دسویں فصل: شیعہ کی وضع کردہ احادیث؛ خطیب خوارزمی کی روایت -…

دسویں فصل: شیعہ کی وضع کردہ احادیث؛ خطیب خوارزمی کی روایت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

مذکورہ بالا احادیث صحیح ہیں ‘ جو ظاہری و باطنی طور پر حضرت علیؓ کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں ۔ان میں نواصب پر ردّ ہے ؛ اگرچہ ان دلائل کا شمار آپ کے خصائص میں نہیں ہوتا؛ یہ احادیث ویسے ہی ہیں جیساکہ اہل بدر اور اہل بیعت رضوان کے ایمان پر دلالت کرنے والی نصوص ظاہر و باطن میں ان کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں ۔اس میں اختلاف کرنے والے دونوں گروہوں خوارج اور روافض پر رد موجود ہے۔اگرچہ ان میں سے کسی بھی روایت سے آپ کے خصائص پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ کسی معین شخص کے بارے میں نبیﷺ  شہادت دیں ؛ یا اس کے لیے دعا کریں ‘ تو بہت سارے لوگ چاہتے ہیں کہ اس کے لیے بھی ایسی ہی گواہی دی جاتی؛ یا پھر اس کے لیے بھی ایسی ہی دعا کی جاتی۔اگرچہ نبی کریمﷺ  نے بہت سارے لوگوں کے حق میں ایسی گواہی دی ہے‘ اور بہت سارے لوگوں کے لیے ایسی دعائیں بھی کی ہیں ۔مگر خاص طور پر کسی کے لیے ایسی دعاکرنا اس کے عظیم ترین فضائل و مناقب میں سے ہے۔ یہ ایسے ہی جیسے رسول اللہﷺ  نے حضرت شماس بن قیسؓ اور حضرت عبد اللہ بن سلامؓ اور دوسرے لوگوں کے لیے جنتی ہونے کی بشارت دی تھی۔[مسلِم:1؍110کتاب الإِیمانِ باب مخافۃِ المؤمِنِ أن یحبط عملہ، أن ثابِت بن قیس رضِی اللہ عنہ لما نزل قولہ تعالیٰ:﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ النبِیِ﴾ [ الحجراتِ: 2]حزِن واحتبس عنِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وقال کلاما، آخِرہ: فأنا مِن أہلِ النارِ، فذکر ذلکِ سعد بن معاذ لِلنبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : بل ہو مِن أہلِ الجنۃِ، والحدِیث فِی المسندِ ط۔ الحلبِیِ: 3؍137، وفضائل عبداللّٰہ بن السلام رضی اللّٰہ عنہ روی البخارِی:5؍37، کتاب مناقِبِ الأنصارِ، باب مناقِبِ عبدِ اللّٰہِ بنِ سلام رضِی اللّٰہ عنہ، ومسلِم: 4؍1930کتاب فضائل الصحابۃ، باب: مِن فضائِلِ عبدِ اللّٰہِ بنِ سلام رضِی اللّٰہ عنہ۔]آپ نے ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی جنت کی بشارت دی ہے۔اور جیسے کہ صحابی عبد اللہ الحمارؓ کے لیے رسول اللہﷺ نے گواہی دی تھی کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ  سے محبت کرتا ہے ؛ حالانکہ اسے شراب نوشی پر مار پڑ رہی تھی۔ اگرچہ آپ نے اس قسم کی گواہی ان لوگوں کے لیے بھی دی ہے جو اس صحابی سے افضل تھے۔ جیسا کہ آپ نے بنو عمرو بن تغلب کے بارے میں فرمایا کہ: انہیں نہ دینے کی وجہ ان کے دلوں میں بے نیازی اور خیر کی موجودگی ہے۔ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

’’ میں کسی کو دیتا ہوں اور کسی کو نہیں دیتا ہوں ۔ اور جسے میں نہیں دیتا ہوں وہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، جسے میں دیتا ہوں ۔ لیکن میں ان لوگوں کو دیتا ہوں ، جن کے دلوں میں بے چینی اور گھبراہٹ دیکھتا ہوں ۔ اور جنہیں میں نہیں دیتا ہوں ان لوگوں کو میں اس تونگری اور بھلائی کے حوالہ کر دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے۔ اور انہی میں سے عمرو بن تغلب بھی ہے۔‘‘ [صحیح بخاری:ح88]

حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے ایک شخص کا جنازہ پڑھتے ہوئے جب یہ دعا فرمائی:

((اللہم اغفِر لہ وارحمہ وعافِہِ واعف عنہ وأکرِم نزلہ ووسِع مدخلہ واغسِلہ بِالمائِ والثلجِ والبردِ؛ ونقِہِ مِن الخطایا کما ینقی الثوب البیض مِن الدنسِ وأبدِلہ دارا خیرا مِن دارِہِ وأہلا خیرا مِن أہلِہِ وقہ من فتنۃ القبرعذابِ القبرِ و أفسح لہ في قبرہ ونوّر لہ فیہ۔))

’’ یا اللہ اس کو بخش اور رحم کر اور اسے عافیت عطا فرما اور اسے معاف فرما اور اس کے اترنے کی جگہ کو کرم والی بنادے اور اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے پانی برف اور اولوں سے دھو دے اور اسکے گناہوں کو اس طرح صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے اور اسے اس کے گھر کے بدلے بہتر گھر عطا فرما؛ اور اسے قبر کے فتنہ سے نجات دے ؛ عذاب قبر سے بچا ؛ اور اس کی قبر کو وسیع کردے؛ اور اس کی قبر کو روشن کردے ۔‘‘

تو عوف بن مالکؓ  کہہ اٹھے:’’ اے کاش! اس میت کی جگہ میں ہوتا۔[صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمیت فی الصلاۃ (حدیث:963)۔1]



صفحہ 5 از 5