئلہ ہے اس میں تاریخی روایات کو کیوں داخل کیا۔

وجہ یہ ہے کہ ابنِ عبدالبرؒ کی کتاب "الاستیعاب“ کوئی عام تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ علمِ معرفتِ صحابہؓ کی کتاب ہے، جو فنِ حدیث کا جزء ہے، اگر ابنِ عبدالبرؒ نے بھی عام تاریخ پر کوئی کتاب لکھی ہوتی اور اس میں یہ غیر مستند تاریخی روایات لکھتے تو غالباً کسی کو اعتراض نہ ہوتا، جیسا ابنِ جریرؒ، ابنِ کثیرؒ وغیرہ ائمہ حدیث کی تاریخی کتابوں پر کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا۔

*صحابہ کرامؓ کی چند خصوصیات*

سابقہ تحریر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ صحابہ کرامؓ جس مقدس گروہ کا نام ہے وہ امت کے عام افراد و رِجال کی طرح نہیں، وہ رسول اللہﷺ اور اُمت کے درمیان ایک مقدس واسطہ ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام اور عام اُمت سے امتیاز رکھتے ہیں۔ یہ مقام و امتیاز ان کو قرآن و سنت کی نصوص و تصریحات کا عطا کیا ہوا ہے اور اسی لیے اس پر امت کا اجماع ہے۔ اس کو تاریخ کی صحیح و سقیم روایات کے انبار میں گم نہیں کیا جاسکتا، اگر کوئی روایت ذخیرہ حدیث میں بھی ان کے اس مقام اور شان کو مجروح کرتی ہو تو وہ بھی قرآن و سنت کی نصوصِ صریحہ اور اجماعِ امت کے مقابلے میں متروک ہوگی، تاریخی روایات کا تو کہنا کیا ہے۔

نصوصِ قرآنِ کریم

1: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ (سورۃالعمران آیت: 110)

ترجمہ: تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے (نفع اور اصلاح) کے لیے پیدا کی گئی ہے۔

2: وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ 

(سورۃالبقرہ آیت: 143)

ترجمہ: اور ہم نے تم کو ایک ایسی جماعت بنا دیا ہے جو (ہر پہلو سے) نہایت اعتدال پر ہے تا کہ تم (مخالف) لوگوں کے مقابلے میں گواہ ہو۔

ان دونوں آیتوں کے اصل مخاطب اور پہلے مصداق صحابہ کرامؓ ہیں، باقی امت بھی اپنے اپنے عمل کے مطابق اس میں داخل ہوسکتی ہے لیکن صحابہ کرامؓ کا ان دونوں آیتوں کا صحیح مصداق ہونا باتفاقِ مفسرین او محدثین ثابت ہے، ان میں صحابہ کرامؓ کا نبی کریمﷺ کے بعد تمام انسانوں سے افضل و اعلیٰ اور عدل و ثقہ ہونا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔

ذکرہ ابن عبدالبرؒ في مقدمۃ الاستيعاب اور علامہ سفارینیؒ نے شرح ”عقيدة الدرة المضيۃ“ میں اس کو جمہور اُمت کا مسلک قرار دیا ہے کہ انبیاءؑ کے بعد صحابہ کرامؓ افضل الخلائق ہیں۔

ابراہیم بن سعید جوہریؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہؒ سے دریافت کیا کہ حضرت معاویہؓ اور عمر بن عبدالعزیزؒ ان دونوں میں سے کون افضل ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:

لا تعدل بأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أحداً (الروضة الندية شرح العقيدة الواسطيۃ لابن تيميہؒ: صفحہ 405)

یعنی ہم اصحابِ محمدﷺ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، افضل ہونا کجا۔

 3: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ (سورۃالفتح آیت: 29)

ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں، اے مخاطب! تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں اور کبھی سجدہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں، ان کے آثار بوجہ تأثیرِ سجدہ ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

عامہ مفسرین امام قرطبیؒ وغیرہ نے فرمایا کہ”وَالَّذِيْنَ مَعَهُ“ عام ہے، اس میں تمام صحابہ کرامؓ کی پوری جماعت داخل ہے اور اس میں تمام صحابہ کرامؓ کی تعدیل، ان کا تزکیہ اور ان پر مدح و ثناء خود مالکِ کائنات کی طرف سے آئی ہے۔

ابوعروہ زبیریؒ کہتے ہیں کہ: ہم ایک روز حضرت امام مالکؒ کی مجلس میں تھے، لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو بعض صحابہ کرامؓ کو بُرا کہتا تھا، امام مالکؒ نے یہ آیت ”لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّار“ تک تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا کہ: جس شخص کے دل میں رسول اللہﷺ کے صحابہؓ میں سے کسی کے متعلق غیظ ہو وہ اس آیت کی زد میں ہے، یعنی اس کا ایمان خطرے میں ہے کیونکہ آیت میں کسی صحابی سے غیظ کفار کی علامت قرار دی گئی ہے۔

وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا مَعَهُ میں تمام صحابہ کرامؓ کی جماعت بلا کسی استثناء کے داخل ہے۔

4: يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ ( سورۃ التحریم:آیت 8)

ترجمہ: جس دن کہ اللہ تعالیٰ نبی(ﷺ) کو اور جو مسلمان(دین کی رو سے) ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔

صفحہ 9 از 33